ہٹلر کیا کرنا چاہتا تھا؟ دو ہزار سے زائد دستاویزات میں انکشاف

Hitler

ہٹلر نازی سٹیٹ کو دوسری جنگ عظیم میں فتح کی صورت میں کیا حکمت عملی بنا رہے تھے اس بارے میں معلومات کا ایک بڑا ذخیرہ منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس سلسلے میں دو ہزار سے زیادہ تصاویر اور دستاویزات میونخ آر کائیوز کے ذریعے سامنے آئی ہیں۔ دستاویزات میں فتح کی صورت میں ہٹلر کے بنائے گئے پلان کا پتہ چلتا ہے۔ تمام پلان اسوقت ناکام ہو گئے جب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ ہٹلر ہمیشہ شہر کو بہت ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا پلان تھا کہ شہر کے گرد دیوار بنائی جائے اور شہر کی سب سے اہم جگہ پر باز کا مجسمہ ایک اونچی عمارت پر نصب کیا جائے۔ ان کا ارادہ تھا کہ خوبصورت تعمیرات اور روڈ تعمیر کیے جائیں جو ایک ہزار سال تک کا عرصہ نکال سکیں۔ وہ تمام تعمیراتی کام اگست ۱۹۴۸ کے اوائل میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ ہٹلر ۱۳۰ لمبی ریل گاڑیاں بھی تیار کرنے کا ارادہ رکھتے تھے جو مسافروں کے فتح کیے گئے علاقوں تک پہنچانے میں استعمال ہو سکتیں لیکن ان کا یہ خواب صرف تصاویر تک محدود رہ گیا۔ اسے کے علاوہ ان کے عزم تھا کہ ڈبل ڈیکر بسیں جن میں باتھ ٹب، ہیئر سالون، سینما اور فلیک گن موجود ہوں سڑکوں پر دوڑتی نظر آئیں۔ ۹۰۰ فٹ کا ایک گنبد، جو بڑی بڑی رومن اور فرانسیسی عمارات کو پیچھے چھوڑ دے ہٹلر کے پلان میں شامل تھا۔ ہٹلر میونخ شہر کا نام تک بدل دینا چاہتے تھے۔ اتفاق سے دشمن فوجوں نے وہ تمام عمارات ڈھا دیں جنہیں ہٹلر خود ڈھا دینا چاہتے تھے۔ البتہ کلاک ٹاور دشمن کی بمباری سے محفوظ رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *