وہی دعدے، وہی قسمیں

Anjum Niazانجم نیاز

وہی وعدے، وہی قسمیں مگر افراد مختلف۔ وزیرِ مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے اعلان کیا کہ پاکستان بھر میں لوڈ شیڈنگ چھے سے اٹھ گھنٹے یومیہ سے زیادہ نہیں ہوگی۔ اُنھوں نے اوکاڑہ میں بات کرتے ہوئے حکومت کی تعریف کی کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے، تاہم خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے عابد شیر علی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنی پھرتیاں نہ دکھائیں، حکومت کی تعریف کے پل باندھنے سے بجلی پیدا نہیں ہوجاتی۔ اس کے بعد مسٹر فرمان نے دھمکی دی کہ اگران کے صوبے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم نہ ہوا تو وہ ملک گیراحتجاجی مظاہرے کریں گے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا...’’پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان سڑکوں پر ہوں گے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہوگی۔ ‘‘اُنھوں نے کہا کہ ان کی صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
جب بھی لوڈ شیڈنگ کے موضوع پر گرما گرم بحث کا آغاز ہوتا ہے تو چھوٹے صوبے، جیسا کہ سندھ اور خیبر پختونخواہ دہائی دینے لگتے ہیں کہ بڑاصوبہ، پنجاب، پیداہونے والی بجلی کا زیادہ ترحصہ اپنے استعمال میں لے جاتا ہے جبکہ وہ طویل گھنٹوں کے لیے بجلی کے بغیر موسم کی سختی کو برداشت کرتے رہتے ہیں... کچھ عرصہ پہلے پنجاب کو بھی یہی شکایت تھی۔ صوبوں کے درمیان توانائی کے مسلے پر گرماگرمی، برقی رو کے تعطل کی وجہ سے گلیوں اور بازاروں میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہرے، اسی دوران سیاسی جماعتوں (خاص طور پر جب وہ اقتدار سے باہر ہوں)کی طرف سے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو اپنے ایجنڈے میں نمبر ون قرار دینا ورا اہم سیاسی کھلاڑیوں کی ٹی وی اور پالیمنٹ میں دھواں دھار تقریریں اور بیانات ہر سال خاص طور پر موسمِ گرما میں، ایک دہرایا جانے والا ڈرامہ لگتا ہے۔چنانچہ اس موسمِ گرما کے آغاز پر بھی صورتِ حال ’’معمول کے مطابق‘‘ ہے۔
سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کو کون بھلا سکتا ہے ؟ بہت قابلِ رشک صحت کے مالک تو نہیں تھے لیکن تھے دلیر انسان۔ اُنھوں نے اپنے کندھوں پرپاور پلانٹس پر مبینہ طور پر وصول کی جانے والی کک بیکس کا وزن اٹھایا اور حاصل ہونے والی ’’جمع پونجی‘‘ سے لندن میں جائیداد خریدلی اور ایسا کرتے ہوئے قوم سے ’’راجہ رینٹل ‘‘کے لقب سے سرفراز ہوئے لیکن برا نہ منایا۔ جب اُنھوں نے قطعی لہجے میں کہا تھاکہ بہت جلد لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا جائے گا تو ہم نے ان کی بات پر یقین کرلیا تھا۔ تاہم ایسا کچھ نہ ہوا، لیکن نہ اُنھوں نے اپنی خو چھوڑی اور نہ ہم نے اپنی وضع(یقین کرنے کی )بدلی یہاں تک کہ موصوف وزیرِ اعظم جا بنے۔ اس وقت واقعتا امید پیدا ہوگئی تھی کہ اب راجہ صاحب ماضی کا کفارہ ادا کردیں گے۔ اس وقت تک لوگ اُنہیں ’’بجلی کا راجہ ‘‘ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ کچھ مزاحیہ ٹی وی پروگراموں میں لتا جی کا ایک مشہور نغمہ . ..’’راجہ کی آئے گی بارات ‘‘ بہت رش لینے لگاتھا۔ اس وقت راجہ پرویز اشرف کے پاس بہت اچھا موقع تھا کہ وہ اُن غیر ملکی سرمایہ کاروں کو واپس پاکستان آنے کی دعوت دیتے جنہیں ان کے ’’باس‘‘ نے ڈرا کر بھگا دیا تھا ۔ ان میں سے بہت سے سرمایہ کار بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیار تھے۔ میں ذاتی طور پر ایک انوسٹر کو جانتی ہوں جنہیں اس ملک سے رات کے اندھیرے میں جان بچاکر بھاگنا پڑا کیونکہ اُنھوں نے ایک بڑی شخصیت کے ہاتھ اپنا پاور پلانٹ من پسند قیمت پر فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایک اور بزنس مین امریکہ سے اسلام آباد آئے ۔ ان کے ہمراہ امریکی سرمایہ کار بھی تھے۔ ان کی ملاقات اس وقت کی حکمران جماعت کے چیف سے کرائی گئی تاکہ وہ ڈیل طے کرلیں۔ تمام معاملات طے پاگئے لیکن اس ٹیم کو فوری طور پر واپس امریکہ جانا پڑا کیونکہ ان سے ’’کسی ‘‘نے تیس فیصد کمیشن کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ دونوں مثالیں جمہوریت کے اس دور میں ہونے والی بدعنوانی کے سمندر سے لیے گئے چلوبھر پانی کے مترادف ہیں(اگرچہ یہ بھی محاورے کی حد تک اپنا مقصد پورا کرجاتے ہیں)۔ ایک اور صاحب ، جنھوں نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستانیوں کی باعزت زندگی یقینی بنائیں گے، وہ ہمارے سابق آرمی چیف تھے۔ جنرل کیانی صاحب نے اپنے فوجی جنرلوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ کی طر ف سے فوج کو ملنے والی امداد کا رخ عوام کی بھلائی کے کاموں کی طرف موڑدیں گے۔ اُنھوں نے کہا تھا کہ جو رقم دفاعی بجٹ پر خرچ ہوتی ہے ، اُسے ’’عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے خرچ کیا جائے گا۔‘‘میری خواہش ہے کہ ایسا ہی ہوتا، لیکن ان کے اچھے جذبات عملی صورت میں ڈھلتے دکھائی نہ دیے۔
PEW (پاکستان اکانومی واچ) کے صدر مرتضیٰ مغل کا کہنا ہے...’’توانائی کا بحران دھشت گردی سے بھی بدتر ہے۔‘‘یہ بات سب جانتے ہیں اور ہر آن ایسے بیانات بھی ہمارے کانوں میں گھونجتے رہتے ہیں لیکن اس بحران کے حل کی عملی صورت کیا ہے ؟ خیبر پختونخواہ کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان اور وفاقی وزیر عابد شیر علی کے لیے بہتر ہوگا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بیانات دینے کی بجائے عملی طور پر کچھ کرکے دکھائیں۔اب عوام ان بیانات سے تنگ آچکے ہیں کیونکہ ان سے دوغلے پن کی بو آتی ہے۔ انہیں واپڈا کے سابق چیئرمین شکیل درّرانی ، جنہیں زرداری حکومت نے ستمبر 2012 کو چلتا کردیاتھا، کی بات سننی چاہیے۔ انھوں نے 2011 کے موسمِ گرما میں کہہ دیا تھا کہ اگلے سات سال تک، یعنی 2018 تک، لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
نواز شریف صاحب نے بھی انتخابات سے پہلے بہت نعرے لگائے تھے لیکن اب انہیں احساس ہورہاہے کہ اس میں بہت دشواریاں حائل ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی دشواری کیش کی کمی ہے۔ اگر دیگر اقوام، جیسا کہ سعودی یا امریکی ، ہماری مدد کو نہ پہنچے تو یہ موسمِ گرم حکومت کے پاؤں تلے زمین سرکا دے گا ۔پاکستان میں زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ دھشت گردی اورتوانائی کے بحران کے لیے ہومیو پیتھک نسخے تجویز کیے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس نہ کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی کوئی سوچ۔ بس بیانات کے بل بوتے پر ہی جمہوریت کا سفر جاری ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *