ہم پھنس چکے ہیں

jam sajjad hussain

بڑے مسئلے کو پیدا کرکے ملکی مسائل پر پردہ ڈالنے کی سیاست اس دھرتی پر کلنک کا ٹھیکہ بن چکی ہے۔ اس دھرتی کا خون چوسنے والا اقتدار کی راہداریوں میں گھومنے اور سیاہ و سفید کا مالک بننے کے لئے عوامی مفاد کے نعرے لگاتا ہے۔ وہ مزدور وں کے دن پر مزدور کو اس ملک کا مالک بتاتا ہے۔ وہ غریب کی کٹیا میں روشنی پیدا کرکے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بات کرتا ہے۔ وہ غریب کو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈتی بتاتا ہے۔ وہ مزدورں کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں میڈیا کو اپنی داشتہ کی طرح استعمال کرتا ہے۔ وہ تعلیم کو عام کرنے کی بات ہے۔ وہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کا عزم کرتا ہے۔ وہ نئی نسل کو سہانے خواب دکھاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی ہوتا آرہا ہے۔ لیکن جب وہ اقتدار کے گھر میں داخل ہوتا ہے تب اسے ہر چیز بھول جاتی ہے ۔ مصلحت اور ضرورت کے نام پر وہ ہر گناہ کرتا ہے جو پچھلوں نے کیا ہوتا ہے۔ جب کوئی کڑوی کسیلی آواز آتی ہے تو وہ ہر گناہ کو پچھلے پر ڈال دیتا ہے اور داشتہ کے رکھوالے مسکرادیتے ہیں ۔ یوں دن گزرتے ہیں۔ مہینے گزرتے ہیں۔ سال گزرتے ہیں۔ مزدورکے حالات ویسے ہی رہتے ہیں۔ مزدور کی عزت ویسے ہی لٹتی ہے جیسے پہلے لٹتی آئی تھی۔ غریب کا چولہا آج بھی بجھا ہوا ہے۔ مگر اقتدار کی پگڈنڈی پر مزے لوٹتا ہوا اندھا انسان آج بھی دولت ، جا وہ جلال کا بھوکا لالچی صرف اپنی لالچ مٹانے کے لئے اپنے ہی ہم وطنوں کو لوٹ رہا ہے۔ جو ہاتھ روکنے والے تھے وہ ہاتھ ہی نہیں رہے۔ جن ہاتھوں میں ہمت تھی ان ہاتھوں کو یا تو کاٹ دیا گیا ہے یا پھر ان ہاتھوں کو حمائل کرنے کے لئے نرمئی گردنیں میسر کردی گئی ہیں۔ ہر طرف یا تو راہزنی ہے یا پھر شاہ رنگیلا کا راج ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے ملک میں ’پاجامہ لیکس‘ کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے۔ حکمرانِ وقت اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سیاسی بصیرت اور سابقہ تجربہ کی روشنی میں چاروں شانے چت کرنے میں گامزن ہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس کو لے کر اپنی سیاست چمکانے میں گامزن ہیں۔ خان صاحب کو لفظ ’’تبدیلی‘‘ سے واقفیت امریکی صدر اوبامہ کے دورِ اول میں اپنے نعرے ’’چینج ‘‘ یعنی تبدیلی سے وراثت میں ملی۔ اس جماعت میں تبدیلی صرف قدر آئی ہے کہ خان صاحب نے دوسری شادی کی اور پھر اسے طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد ریحام نے اپنے نام کے ساتھ سابقہ ’’خان ‘‘ بھی برقرار رکھا ہے اور اپنے ٹیلی ویثرن پروگرام کا نام بھی ’’تبدیلی‘‘ رکھ دیا ہے۔ اس جماعت کی کل تبدیلی یہی نظر آئی ہے۔ سابق حکمران جماعت نے وقتی طور پر اپنا بوریا بستر پنجاب سے گول کرتے ہوئے اپنا نیا لیڈر ’’بلاول زرداری ‘‘ کو بھٹو کے لاحقے کے ساتھ میدانِ عمل میں اتارا ہے۔ انہیں ابھی تک یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ان کی اپنی پارٹی کا منشور کیا ہے۔ وہ حالات کے مطابق اپنا نعرہ اور بصریت تبدیل کردیتے ہیں۔ کبھی وہ کشمیر کو آزاد کرانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی موجودہ وزیراعظم سے استعفیٰ لینے کی بات کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب ان کی پارٹی پانچ سال حکومت کے مزے لوٹ رہی تھی جن کا عکس ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری اور نیب اور رینجرز کی تفتیش کی صورت میں سامنے بھی آرہا ہے تب سابق جماعت نے بھول کر بھی کشمیر پر بات نہیں کی تھی۔ تب انہیں مزدور بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ تب تعلیم اور صحت کے مسائل پر بھی کوئی بات نہیں کررہا تھا۔ اب انہیں جب محسوس ہوا ہے کہ ان کی جماعت صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے تو انہیں ملکی اور غیر ملکی سبھی مسائل نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ سبھی ایک دوسرے کے خلاف یا ایک دوسرے کے حق میں بات کرکے اس ملک کے عوام کو بے وقوف بناتے آئے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے دیکھ لیں کیا ایسا نہیں ہورہا؟ ملکی سیاست میں ایک مولانا صاحب ہر جماعت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ ہرجماعت کے ساتھ صرف اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھنا چاہتے ہیں اور بیٹھتے آئے ہیں۔ وہ عمران خان جس نے کبھی شیخ رشید کو ’’شید ا ٹلی ‘‘ کہا اور اپنا چپراسی نہ رکھنے کا اعلان کیا وہی خان صاحب شیخ رشید کے علاوہ سانس نہیں لیتے۔ یہ کیسے یقین کیا جاسکتا ہے کہ وہ اقتدار میں آکر اس مولانا صاحب کو شریکِ اقتدار نہیں کریں گے؟ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ صرف بھٹو ایک ایسا لیڈر تھا جس نے اندرونی اور بیرونی سطح پر ملک کو مضبو ط کرنے کا عزم کیا تھا مگر غیر ان سے ناراض ہوئے تو انہیں بوٹوں والوں نے تختہِ دار پہ لٹکا دیا اور سبھی بونے اور قد آور تماشہ دیکھتے رہ گئے۔ یہ عوام ابھی تک قوم میں نہیں ڈھلی اور نہ ہی قوم میں ڈھالنے کے لئے کوئی لیڈر آیا ہے۔ جو لیڈر بننے لگتا ہے اسی قوم میں موجود گیلانی، ممدوٹ ، قریشی، ملک، خان سبھی مل کر اس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ صورتحال ایک جیسی ہی ہے۔ پہلے بھی اور اب بھی۔ فرق صرف شخصیات کا ہے۔ چہرہ تبدیل ہوجاتا ہے مگر ملک کو لوٹنے اور غریب عوام کا مذا ق اڑانے اور سفید پوش افراد کی پگڑیاں اچھالنے کا کام ویسا ہی جاری ہے جیسا ہوتا رہا ہے۔ ہاں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی نظامِ حکومت دیکھ لیں اس میں شاہ اپنی مرضی کے بندے ہی چنتا ہے۔ بادشاہت سے جمہوریت ہر نظامِ حکومت دیکھ لیں ۔ یا تو اپنی مرضی کے بندے چنے جاتے ہیں جو رشتہ دار ہوسکتے ہیں یا پھر اپنی سوچ کے حامل افراد ہوسکتے ہیں۔ وہی بادشاہتیں زیادہ قائم رہی ہیں جنہوں نے ہر اہم منصب پر اپنا رشتہ دار یا اپنا ہمنوا بٹھایا۔ آلِ سعود کی مثال سبھی کے سامنے ہے۔ اسی طرح جمہوریت میں جس پارٹی کے ہمنوا زیادہ ہوتے ہیں وہی حکومت بناتا ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ جس کے زیادہ دشمن ہوں اسے حکومت عطا کی جائے۔ اس لیے جو حضرات یہ کہہ کر موجودہ وزیراعظم کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں کہ انہوں نے ہر اہم منصب پر اپنا رشتہ دار یا اپنا رفیق بٹھایا ہوا ہے وہ اپنے گرد جھانکیں کہ کیا انہوں نے اپنے گرد اپنے دشمنوں کو اکٹھا کیا ہو ا ہے؟ یہ نظامِ حکومت چیز ہی ایسی ہے ۔ یہاں رشتہ دار، ہمنوا، رفیق یا زر خرید ۔ کوئی بھی نام رکھ لیں لیکن نظامِ حکومت صرف اسی کا مضبوط ہوتا ہے۔ بدلنا ہے تو ہمیں وہ سوچ بدلنی ہے جو صدیوں سے نہیں بدل رہی۔ جنہوں نے اس ملک سے باہر پیسہ اکٹھا کیا ہے وہ کس لیے واپس لائیں گے؟ جنہوں نے کرپشن کرکے اربوں روپے بنائے انہیں اخلاقیات کا درس کس لیے دیا جارہا ہے؟ کیا وہ اخلاقیات سے عاری ہیں؟ جو کرپشن کرتا ہے وہ ہر چیز سے واقف ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ اسے اللہ تعالیٰ کا بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے جو اللہ کو دھوکا دے کر پیسہ بناتا ہے وہ کیوں چکنی چپڑی باتوں میں آئے گا؟ اس لیے سوچ بدلنی ضروری ہے۔ امریکہ، چین ، برطانیہ اور ایسے کئی ممالک نے اپنی سوچ بدلی ہے۔ انہوں نے اپنا نظامِ حکومت اس سوچ سے تبدیل کیا ہے۔ ہمارے ہاں وہ سوچ پیدا نہیں ہورہی ۔ وگرنہ میٹرو کی بجائے یہاں بڑے بڑے ہسپتال، یونیورسٹیز، انڈسٹریز کو فروغ ملتا۔ بدقسمتی ہے ہماری کہ ہماری ضروریات بھی ہمیں ہمارا حکمران بتاتا ہے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے راستہ بھی حکمران دکھاتا ہے۔ عوام کو کیا چاہیے اور کب چاہیے۔ اس کے بارے میں حکمران بات کرنا بھی گورا نہیں کرتا۔ یہی وہ سوچ ہے جو ہمیں بدلنا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *