نیل پالش(افسانہ)

zaeema khan

یکم جنوری، 2016، رات کا تقریبًا ایک(1) بج رہا ہے۔ لوگ نئے سال کی خوشیاں منا رہے ہیں۔اور میں اپنی روم میٹ کے ساتھ فرش پہ بیٹھی ، اسکی نئے سال کے لئے کی گئی خریداری دیکھ رہی ہوں۔کہ اچانک اُس نے بہت ساری نیل پالش ایک ساتھ نکال کے رکھیں ۔ نیل پالش کے اتنے رنگ ایک ساتھ دیکھ کر مجھے لگا کہ میرے سامنے شَنو اپنی سَستی سی نیل پالش کے ڈھیر لگا کے آ بیٹھی ہے۔۔
شَنو ذہن میں آتے ہی میں ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی۔۔شَنو یہاں کیسے؟ شَنو سے پیچھا چھڑانے کو تو میں نے پاکستان چھوڑا اور وہ یہاں بھی۔۔ کچھ لمحوں بعدمیں نے ڈرتے ڈرتے نیچے فرش پر دیکھا تو وہاں مہنگے برانڈ "ٹونی مولی" کی نیل پالش اور باقی کاسمیٹکس کے ڈھیر سے ہوتی ہوئی میری نظر چیزیں سمیٹتے دودھیا سفید ہاتھوں پہ پڑی تو مجھے تسلی ہوئی کہ یہ ہاتھ شَنو کے نہیں ہیں ۔ ۔ کیونکہ اِن ہاتھوں اور شَنو کےہاتھوں میں زمیں آسمان کا فرق تھا۔۔ شنو کے ہاتھوں سےتو کام کر کر کےشاید قسمت کی لکیریں بھی گھس گئی تھی اور دھونے کے باوجود بھی گوبر اور چارے کے نشان نہیں جاتے تھے ۔ یوں اچانک شَنو یاد آنے سے میرا دل بہت بوجھل ہو گیا اور مجھے لگا میرے اِرد گِرد ہر چیز سِسکنے لگی ہے۔ سانولے سے رنگ کی لیکن کنول کی طرح اُجلی، روشن آنکھوں والی، معصوم دُعا جیسی، کِسی خوشبو دار اور پُر اِسرار مٹی سے بنی، صابِر اور مضبوط ، بِن ماں کے، بیمارغریب مزدور باپ کی بیٹی شنو۔ اس کا باپ ساری کمائی مہینے کے مہینے بھائی اور بھاوج کے ہاتھ پہ لا دھرتا اور اُس کے با وجوُد شَنو کادن اور رات اُسکی تائی کی مار، گالی گلوُچ اور طعنوں سے ہی ہوتا۔ اور بقول کچھ لوگوں کے، شَنو کی ماں کو بھی اِسی " چنڈال" نے زہر دے کے مارا تھا تاکہ ساری جائداد کی اکیلی مالک ہو۔۔ولہ عِلم۔
۔پورے گاؤں میں میرا ہی واحِد گھر تھا جس میں وہ، جب، جیسے ، جس وقت چاہتی بے دھڑک آتی۔اِس لیے پڑوسی ہونے کے ناتے ہمارا بچپن اور لڑکپن ایک ساتھ گزرنے کے علاوہ دوستی، یاری، محبت، بہن بھائی غرض ہر رشتہ تھا ہم دونوں کے درمیان۔ سارہ دن ڈھور ڈنگروں اور گھر کے کاموں میں الجھی شنو کو نیل پالش لگانے کا شوق خدا جانے کہاں سے لگ گیا تھا۔ اُس کی نیل پالش ہوتی سستی ہی تھی۔ اکثر تو نیل پالِش خریدنے کے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے اور جب کبھی اُسے باپ کوئی
روپیہ پیسہ دیتا وہ گاؤں میں رہڑی پہ سامان بیچنے والے سے 10 روپے کی 4 نیل پالش کی ا تو کبھی مہندی خرید لیتی۔یا کبھی میرے پاس کرائے سے پیسے بچ جاتے تو میں اس ک لیے لے آتی ۔اسے ڈھنگ سے نیل پالش لگانی نہیں آتی تھی اس لیے جب بھی فرصت ملتی وہ ناخنوں کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پہ بھی مَل لیتی یا پورا مہینہ میرا یونیورسٹی سے آنے کا انتظار کرتی نیل پالش لگوانے کو۔ شَنو اور میں عمر کے اس حصے میں تھے، جہاں لڑکیاں پاؤں زمیں پہ رکھتی ہیں تو زمیں سے بھی دھمک کی آوازآتی ہے، لڑکیوں کو ،خواہ مخواہ خود کو ہی گلے لگانے کو دِل کرتا ہے،وہ بات بے بات ہنستی ہیں تو لگتا ہے دور کہیں گھنٹیاں بجی ہیں، لڑکیاں گھنٹوں گھنٹوں بننے سنورنے پہ لگاتی ہیں پھر نظریں چُرا چُرا کے خود کو دیکھتی ہیں،،دھنک رنگ خواب سجاتی ہیں،گھر میں ہر آنے جانے والے کو کن اکھیوں سے دیکھتی اور ہر آہٹ پہ چونک چونک جاتی ہیں۔ لیکن شَنو میں ایسی کوئی بھی علامت مجھے کبھی نظر نہیں آئی۔۔بلکہ شَنو کی اپنی ہی ایک دنیا تھی جس میں اسکی چھوٹی چھوٹی باتیں اور خوشیاں تھی۔۔ جس دن میں نے یونیورسٹی سے گھر آنا ہوتا، اُس دن وہ دودھ کی گاگری سَر پہ دھرے میرے راستے میں کھڑی ہوتی اور گاگری سَر پے رکھے رکھے پی مجھے گلے لگتی۔ جب کبھی یونیورسٹی سے واپسی پہ کرائے سے پیسے بچ جاتے تو میں اس کے لئے نیل پالش، کبھی مہندی یا کوئی چیز لے آتی تو اسکی خوشی دیدنی ہوتی۔ جب میرے ساتھ ہوتی تو بار بار وہی باتیں کرتی جو میں سالوں سے سن رہی تھی لیکن ہر بار مجھے لگتا جیسے پہلی بار سُن رہی ہوں۔
اس بار عید سے کچھ دن پہلے میں یونیورسٹی جانے کی تیاری کر رہی تھی جب وہ آئی اور میرے کپڑے لپیٹے ہوئے بولی۔
"میں ہر وقت دُعا کرتی ہوں تمہاری پڑھائی جلد ختم ہو اور نوکری ملے تمہیں، نوکری ملے گی تو تمہارے پاس ڈھیر سارے پیسے آئیں گے، پیسے آئیں گے تو تم ہی پھرمجھے نئے کپڑے، نیل پالش اور مہندی لے کے دیا کرو گی۔ لے دو گی نا؟ "
اس کی آنکھوں میں امید اور یقین ایک ساتھ دیکھ کے میرا دل کٹ گیا میں کچھ بول نہیں پائی اور خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ اگلے دن یونیورسٹی پہنچنے پہ مجھے معلوم ہوا کہ مجھے وظیفہ ملا ہے۔ اور وظیفے کی رقم چونکہ کافی تھی تو میں کچھ سوچ کے خوش ہو گئی۔جس دن عید کی چھٹیاں ہوئیں تو میں گھر جانے سے پہلے بازار گئی، دو ایک جیسے سوٹ، ساتھ میچنگ چوڑیاں، نیل پالش اور مہندی خریدی۔ زندگی میں پہلی بار میں اتنا خوش تھی کہ ویگن میں بیٹھ کے مجھے لگا میری زندگی کی پہلی اور آخری خواہش آج پوری ہوئی ہے۔ میں بار بار بیگ میں رکھی چیزوں کو ہاتھ لگا تی جیسے تسلی کر رہی ہوں کہ وہ ہیں وہاں اور ہر بار مجھے لگتا میرا دل میری ہتھیلی میں دھڑک رہا ہے۔ با ر بار میری اس حرکت پہ میرے ساتھ بیٹھی عورتوں کو میری دِ ماغی حا لت پر شک ہو گیا تھا شاید۔ میرا دل کیا میں انہیں اپنے خوش ہونے کی وجہ بتاؤں۔یا میرے سامنے والی سیٹ پہ جو چاچا جی بیٹھے ہیں ان سے پوچھوں کہ وہ شَنو کو جانتے ہیں۔ یا میرے پیچھے والی سیٹ پہ جو لڑکے کسی لڑکی کا ذکر کر کے سر گوشیاں کر رہے ہیں انہیں کہوں میرے ساتھ چلیں میں انہیں اپنی شَنو سے ملواؤں۔ لیکن میرے ایسے کسی بھی ارادے کی تکمیل سے پہلے میرا سٹاپ آگیا اور میں اتر کر تیز تیز قد موں سے چلنے لگی۔ لیکن یہ کیا؟ دُور سے شنو مجھے اپنی مخصوص جگہ پہ کھڑی نظر نہیں آئی۔
”شاید میں جلدی آگئی ہوں آج“۔ یہ سوچ کر میں نے قدم سُست کر لیے یہاں تک کہ اس جگہ پہنچتے پہنچتے میرے پاؤں گھسٹنے لگے تھے لیکن شنو نہیں آئی تھی ابھی بھی۔ پھر میں نے شنو کے ڈیرے کو جاتے رستے کو دیکھا لیکن میرے نظر ناکام ہی لوٹی۔
شاید اسے پتہ نہ ہو کہ آج میں نے آنا تھا۔ میری ساری خوشی اور جوش پہ پانی پھِر گیا اور گھر میں داخل ہوتے میں اتنی جھنجلائی ہوئی تھی کہ ماں کے منہ سےمعمول کی طرح نکلنے والے "بسم اللہ" کے الفاظ بھی نہ سن سکی۔
یہ شَنو کہاں غائب ہے، مجھے لینے نہیں آئی، میں کتنی دیر وہاں کھڑی اسکا انتظار کرتی رہی" مجھے غصہ آ رہا تھا اب۔
میں نے سَر سے چادر اتار کے چارپائی پی رکھی ہی تھی کہ مجھے شنو کے چیخنے کے ساتھ ساتھ ان کے گھر سے شور کی آواز سنائی دی۔شنو کی چینخ سن کے میں ننگے پاؤں اس کے گھر بھاگ کے پہنچی جہاں گاؤں کے لوگوں میں کھڑی اسکی تائی ہاتھ نچا نچا کے لوگوں کو کہی رہی تھی۔
"کمہاروں کے لڑکے ساتھ بھاگ رہی تھی کلموہی، میرے بھائی نے پکڑا ہے، ہماری عزت مَٹی میں ملا دی حرامزادی نے"
مجھے اپنے گرد اندھیرا محسوس ہونے لگا
سامنے زمین پہ خون میں لت پت شَنو، پاس بیٹھا چینختا باپ اسکا۔ مجھے لگا جیسے وہ میرا ہی انتظار کر رہی ہے شاید۔ پاؤں گھسیٹ کے اس کے پاس گئی تو شَنو نےتڑپتے اور بند ہوتی آنکھوں سے بس اتنا کہا
"مجھے تمہاری قسم میں نے اس لڑکے سے کبھی بات بھی نہیں کی"
اللہ اکبر
کسی مسجد سے بلند ہوتی اذان کی آواز جیسے شنو کی معصومیت کا اعلان تھا اور اس شام کے بعد روزمیرے گاؤں سے تازہ لہوُ کی بوُ آتی ہے اور کوئی رات بھر گاؤں کی گلیوں میں بین کرتا پھرتا ہے۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *