بھارتی انتہا پسندی اور قتل وغارت

muhammad attique
بھارت میں انتہاپسندی اور دہشت گردی اپنے عروج پر ہے ۔قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک ہندوپاکستان کو کسی بھی طرح سے قبول کرنے کوتیار نہیں۔بھارت جہاں پاکستان میں دہشت گردانہ کاروائیوں اور بم دھماکوں میں ملوث ہے وہیں ہندوؤں کی دہشت گرد تنظیمیں اپنے ہی ملک بھارت میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہیں اور ان کو مدد بھی سیاسی وفوجی گماشتے کرتے ہیں۔ بی جے پی(بھارتیہ جنتہ پارٹی ) کی تاریخ اٹھا کردیکھ لیں کہ بی جے پی کا کیسا کردار تھا ،یہ کن لوگوں کی جماعت ہے اور یہ سیاسی حمایت کس قسم کی جماعتوں کی کرتی ہے ۔ممبئی حملہ ،سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس ،مالیگاؤں دھماکے اور اس طرح کی جتنی بھی کاروائیاں ہیں ان سب کے پیچھے انہیں ہندودہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ ہیں اور ان کی معاونت کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ اندرونی ہاتھ ہیں ۔بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے ،پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالے رکھنے اور بھارت کو ہندودیش بنانے کے لئے اس طرح کی کاروائیاں’ جن میں بھارتی لوگ مارے جائیں ‘بے حد ضرور ی ہیں ۔اس بات کی شہادت جنوری 2013کے وقت بھارتی وزیرداخلہ سشیل کمارشندے کے کانگریس کے ایک اجلاس میں دئیے گئے بیان سے واضح ہوجاتی ہے جس میں انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کوہندودہشت گردی میں ملوث قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایاتھا ۔جس پر بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے ان کی برطرفی کے لئے تحریک چلاتے ہوئے کہاتھا کہ اگر شندے کو نہ ہٹایاگیا تو پارلیمان کا اجلاس نہیں چلنے دیاجائے گا۔
بھارت میں دہشت گردی کا نشانہ بننے کے بعد مسلمانوں کو ہی دہشت گردانتے ہوئے ان پر مقدمات کا سلسلہ چلتارہتا ہے۔2006میں ہوئے مالیگاؤں دھماکوں کے الزام میں 8مقامی مسلمانوں کااسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی) سے تعلق ظاہر کرتے ہوئے انہیں مجرم قراردے دیاتھا اور ان پر لشکر طیبہ سے مددلینے کا بھی الزام تھا ۔بی بی سی کے مطابق انسداد دہشت گردی سکواڈ نے اپنی تحقیقات میں ان مقامی مسلمانوں کو ملزم بنایا تھا بعدازاں جب کیس کی تحقیقات نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی(این آئی اے ) کے سپرد کی گئی تو اس نے عدالت کو بتایا کہ یہ 8 افراد بے گناہ ہیں اور یہ سارا کیس ان پر فرضی ہے اور این آئی اے نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان دھماکوں کے پیچھے اصل میں ہندوشدت پسندتنظیم ’’ابھینوبھارت(نوجوان بھارت)‘‘ہے اس تنظیم کا بھی مقصد دوسری ہندوانتہاپسندتنظیموں کی طرح بھارت پر ہندوؤں کی حکمرانی ہے ۔یادرہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس پرحملے کے جرم میں گرفتار سوامی سیم آنند نے این آئی اے کوبتایا تھا کہ مالیگاؤں میں دونوں حملے ابھینوبھارت نے کرائے تھے لیکن بعد میں سوامی نے اپنا بیان واپس لے لیا تھا ۔این آئی اے نے 2014ء میں عدالت سے درخواست کی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف مقدمہ خارج کردیاجائے لیکن حال ہی میں این آئی اے نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے مقدمہ جاری رکھنے کی حمایت کی تھی لیکن عدالت نے حالیہ موقف کو نہ مانتے ہوئے مسلمانوں کو بری کردیا ہے۔ذرائع کے مطابق این آئی اے پر اس وقت شدید دباؤ ہے کہ مسلمان ملزمان کو مالیگاؤ ں دھماکوں میں ملوث قراردیاجائے ۔دوسری طرف سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث ملزمان کو بری کردیاگیا حالانکہ تمام ثبوت ان کے خلاف تھے ۔بھارت اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں پر بم دھماکے اور دیگر دہشت گردانہ کاروائیاں کرواکر مسلمانوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرتاہے ۔آپ صرف ممبئی حملے ،مکہ مسجدومالیگاؤں بم دھماکے اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی رپورٹس بھارت کے اندرکی دیکھ لیںآپ کو سمجھ آجائے گی ۔اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کے سربراہ ہیمنت کرکرے کا قتل کرنے کی وجہ بھی ان کی تفتیش کا مالے گاؤ ں میں ہونے والے بم دھماکوں کے کرتادھرتا تک پہنچ جانا تھا۔جس سے ثابت ہوتاتھا کہ ریٹائرڈ بھارتی میجر رمیش ایادھیااورحاضر سروس کرنل پروہت ان میں ملوث ہیں۔کرکرے نے نہ صرف دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بے نقا ب کیاتھا بلکہ کرنل پروہت سمیت کئی حاضر سروس فوجیوں کو بے نقاب کرنے والا تھا ۔یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید مضبوط ہوجاتی ہیں جب ہیمنت کرکرے کی بیوہ کو تین کروڑ جبکہ اس کے ساتھ ہی مرنے والے دوساتھیوں کے گھروالوں کوایک ایک کروڑ کی رقم ملتی ہے۔اس وقت کے اخبارات میں یہ خبریں بھی ملتی ہیں کہ انتہاپسند ہندوؤں نے ہیمنت کرکرے کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی تھی۔26 نومبر کی رات ممبئی میں ہیمنت کرکرے کو جس گاڑی میں قتل کیا گیا اس میں ATS کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ وجے سلاسکر اور ایڈیشنل کمشنر اشوک بھی ہلاک ہوئے تاہم اس گاڑی میں موجود کانسٹیبل ارون جادھو دو گولیاں لگنے کے باوجود زندہ رہا اور اس نے ذرایع ابلاغ کو بتایا کہ ’’میں راستے میں کچھ بھی نہیں سن پایا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے لیکن جب وہ کرکرے کو مار کر گاڑی سے نکل رہے تھے تو اتنی آواز سنی کہ یہ دیکھو انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی ہے اور پھر ان پر فائرنگ کردی‘‘۔
بی بی سی پر15 ستمبر2011ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپور ٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت میں اب اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ بھارت میں ایسی شدت پسند ہندو تنظیمیں ہیں جو ملک کے اندر دہشت گرد حملے کر سکتی ہیں۔94 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2010 ء میں ایک ہندو شدت پسندسوامی سیم آنند نے دہشت گردی کے کئی واقعات میں ہندو تنظیموں کے ملوث ہونے کا اقبال جرم کیا تھا۔ سوامی اسیم آنند نے بھارت اور پاکستان کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس مسافر ٹرین پر بھی 2007 ء کے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس دھماکے میں مارے گئے افراد میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔رپورٹ کے مطابق ان سب واقعات کا عجیب پہلو یہ ہے کہ ان بیشتر واقعات میں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں سے متعدد اب بھی جیل میں ہیں۔امریکی کانگریس کی اس رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی ماہرین ودانش ور طبقے نے خدشہ ظاہرکیا تھا کہ ہندودہشت گردتنظیموں کی وجہ سے بھارت کا سیکولرازم کا نظریہ تباہ ہوسکتا ہے۔یادرہے کہ کانگریشنل ریسرچ سروس امریکی کانگریس کا ایک تحقیقی شعبہ ہے اورمریکی کانگریس کے ارکان کے لیے امریکہ کی دلچسپی والے امور پر پر وقتاً فوقتاً تحقیقی رپورٹ تیار کرتا رہتاہے۔مالے گاؤں میں ہونے والے بم دھماکوں میں پکڑے گئے مسلمان افراد کو کسی نہ ذریعے سے پاکستان سے جوڑا گیااور ان کے ٹریننگ وغیرہ کے معاملات کو پاکستانی اداروں کے ساتھ جوڑ کر تفتیش کو آگے بڑھاتے گئے لیکن جب بھارتی تفتیشی اداروں کے سامنے ہندوانتہا پسندوں کا نام آیا اور ان میں بھی بڑے بڑے راہنماؤں کے نام آئے تو متعلقہ تفتیشی آفیسر ہیمنت کرکرے کوہی ٹھکانے لگادیاگیا ۔اس طرح کے واقعات بھارت میں ہوتے رہتے ہیں وہاں ہندودہشت گرد تنظیمیں پہلے تو دھماکے ،حملے اور فسادات کرواتی ہیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی یاپھر ہندودلتوں کی مرتی ہے اور پھر الزام مسلمانوں پر لگاکر ان کے تانے بانے پاکستان کے ساتھ جوڑ کر عالمی سطح پر اسلام اور پاکستان کوبدنام کرنے کی سازش کی جاتی ہے ۔ان سب سازشوں میں بھارتی میڈیا پوری طرح ہندودہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ان کے بیانات ،دھمکیاں،جنگ لگانے کی باتیں اور پاکستان کے خلاف زہراگلتی زبانیں دکھائی جاتی ہیں ۔اس سے بکھیرے کا آخر بھارت کو فائدہ کیا ہوتا ہے ؟آئیے اس سوال کاجواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بھارتی ہندوؤں نے پاکستان کو شروع دن سے ہی تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ اس کے خلاف سازشیں قیام پاکستان سے قبل ہی شروع کردی گئی تھیں۔مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کو علیحدہ کرنے کے بعد آج کے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا بنگلہ دیش کی زمین پرکھڑ ے ہوکر اس بات کا اعتراف کہ آپ کو الگ کرنے میں ہم برابر کے شریک ہیں ۔پاکستان کے خلاف بھارتی پالیسیوں کو ظاہرکرتاہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں پر جو ظلم ہورہے ہیں اس کیمثال سوائے فلسطین کے کسی جگہ نہیں مل سکتی کیونکہ اسرائیل اور بھارت مل کر مسلمانوں کے خلاف ظلم وبربریت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ان دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پرپردہ ڈالنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔پورے بھارت میں مسلمانوں،عیسائیوں ودیگر اقلیتیوں اور ہندودلتوں سمیت تمام لوگو ں کا اونچی ذات کے ہندوؤں نے جینا حرام کیاہواہے ۔گھر واپسی جیسی تحریکیں بھارت کو صر ف ہندوؤں کا دیش بنانے کی خاطر ہی جاری ہیں۔ان سب دہشت گردانہ کاروائیوں سے جہاں بھارت اپنے آپ کو دنیا کے سامنے مظلوم ثابت کرکے پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر سامنے لاتاہے وہیں بھارت محب وطن پاکستانیوں پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر اقوام متحد ہ میں ان کو دہشت گرد نامزد کرواتا ہے ۔انہیں حملوں کی آڑ میں بھارت اسلحے کے ڈھیر لگارہاہے۔ اس وقت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھارت ہے جو اسرائیل ،روس اور امریکہ سے بڑی تعداد میں اسلحہ خرید رہاہے اور پھر بھارتی اسلحہ مشہور زمانہ دہشت گرد تنظیم داعش کے ہاتھ لگتاہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے پاکستان اور پاکستانی میڈیا امن کی آشااور دیگر امن کے راپ الاپنے چھوڑ کر بھارت کے حوالے سے مسلسل چوکنا رہے اور اس کے حملوں کا ہرسطح پر جواب دے ۔ہم تو بھارتی حاضر سروس جاسوس پکڑ کر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اور اگر بھارت میں کہیں پاکستانی چیونگم کا ریپرمل جائے تو بھارتی سرکاراور میڈیا پاکستان کے خلاف زہراگلنے لگ پڑتا ہے ۔کل بھوشن یادیو جیسے حاضر سروس بھارتی جاسوس کا پکڑے جانا ہمارے لئے تائید ایزدی ہے ہمیں اس معاملے کو مدافعانہ ہوکردیکھنے کی بجائے آگے بڑھ کراقوام عالم سے جواب مانگنا چاہیئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *