ڈر کا راج اور ہمارا معاشرہ

IMG-20160419-WA0002
عائشہ جہاں زیب
آپ نے بہت سے ایشوز پر پڑھا اور سنا ہوگا لیکن میں آپ کی توجہ ایک ایسے اہم مسئلے کی طرف مبذول کرا نا چاہتی ہوں جس سے ہم سب کو بلا تخصیص واسطہ ہے۔ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو ، کسی بھی مذہبی فرقے سے ہو، ہم امیر ہیں یا غریب ، مرد ہیں یا عورت۔ ملازمت پیشہ ہیںیا چھوٹے یا بڑے بزنسمین ، ہم سب ایک عجیب ان دیکھے ڈر کے حصار میں ہیں ۔ کبھی ہمیں دہشت گردی کا ڈر ہے تو کہیں ہمیں اس ملازمت کے چھن جانے کا ڈر جو ہماری دووقت کی روٹی کا ذریعہ ہے۔ ہم دولت مند ہیں تو اس میں کھاٹے یا منافع کی کمی یا دوسرے کے مقابلے میں پیچھے رہ جانے کا خوف ہماری خوشیوں کو غارت کیے رکھتا ہے۔ ہم نواز شریف ہیں تو کبھی عمران خاں کا خوف یا کبھی مارشل لاء کا خدشہ ہمارا دم نکالے رکھتا ہے۔ ہم عمران خان ہیں تو ہمیں فکر لاحق ہے کہ حکمران کچھ کر گئے تو ہماری باری کب آئے گی۔ ہم ہلاا ہیں تو ہمیں مخالف فرقے کی ترقی اور ترویج کا ڈر رہتا ہے۔ دوسرے کی بات کے حق ہونے او ر اپنا بھانڈا پھوٹنے کا خوف رہتا ہے۔ ہم مرد ہیں تو بیوی سے ڈرتے ہیں کہیں وہ ہماری کمزوریوں سے واقف نہ ہو جائے ، ہم بیوی ہیں تو ہمیں مرد کی بے وفائی یا وہ وفا دار اور محبت کرنے والا ہے تو اس میں کمی کے خدشے کا شکار رہتی ہیں ۔ غرض صحت مند ہیں تو بیماری کاخوف ہمیں اور خوش ہیں تو اس میں کمی یا چھن جانے کا اندیشہ دامن گیر رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے ہم مسلسل ایک غیر یقینی ، عدم تحفظ اور اندیشہ ہائے دوردراز کے مریض بن چکے ہیں ۔ شاہد اسی وجہ سے ہمارا معاشرہ حقیقی خوشی اور اطمینان سے محروم ہے۔ احساس محرومی کا مجموعی طور پر شکار ہے۔ عجیب بات ہے ہم مسلمان ہو کر بھی اس کا علاج نہیں کر سکتے ، جو کہ صرف اور صرف توکل میں پوشیدہ ہے یعنی اپنی طرف سے پوری کوشش اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ کر یہ بھروسا اوریقین رکھنا کہ وہ کوئی زیادتی نہیں کرے گا ، کسی ناخوب کو خوب نہیں کرے گا کسی غلط کو ٹھیک اور کسی درست کو غلط نہیں کرے گا ۔آپ کبھی اس یقین کے ساتھ ایک دن بسر کرکے تو دیکھیے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *