آئینہ ان کو دکھایا تو۔۔۔۔

 ڈاکٹر عطاء الودود

Ata ullah wadood

لکھنے کو بے شمار موضوعات ہیں دماغ میں مختلف سوچیں گردش کر رہی ہیں اخبارات اٹھا کر دیکھیں یا نیوز چینلز کی سنیں تو مختلف عنوانات پر لا تعداد دانشور بیٹھ کر علم کے دریا بہا رہے ہوتے ہیں اور مختلف قسم کے وطن عزیز کو لاحق مسائل کا حل تلاش کر رہے ہوتے ہیں یہ تمام باتیں سن کر ایک طرف تو خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ماشاء اللہ پاکستان کے پاس زر خیز ذہنوں کی کمی نہیں ہے لیکن دوسری طرف یہ احساس محرومی بھی شدت سے دل اجاگر ہوتی ہے کہ اگر واقعی اتنے زرخیز ذہن کے مالک احباب اس ملک میں بستے ہیں تو یہ جو لاتعداد مسائل عوام الناس کو لاحق ہیں ان کا کوئی حل کیوں نہیں نکلتا ؟اس کا صرف ایک ہی جواب میرے ذہن کو سجھائی دیتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر کسی دوسرے کا محاسبہ کرے تو نہایت بے رحمی سے محاسبہ شروع کردیتے ہیں اور اس امر میں کسی اگر مگر کے خیال یا ایسی کسی بات کو سوچنا بھی لغو گمان کرتے ہیں لیکن جب اسی قسم کا محاسبہ ہمارے اپنے اوپر لاگو کیا جاتا ہے تو ہم اس بے رحمانہ احتساب پر چیخنا چلانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ یہ ظلم کیو ں روا رکھا جارہا ہے غرض اپنے لئے اور پیمانہ اور دوسروں کے لئے اور یہی ہماری اخلاقی پستی کا المیہ ہے (دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی نظر آجاتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا ) ۔
2013کے الیکشن سے قبل نواز شریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کے بیانات اور ان کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح اور صریح الفاظ میں زرداری صاحب اور ان کے مصاحبین کو بغیر کسی ثبوت کے دنیا کا کرپٹ ترین انسان گردانتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر’’زرداری کو فلانے چوک میں نہ گھسیٹا تو میرا نام شہباز شریف نہیں ‘‘اور ساتھ ہی ساتھ اس بات کا ورد بھی جاری رہتا تھا کہ زرداری صاحب کان کھول کر سن لو جب تک لوٹی ہوئی دولت ہم واپس نہ لے آئے تب تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔اب اس کو مکافات عمل ہی کہا جا سکتا ہے کہ پانامہ پیپرز کے انکشافات سامنے آنے کے بعد سے تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی بالکل نواز لیگ کے ماضی کے طرز عمل کو اپناتے ہوئے حکومتی پارٹی کو کرپشن کا گڑھ قرار دے رہی ہیں ۔یہاں اس بات کے تذکرے کا یہ مقصد ہر گز نہیں کہ کسی کو بھی احتساب کے معاملے میں کوئی چھوٹ دی جائے یا اس کے ساتھ نرمی پر مبنی سلوک کیا جائے اس امر میں ہرگز کوئی دو رائے نہیں کہ احتساب کڑا اور جاندار ہونا چاہئے اور ساتھ ہی ساتھ اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ازحد ضروری ہے کہ بلا ثبوت اور بلا کسی ٹرائل کہ ہمیں ہر گز یہ اختیار حاصل نہیں کہ ہم کسی کو بھی مجرم ، چور ، لٹیرا یا کسی بھی قسم کے برے القابات دے سکیں ۔
پانامہ پیپرز کے انکشافات سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی ہے جس کی شروعات 24اپریل کو تحریک انصاف کے یوم تأسیس سے کر دی گئی ہے اس بارے میں کسی بھی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ 24اپریل کا تحریک انصاف کا جلسہ اسلام آباد کی تاریخ کا کامیاب ترین شو تھا اور عوام بہت بڑی تعداد میں عمران خان کی کال پر باہر نکلے۔ اس کے بعد تحریک انصاف نے کرپشن کے خلاف صوبہ سندھ کا رخ کیا لیکن حسب معمول وہاں تحریک انصاف کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی شائد انھیں توقع تھی ایک بات اس موقع پر جس پر بہرحال عمران خان صاحب کو بہت زیادہ غور کر نے کی ضرورت ہے وہ اپنی پارٹی کی صفوں میں اتحاد و یگانگت کی فضاء پیدا کرنا ہے کیونکہ بہت سے اندرونی اختلافات کی خبریں اخباروں کی زینت بنی ہوئی ہیں کہ فلاں فلاں پارٹی کے راہنماؤں میں اختلاف ہے اور یہاں تک سننے میں آرہا ہے کہ شاہ محمود قریشی صاحب کی سولو فلائٹ کی وجہ سے چوہدری محمد سرور صاحب ناراض ہو کر بیرون ملک جار ہے ہیں ۔ اگر تو یہ خبر درست ہے تو ایک ایسے موقع پر جب تحریک انصاف وزیر اعظم کے خلاف حتمی اور آخری احتجاج کی کوشش کر رہی ہے تو اس قسم کے اختلافات اس احتجاج کو بھی بالکل اسی ناکامی سے ہمکنار کریں گے جب مخدوم جاوید ہاشمی صاحب بالکل آخری مرحلے پر اپنی جماعت کو چھوڑ کر ملتان چلے گئے تھے اور اس تمام وقوع پذیر ہونے والے احتجاج سے بیزاری کا اظہار کیا تھا اور مخدوم صاحب کا اس موقع پر احتجاج چھوڑ کر واپس جانا ہی تحریک انصاف کی ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ تھی ۔ اس وقت حکومت پر شدید دباؤ تھا اور کسی بھی وقت طاقت کے ستون حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر سکتے تھے عین اس موقع پر جماعت کے صدر کا اپنے پارٹی چےئرمین سے اختلافات کے باعث تحریک کو چھوڑنا حکومت کو اس گرداب سے باہر نکالنے کا سبب بنا جس سے وہ کسی بھی قیمت از خود نہیں نکل سکتی تھی ۔
ادھر بلاول بھٹو زرداری بھی نواز شریف صاحب کے خلاف میدان میں آگئے ہیں انھوں نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کوٹلی میں جلسے کے دوران نعرے بھی لگوائے ’’مودی کے یار کو ایک دھکا اور دو کرپشن کے سردار کو ایک دھکا اور دو ‘‘ اب اس بات کا علم عالم الغیب کی ذات کو ہی ہے کہ یہ زرداری صاحب کی مفاہمت کی پالیسی ختم کرنے کا عندیہ ہے یا نواز شریف صاحب کو مجبور کر کے اسی مفاہمت کی پالیسی پر دوبارہ واپسی لانے کی کوشش ؟؟
پھر ایک واقعہ گزشتہ دن رونما ء ہوا جس میں ملک کے معروف صحافی اقرار الحسن صا حب اسٹنگ آپریشن کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کے اندرلائسنس یافتہ اسلحہ محض اس غرض سے لے کر گئے کہ وہ ایوان جس کی سیکیورٹی کے لئے کروڑوں روپے عوام سے جمع کئے جانے والے ٹیکس کے پیسوں سے خرچ کئے جاتے ہیں اس کی سیکیورٹی کی اصلیت سے اہل وطن کو روشناس کرایا جا سکے اس پر سائیں سرکار نے اپنی سیکیورٹی کو بہتر کرنے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی بجائے انتہائی قبیح حرکت کرتے ہوئے اقرار الحسن اور ان کے ساتھی کو گرفتار کروادیا (آئینہ ان کو دکھایا تو برا مان گئے ) اقرار الحسن صاحب کی یہ گرفتاری سند ھ سرکا ر کے ماتھے پر کلنک کا وہ ٹیکہ ہے جو اب سائیں جی مٹانے کی جتنی بھی کوشش کریں کم ہے ایک جوانمرد صحافی نے اپنی تمام تر صحافیانہ صلاحیتیں کو بروئے کار لاتے ہوئے سند ھ اسمبلی کو فراہم کی جانے والی سیکیورٹی کا پول کھولا جس پر چاہئے تو یہ تھا کہ صحافی موصوف کو سندھ سرکار کی طرف سے انعام و اکرام سے نوازا جاتا کہ انھوں نے ان کی زندگی محفوظ بنانے کے لئے یہ اسٹنگ آپریشن کیا لیکن اس کے بالکل برعکس ان کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لئے جیل بھیج دیا گیا اس پر سائیں سرکار کی عقل پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے اور اس موقع پر سپریم کورٹ کے وہ ریمارکس بھی یاد آتے ہیں کہ’’ مسٹر شاہ کے ہوتے ہوئے سندھ میں کوئی بہتری نہیں آسکتی ‘‘ !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *