میرے چارہ گر کو نوید ہو

OLYMPUS DIGITAL CAMERA

رؤف طاہر

کیا1970 کے عام انتخابات شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے پاکستان سے علیحدگی کے نعرے پر لڑے اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کا مینڈیٹ آزاد و خود مختار بنگلہ دیش کے قیام کے لئے تھا؟ اور یہ بھی کہ کیا جماعت ِ اسلامی سمیت پاکستان کے حامی عناصر 25 مارچ 1971 کے ملٹری آپریشن کے حامی تھے؟ دونوں سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ اس بات سے قطع نظرکہ مشرقی پاکستان میں یہ انتخابات کس حد تک آزادانہ اور منصفانہ تھے اور عوامی لیگ کی مخالف جماعتوں کوکیا واقعی یکساں ہموار میدان ملا، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی نتائج کو قبول کر لیاتھا۔ شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے یہ انتخابات 6نکات کی بنیاد پر لڑے تھے۔ سیاسی مخالفین کے خیال میں یہ پاکستان کو کمزور کرنے والے نکات تھے کہ وفاق کے پاس صرف دفاع اور امورِ خارجہ تھے جبکہ شیخ مجیب اس کی سختی سے تردید کرتے۔ وہ پاکستان سے علیحدگی کے ”الزام“ پر بھی بھڑک اٹھتے، خود کو سچا اور پکا پاکستانی قرار دیتے۔ ان کا دعوی تھا کہ ان کے 6 نکات سے مشرقی پاکستان کی شکایات کا ازالہ ہو گا۔ وفاقی اکائیاں مضبوط ہوں گی تو وفاقِ پاکستان بھی کمزور ہونے کی بجائے مضبوط تر ہو گا۔ انہوں نے ”مغربی پاکستان“ میں بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے ان کی حیثیت محض علامتی تھی۔ وہ انتخابی مہم کے لئے لاہور آئے جہاں گول باغ (ناصر باغ) میں ان کا جلسہ ہنگامے کی نذر ہو گیا۔ مشرقی پاکستان میں جماعتِ اسلامی کی انتخابی مہم کے لئے مولانا مودودی ڈھاکہ پہنچے لیکن وہ پلٹن میدان کی جلسہ گاہ تک نہ پہنچ پائے۔ عوامی لیگیوں نے جلسے پر حملہ کر دیا تھا جس میں دو کارکن جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان میں جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ اور نظامِ اسلام سمیت عوامی لیگ کی مخالف جماعتوں کی انتخابی مہم محض رسمی تھی۔ عوامی لیگ کو الیکشن ڈے تک کھل کھیلنے کے بھرپورمواقع حاصل تھے اور کوئی ان کا ہاتھ روکنے والا نہیں تھا (کراچی میں تو اس سے بہت کم ہوتا ہے)۔ انتخابی نتائج آئے تو عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں قومی اسمبلی کی 162 میں سے 160 نشستیں جیت لیں۔ مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کی پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ ادھر 138میں اس کی سیٹیں80 تھیں۔ایل ایف او کے تحت انتقالِ اقتدار سے قبل 120 دن کے اندر آئین بننا تھا اور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر صدر جنرل یحیٰی خاں کی طرف سے آئین کی منظوری کے بعد انتقالِ اقتدار کا مرحلہ آنا تھا۔ لیکن انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد جس نئے کھیل کا آغاز ہوا اور نوبت مشرقی پاکستان میں 25 مارچ کے ملٹری ایکشن تک کیسے پہنچی، اس کی تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں لیکن یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ جماعتِ اسلامی ان جماعتوں میں شامل تھی جو انتخابات کے بعد آئین ساز اسمبلی کے اجلاس کے فوری انعقاد کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس نے ڈھاکہ جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کے اعلان کی بھی شدید مخالفت کی اور 3 مارچ کے اجلاس کے التوا پر بھی بھرپور احتجاج کیا۔ 3 مارچ کے اجلاس کے غیر معینہ مدت تک التوا کے اعلان نے بحران کو شدید تر کر دیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن اب آئین کی تیاری سے قبل انتقالِ اقتدار کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن پاکستان سے وفاداری کے اعلان پر وہ اب بھی قائم تھے۔ 7 مارچ کو جب مشرقی پاکستان میں آگ لگی ہوئی تھی انہوں نے ڈھاکہ میں اپنی تقریر کا اختتام جئے بنگلہ اور جئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ کیا۔ مشرقی پاکستان میں آگ اور خون کا کھیل شروع ہو گیا تھا ایسے میں لاہور میں نوابزادہ نصراللہ خاں کی رہائش گاہ پر مغربی پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا اجلاس ہوا (ظاہر ہے پیپلزپارٹی اس میں شامل نہیں تھی)۔ اس اجلاس میں مجیب کے اس مطالبے کی تائید کی گئی کہ پاکستان کی اکثریتی جماعت کی حیثیت سے اقتدار عوامی لیگ کو منتقل کر دیا جائے۔ 25/مارچ کے ملٹری آپریشن کے بعد صورتحال ایک نیا رخ اختیار کر گئی تھی۔ شیخ مجیب کو غداری کے الزام میں گرفتار کر کے مغربی پاکستان لایا گیا۔ اب عوامی لیگ کے سخت گیراور انتہا پسند عناصر کو کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ شیخ مجیب کی گرفت سے آزاد ہو گئے تھے۔ شیخ تاج الدین کی زیرِ قیادت فرار ہو کر وہ ہندوستان چلے گئے اور وہاں بنگلہ دیش کی جلاوطن حکومت کا اعلان کر دیا جسے ہندوستان کے سوا دنیا کے کسی ملک نے تسلیم نہ کیا۔ عالمی برادری اسے پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دے رہی تھی تاہم اس کا اصرار تھا کہ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ ادھر مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے انتہا پسندوں نے پاکستان سے بغاوت کا علم بلند کر دیا۔ ہندوستان ”مکتی باہنی“ کی تربیت بھی کر رہا تھا اور اسے اسلحہ اور پیسہ بھی دے رہا تھا۔ ایسے میں جماعتِ اسلامی ، مسلم لیگ اور نظامِ اسلام پارٹی سمیت مشرقی پاکستان میں پاکستان کے حامی عناصر نے ہندوستان کی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے مقابلے میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا،کہ اب مسئلہ جمہوریت کا نہیں پاکستان کی سا لمیت کا تھا اور مقابلہ آمریت سے نہیں پڑوسی ملک کی سرپرستی میں برپا ہونے والی بغاوت سے تھا۔ اس دوران مشرقی پاکستان جماعت ِ اسلامی کے لیڈر لاہور آئے۔ ان میں پروفیسر غلام اعظم بھی تھے۔ وہ مشرقی پاکستان کی صورتحال پر خوش نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار مجیب کو دے دیا جاتا تو صرف 6 ماہ کے عرصے میں بنگالی اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے۔ وہ اب بھی بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کے حامی تھے۔ ہم یہاں فوج کی زیادتیوں اور مکتی باہنی کے ہاتھوں غیربنگالیوں پر ڈھائی جانے والی قیامت کی تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ حالیہ برسوں میں شرمیلابوس اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے بنگالی وائس چانسلر پروفیسر سجاد حسین سمیت متعدد اہلِ دانش و تحقیق کی کتابوں نے حقائق واضح کر دیے۔ مشرقی پاکستان میں حالات کافی حد تک قابو میں آچکے تھے۔ اب مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کی ضرورت تھی لیکن یحییٰ خانی ٹولے کو دیگر مشاغل سے فرصت نہ تھی۔ بحران کا سبب بننے والی مغربی پاکستان کی منتخب قیادت کا ہدف بھی مختلف تھا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے آخر کار بھارت کو عریاں جارحیت کا ارتکاب کرنا پڑا۔ اقوامِ متحدہ میں پولینڈ کی قراداد پاکستان کو متحد رکھنے اور مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرنے کا آخری موقع تھاجسے پاکستان نے ضائع کر دیا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد حالات نیا رخ اختیار کر گئے تھے۔ فضل القادر چوہدری اور مولوی فرید سمیت کتنے ہی نامور بنگالی لیڈر جیلوں میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ جاں سے گزر گئے۔ بنگلہ بندھو شیخ مجیب الرحمٰن صرف تین سال بعد اپنے ہی فوجیوں کے عتاب کا نشانہ بن گئے۔ دھان منڈی کی رہائشگاہ پر ان کی لاش تین دن تک سیڑھیوں میں پڑی رہی۔ اپنی آزادی اور خود مختاری کے لئے حساس بنگالیوں کو ہندوستان کی کالونی بننا گوارہ نہ تھا۔
پاکستان کا ساتھ دینے والے بنگالیوں نے بنگلہ دیش کی حقیقت کو تسلیم کر لیا تھا اور اب وہ یہاں کے وفادار شہری بن گئے تھے۔ پروفیسر غلام اعظم کے صاحبزادے بنگلہ دیش کی فوج میں بریگیڈئیر جنرل کے عہدے تک پہنچے۔ جماعتِ اسلامی اب یہاں کی ایک موثر سیاسی طاقت تھی۔ وہ خالدہ ضیاء کی مخلوط حکومت میں شامل تھی اور اب بھی عوامی لیگ کے مقابل خالدہ ضیاء کے زیرِ قیادت سیاسی اتحاد کا اہم حصہ ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کے 40 سال بعد بنگلہ بندھو کی صاحبزادی حسینہ واجد نے نام نہاد وار کرائم ٹربیونلز کے قیام کا اعلان کر دیا۔ جماعتِ اسلامی بطورِ خاص اس کا ہدف تھی۔ ان ٹربیونلز کی کاروائی عالمی انصاف کے ادنیٰ تقاضوں پر بھی پورا نہیں اترتی۔ دنیا بھر کے انصاف پسند حلقے اسے انصاف کا قتل قرار دے رہے ہیں اور حسینہ واجد جذبہ انتقام میں اندھی ہو گئی ہیں۔ 90 سالہ غلام اعظم کو پاک فوج سے تعاون کے الزام میں 90 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ جماعت کے دیگر لیڈروں کو بھی پاکستان سے محبت کے جرم میں دار پر کھینچنے کی تیاریاں ہیں اور ادھر اپنے ہاں خاموشی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *