پانامہ لیکس کا پس منظراور کچھ سوالات

 حسیب جان ہمرازؔ

Haseeb jan hamraz

بہت دِنوں سے ہم ایک لفظ سنتے آرہے ہیں ٹی وی پر بھی اور عام لوگوں کے منہ سے بھی لیکن شاید بہت کم لوگ ہی اس لفظ کے معنی و مفہوم سے باخبر ہیں۔ وہ لفظ ہے ’’ پاناما لیکس‘‘ ۔ پاناما لیکس کیا ہے اور کیا کام کرتا ہے؟ یہ آج تفصیل سے جانیءں۔ دراصل پانامہ دستاویزات ہیں جسے انگریزی میں PANAMA Papersکے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاناما دستاویزیں 11.5 ملین خفیہ کاغذات ہیں جسے قانونی مشاورتی کمپنی موساک فونسکا نے بنایا تھا۔ یہ کمپنی سنٹرل امریکہ کے ایک ملک پانامہ میں قائم ہوئی اور اس کے پوری دنیا میں 40 کے قریب دفاتر ہیں۔ یہ فرم دنیا کی چوتھی بڑی قانونی فرم ہے اور اس کی وجہ شہرت بڑی بڑی شخصیات کے اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری میں مدد دینا ہے۔2005میں ایک جرمن اخبار زیتوشے زائتونگ سے ایک نامعلوم شخص نے رابطہ کیا اور اسے "موزیک فونیسکا" نامی مشہور لا فرم کے انتہائی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس دینے کی پیشکش کی۔ جرمن اخبار نے یہ تمام ڈاکومنٹس " انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس" (ICIJ) کے حوالے کر دیے جو اس سے قبل اسی اخبار کے ساتھ آف شور لیکس، لکس لیکس اور سوئس لیکس پر کام کر چکا تھا۔ان پیپرز کے لیے کی گئی تحقیقات میں گذشتہ 12 مہینے کے دوران 100 صحافتی تنظیموں سے اور 80 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 400 کے قریب صحافیوں نے حصہ لیا۔
یہ تحقیقات عالمی سطح پر اس نوعیت کے تعاون کی ایک بہت بڑی مثال ہے۔ان میں بی بی سی کی ٹیم، برطانوی اخبار گارڈین، فرانسیسی اخبار لا موند، ارجنٹائن کے اخبار لا نیسیون شامل ہیں۔اس تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم کا پہلا اجلاس واشنگٹن، میونخ، لندن اور للہیمر میں ہوا جس میں تحقیق کے دائرہ کار کا تعین کیا گیا۔
پورا ایک سال ان ڈاکومنٹس پر تحقیق کی اور بالآخر پتہ چلا لیا کہ وہ تمام ڈاکومنٹس بالکل اصلی اور درست تھے۔جرمن اخبار نے اس پورے ڈیٹا کا خلاصہ رپورٹ کی شکل میں اپریل 2016ء کو جاری کردیا اور اسے "پانامہ پیپرز لیک" کا نام دیا۔ اس وقت تک ہونے والے تمام لیکس میں یہ تاریخ کا سب سے بڑا لیک تھا جس میں تقریباً سوا کروڑ ڈاکومنٹس ہیں جس کا حجم 2 اعشاریہ 6 ٹیرا بائیٹس ہے۔اس میں دو لاکھ 14 ہزار افراد، کمپنیوں، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کی تفصیلات ہیں۔ان دستاویزات میں سابقہ اور موجودہ سربراہان مملکت کے نام ہیں بشمول ان آمروں کے جن پر ملک کی دولت لوٹنے کے الزامات ہیں۔
ان دستاویزات کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر سیاستدانوں کے 60 کے قریب رشتہ دار اور رفقا کے نام بھی آئے ہیں۔فائلز میں روسی صدر پوتن کے قریبی رفقا، چینی صدر کے بہنوئی، یوکرین کے صدر، ارجنٹینا کے صدر، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے آنجہانی والد، اور وزیر اعظم پاکستان کے چار میں سے تین بچوں کا ذکر ہے۔فائل سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح موساک فونسیکا کے گاہکوں نے کیسے منی لانڈرنگ کی، پابندیوں سے بچے اور ٹیکس چوری کی۔
ایک کیس میں اس لا کمپنی نے ایک لکھ پتی کو جعلی ملکیتی حقوق کے دستاویزات دیے تاکہ حکام سے دولت چھپا سکے۔ یہ بین الاقوامی ریگلولیشن کی خلاف ورزی ہے جو منی لانڈرنگ کو روکنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ہے۔پاناما دستاویزات کے ڈیٹا کے حجم کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ وکی لیکس کی سفارتی کیبلز، آف شور لیکس، لکس لیکس، سوئس لیکس کے سارے ڈیٹا سے زیادہ ہے جس میں 4804618 ای میلز، 3047306 ڈیٹا بیس کی اقسام ، 2154264 پی ڈی ایف فائلیں، 1117026 تصاویر، 320166 تحریری دستاویزات اور 2242 دیگرجس میں موساک فونسیکا کے اندرونی ڈیٹا بیس کا حصہ بھی شامل ہے جو 1970ء سے 2016ء تک پھیلا ہوا ہے۔اس تمام دستاویزات میں کسی بھی امریکی شخص کا نام نہیں ہے حالانکہ امریکا میں سالانہ اربوں ڈالر محصول چوری ہوتا ہے۔ یہ بات ان سارے معاملات پر سوالیہ نشان ہے۔ دیگر یہ کہ جس نامعلوم شخص نے اتنا زیادہ ڈیٹا مہیا کیا ہے اس شخص نے اس کے عوض کچھ مالی فائدہ طلب نہیں کیا محض اپنی حفاظت پر اپنے تحفظات بیان کر کے ضمانت لی تھی۔پاناما کے تحقیق کار کا طریقہ کار کچھ یوں تھا کہ موساک فونسیکا نے ہر شیل کمپنی کے لیے ایک فولڈر بنایا ہوا تھا جس میں کمپنی کی ای میلز، رابطے، بات چیت، ٹھیکے اور ان کی سکین شدہ دستاویزات شامل تھیں۔ سب سے پہلے تحقیق کاروں نے سارے ڈیٹا کو بہترین کارکردگی والے کمپیوٹروں پر چڑھایا جس کے نتیجے میں فائلوں کو پڑھنے میں آسانی ملی اور انھیں ترتیب دیا گیا جس کے نتیجے میں صحافیوں کو اس سارے ڈیٹا کو گوگل کی سرچ کی طرح کھنگالنے میں مدد ملی۔چند منٹوں میں سارے ڈیٹا کو سدھارنے کے بعد اس پر تحقیق کا کام شروع ہوا جس میں ہر سامنے آنے والے نام کے بارے میں سوالات سامنے لائے گئے کہ ان کمپنیوں میں اس فرد کا کیا کردار ہے؟ پیسہ کہاں سے آ رہا ہے؟ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ کیا سٹرکچر قانونی ہے؟عمومی طور پر آف شور کمپنی رکھنا غیر قانونی نہیں ہے بلکہ آف شور کمپنیاں بنانے کو بڑے پیمانے پر کاروباری سودے کرنے کی جانب قدم سمجھا جاتا ہے۔شاید اس کالم کے پڑھنے کے بعد وہ لوگ جن کو پاناما لیکس کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا وہ بھی اس قابل ہوگئے ہوں گے کہ دراصل پاناما کیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *