جاوید اختر حب الوطنی کا ڈرامہ کررہے ہیں!

بی آر بوگیوانی

ہر ملک کے باشندے اپنے ملک کو اپنی جائیداد سمجھتے ہیں جو انہیں فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہے کہ کون اس ملک میں رہ سکتا ہے، کیسے رہ سکتا ہے اور کیا کام کر سکتا اور کن چیزوں سے باز رہ سکتا ہے۔ انہیں کس طرح کے نعرے لگا کر اپنی حب الوطنی ثابت کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس میں جب مذہب کی مداخلت ہوتی ہے تو   یہ طے کرنے کا بھی حق مل جاتا ہے کہ کون سی چیزیں کھائی جائیں اور کن چیزوں سے بچا جائے۔

javed

جب کہیں اقلیتیں ان چیزوں سے بچنا آسان نہیں پاتیں تو تشدد کے واقعات بڑھتے ہیں۔ تب اقلیتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور ان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ اکثریت کے بنائے گئے قوانین کی پابندی کریں یا ملک کو چھوڑ دیں۔ ایسی ایک قابل غور ریاست بھارت ہے۔ جہاں بھارتی جنتا پارٹی نے اقلیتوں کے لیے ماحول بہت ناساز بنا دیا ہے۔ نتاشا کول نے کچھ ایسے واقعات ذکر کیے ہیں جو اس خوف کے ماحول کا باعث بنے ہیں۔

بی جے پی ۲۰۱۴ میں الیکشن جیت کا حکومت میں آئی۔ یعنی اب رام کے بیٹے حکومت میں ہیں اور حرام کے بیٹے ان کے ذیر تسلط ہیں۔ اس دور میں بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانا ہی بھارتی حب الوطنی کا ثبوت مانا جاتا ہے۔ اسی ضرورت نے ایک مشہور سیکور، لبرل شاعر ، سکرین پلے رائٹر اور ٹی وی شو جج محترم جاوید اختر کو بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے بھارت ماتا کی تشریح ضروری ہے۔

بدلتا بھارت

بھارت میں بھارت ماتا کا کنسیپٹ مختلف ادوار میں بدلتا رہا ہے۔ اشکوک کی بھارت ماتا اکبر کی بھارت ماتا سے بہت مختلف تھی۔ بھارت ماتا کی اسوقت اہمیت کم ہوئی جب گاندھی نہرو اور جناح کی کوششوں سے بھارت ٹکڑوں میں تقسیم ہوا۔ مستقبل میں یہ مزید اہم یا غیر اہم بن سکتا ہے مثلا نیپال اور بھوٹان کی ریاستیں اگر بھارت کا حصہ بن جاتی ہیں یا کشمیر اور نارتھ ایسٹ انڈیا آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایک مشہور مئورخ عرفان حبیب نے لکھا ہے : بھارت ماتا کا قدیم یا ماضی قریب کے انڈیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ سوچ یورپ کی تخلیق کردہ ہے۔ حبیب کے مطابق مادر وطن بھی ایک یورپی اختراع ہے ۔

بھارت ماتا

۱۹۲۱ میں موہنداس کرم چند گاندھی نےاتر پردیش انڈیا میں  ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا  اور اس کا نام کاشی ودیا پتھ رکھ دیا۔ ۱۵ سال بعد انہوں نے بھارت ماتا مندر کی بنیاد رکھی۔ اس مندر میں کوئی دیوی دیوتا نہیں بلکہ پورے بھارت کا ایک نقشہ ماربل پر بنا ہوا رکھا گیا ہے جس میں بھارت پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو ایک ہی ملک دکھایا گیا ہے کیونکہ یہ نقشہ تقسیم ہند سے پہلے کا ہے۔ پورے نقشہ کو دیکھتے ہوئے علاقے کو جنوبی ایشیا کی ماتا کا نام دینا چاہیے تھا۔ بہرحال اب یہ مندر بہت پرانا اور کھنڈر بن چکا ہے۔ لوگ اس میں کوڑا پھینکتے ہیں اور ہر سال صرف چودہ اگست کو اس کی صفائی کی جاتی ہے۔

بھارت ماتا کی جے

آزادی کی تحریک کے دوران بھارت کو ایک دیوی کا نام دیا گیا۔ بھارت ماتا ۔ جیتے رہو، زندہ باد جیسے نعرے تو ہمیشہ سے عام ہیں۔ انگریزوں کے خلاف جدوجہد نے ایک نیا نعرہ بھارت ماتا کی جے ہندوستانی لوگوں کو دیا۔ لیکن یہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں تھا کیونکہ مسلمانوں کی مذہبی کتاب قران مجید  کے مطابق اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنا شرک ہے۔

البتہ یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ ۱۹۸۵ کے سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق تمام شہریوں پر یہ لازمی نہیں ہے کہ وہ اپنے مذہب کے خلاف جانے والے نعرے اپنے منہ سے ادا کریں۔ انہیں صرف قومی ترانے کے احترام میں خاموشی اختیار کرنے کا اختیار ہو گا۔

اسد الدین اویسی نے حال ہی میں نعرہ لگایا کہ میں بھارت ماتا کی جے کا نعرہ کبھی نہیں لگائوں گا چاہے مجھے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے۔ ایک بھارتی مسلمان اور پارلیمنٹیرین نے اسد اویسی کی نعرہ نہ لگانے کے عزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئین میں یہ نعرہ لگانے کا حکم نہیں ہے تو جو لباس وہ پہنتے ہیں اس کا حکم آئین  میں کہاں ہے۔ انہوں نے پھر بھر پور جوش سے یہ نعرہ تین بار دہرایا اور اپنے لیڈروں کی داد حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ جب وہ بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگا رہے تھے تو انہیں پاکستان ماتا کی جے کا نعرہ بھی لگانا چاہیے تھا کیونکہ اس نعرہ کی تخلیق اور نقشہ کے مطابق پاکستان بھی اس کا حصہ ہے ۔ ان کی بیوی شبانہ اعظمی نے کہا کی کیا اسد اویسی بھارت امی کی جے کا نعرہ  لگانا پسند کریں گے؟

بعد میں اویسی نے کہا کہ دوسرے اگر بھارت ماتا کی جے کا نعرہ لگائیں تو انہیں کوئی برائی نظر نہیں آتی البتہ وہ خود بھارت زندہ باد کے نعرہ کو ترجیح دیں گے۔ اویسی کی بات سے اتفاق نہ رکھنے والے بہت سے لوگوں نے اپنے خون سے یہ نعرہ لکھ کر دکھایا۔ یہ خوف یا انتہائی درجہ کی حب الوطنی کا نتیجہ نظر آتا ہے۔

۱۶ مارچ کو ایک مسلمان ایم ایل اے وارث پٹھان کو یہ نعرہ نہ لگانے کی وجہ سے اسمبلی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بی جے پی کے ایک ممبر نے معافی مانگنے کی صورت میں انہیں واپسی کی امید دلائی لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔ اختر ایک مسلمان بیک گراونڈ سے تعلق رکھنے والے  ملحد ہیں ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ملحد بھارتی دیوتائوں کو پوجنے کی بات کیوں کرے گا۔ ایک ویڈیو  میں آپ جاوید اختر کو بڑے انہماک کے ساتھ لارڈ کرشنا کے بھجن گاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اختر ایک ملحد سے زیادہ کرشنا بھگوان کے پجاری نظر آتے ہیں۔

کشمیر کے بارے میں بھی بیانات دیتے وقت جاوید اختر نے ہمیشہ ہندو حکمرانوں کی چاہت کا خیال رکھا ہے اور انہیں خوش کرنے کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ ۲۰۱۴ میں جب ایشیا کپ میں بھارت پاکستان سے ہارا تو ۶۷ طلبا نے پاکستان کی جیت کا جشن منایا۔ اختر نے اس موقع کو ہاتھ سے نا جانے دیا اور ٹویٹر پر لکھا: پاکستانی جیت کی خوشی منانے والے کشمیریوں کو یونیورسٹی سے رسٹکیٹ کر کے کشمیر بھیج دینا چاہیے تھا۔

اس بیان پر تنقید کرنے والے کو اختر کی طرف سے دیا گیا جواب اور بھی عجیب تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی شکست کا جشن منانے والے کشمیری غدار ہیں۔ کیا اختر کا دماغ خراب ہے جو انہوں کے کشمیریوں کو غدار کہہ دیا ہے صرف اس لیے کہ انہوں نے ایک اچھا کھیل دکھانے والی ٹیم کی حوصلہ افزائی کی ہے؟ اگر اختر جیسے لوگوں کے ہاتھ میں حکمرانی کی طاقت آ جائے تو اور بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اختر کی انتہا پسندی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ انہوں نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اگر پاکستان کشمیریوں کے مطالبہ پر ان کو سپورٹ کرنا نہیں چھوڑتا تو ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم بلوچستان کے لوگوں کی مدد کریں۔ ان کو اگر لگتا ہے کہ بلوچستان کے مسلمانوں کے ساتھ کوئی ظلم ہو رہا ہے تو وہ پاکستان کا انتظار کیوں کر رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *