میں اگر سوختہ سیاہ ہوں تو یہ روز سیاہ

karachi-liyari_400

محمد اظہار الحق

وہ پانچ تھے، ایک ہی ملک سے تھے اور پانچوں پاکستانی تھے۔پھر ان میں سے ایک نے اپنی شملے والی پگ کی طرف اشارہ کیا اور کہا میں پنجابی ہوں۔ دوسرے نے کالی لنگی سر پر باندھی اور بندوق گلے میں ڈال کر نعرہ لگایامیں پختوں ہوں۔ تیسرے نے اجرک اوڑھی اور کہا میں سندھی ہوں ، چوتھے نے کڑھی ہوئی واسکٹ پہن کر کہا میں بلوچی ہوں ۔ پانچویں نے کہا ، نہیں ، ہم سب پاکستانی ہیں۔چاروں نے اصرار کیا نہیں ہم بلوچ ہیں، ہم سندھی ہیں، ہم پختوں ہیں ، ہم پنجابی ہیں تو پھر پانچویں نے کہا کہ ایسا ہے تو ایسا ہی سہی ، پھر میں بھی مہاجر ہوں۔
الطاف کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ کچھ لوگ اس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔افسوس!ان کی نظر دیواروں کے پار دیکھنے سے قاصر ہے۔ کچھ لوگ الطاف حسین کو ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کو الطاف حسین کہ رہے ہیں اور برطانوی پولیس کو طالبان کا ہم نوا قرار دے رہے ہیں۔ افسوس! وہ بچوں جیسی بات کر رہے ہیں یا دوسروں کو بچہ سمجھ رہے ہیں۔ افراط اور تفریط سے کوئی مسئلہ سلجھتا ہے نہ اس کی تفہیم ہوتی ہے۔ اگر ہر شخص تصویرکے صرف اس حصے کو مکمل تصویر سمجھے جو اسے نظر آرہا ہے تو وہ ہمیشہ گمراہی میں رہے گا۔ نتائج دیکھ کر شور برپا کرنے والے اور اسباب پر غور نہ کرنے والے اس بد قسمت کسان کی طرح ہیں جس نے بھوسی سے غلہ الگ کیا۔ پھر غلے کو کھلیان ہی میں چھوڑ کر گھر گیا اور سو گیا۔ بارش نے اس غلہ برباد کر دیا اور اب وہ رو پیٹ رہا ہے لیکن یہ تسلیم نہیں کر رہا کہ پیروں پر کلہاڑی کسی اور نے نہیں ، اس نے خود ماری ہے۔
کوئی لیڈر ناگزیر نہیں ہوتا۔قائد اعظم چلے گئے، بھٹو رخصت ہو گئے۔ الطاف حسین اس ابتلا سے بچ نکلے تب بھی ایک دن دنیا چھوڑ جائیں گے۔ نواز شریف زرداری سب فانی ہیں ۔ لیکن پاکستان کے عوام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کا ایک بڑا حصہ الطاف حسین کی قیادت تسلیم کرنے پر کیوں مجبور ہوا؟
جن لوگوں نے تقسیم کے وقت پیش گوئی کی تھی کہ پاکستانی قومیتوں میں بٹ جائیں گے، ہم نے روز اول ہی سے ان کی پیش گوئیاں کو درست ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دیں۔ہم پاکستانی بننے کے بجائے لسانی گروہوں میں منقسم ہوگئے۔ وہ لوگ جو سرحد پر ہجرت کر کے جنوب میں آباد ہوئے تھے۔ یہ تماشا دیکھتے رہے اور ایک مدت تک دیکھتے رہے۔ اگر ہم غور کریں تو شمالی ہندوستان سے آئے ہوئے پاکستانیوں میں اور مشرقی پاکستانیوں میں گہری مماثلت تھی۔ یہ لوگ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور وڈیرہ شاہی سے کوسوں دور۔ ہم آج تک یہ بات نہیں سمجھ پا رہے کہ مغربی پاکستان کے سرداروں، جاگرداروں اور خانوں کے ساتھ مشرقی پاکستانی نباہ نہیں کر سکتے تھے، لیکن بچے کھچے پاکستان کے جنوبی علاقوں میں آکر بسنے والے پاکستانی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھی ہمارا رنگ ڈھنگ دیکھتے رہے جوو ہی کا وہی رہا۔انہوں نے دیکھا کہ جو لوگ اسمبلیوں میں آتے ہیں وہ اپنی سرداریوں، زمینداریوں اور جاگیرداریوں کے گھمنڈ میں رہتے ہیں۔ ان میں تعلیم ہے نہ متانت۔ گہرانی ہے نہ سنجیدگی۔ یہ تو ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے۔ ساری دنیا نے یو ٹیوب پر دیکھا۔ سردار سیاست دان کس طرح ایک خاتوں سیاست دان کی توہین کر رہے تھے اور ٹھٹھے مار مار کر ہنس رہے تھے۔احاطہ تحریر میں لایا جا سکتا ہے نہ زبانی بتایا جا سکتا ہے۔نقل کفر تو کفر نہیں ہوتی لیکن فحاشی کی نقل فحاشی ہی ہوتی ہے ۔ اردو بولنے والوں کے توہین امیز نام رکھے گئے۔انہیں دانستہ یا نا دانستہ باور کرایا جا تا رہا کہ میاں! تعلیم کی یہاں کوئی حیثیت نہیں، اس ملک میں اگر اہمیت ہے تو جاگیروں کی ہے، موروثی نشستوں کی ہے اور اسلحہ کی ہے۔معاف کیجیے گا ۔ اردو بولنے والے اگر اپنے آپکو مہاجر نہ کہلواتے تو کیا قیامت تک مکڑ، تلیر اور مٹروے کہلواتے رہتے؟آج جو لوگ اعتراض کر رہے ہیں کہ الطاف حسین نے اپنے پیروکاروں سے کہا کہ ٹیلی ویژن اور وی سی آر فروخت کرواور بندوقیں ، کلاشنکوفیں خریدو، انہیں یہ یاد نہیں کہ اکبر بگٹی اسلام آباد آتے تھے تواڑھائی سو کلاشنکوف بردار محافظ ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اور یہ گوارا تھا۔ اس پر کوئی متعرض نہ تھا۔اندروں سندھ سے وڈیرے کراچی جاتے تھے تو ان کی گاڑیوں کے ساتھ اوران کے محلات پر ایسی ایسی ہیئت کذائی والے اسلحہ بردار ہوتے تھے کہ دیکھ کہ وحشت ہوتی تھی۔ہمیں یہ تو معلوم ہے کہ ایک گروہ اپنے حقوق مانگتے وقت جارحیت پر اتر آتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اندروں سندھ سے ان امیدواروں کو گھروں سے بلا بلا کر افسریاں پیش کی گئیں جو مقابلے کے امتحان میں فیل ہو چکے تھے۔ہم انصاف نہیں کرتے ۔ ہم انصاف پسند ہوتے تو ایک گروہ پر نہیں ، سب گروہوں پر یکساں اعتراض کرتے ۔ اگر یہ نعرہ لگے کہ جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ، اگر مشرقی پنجاب سے آنے والے چیف منسٹروں سے آئے دن جپھیاں ڈالی جاتی رہیں، جو بستیاں چھوڑ کے آئے تھے، انہی کے نام تبدیل کر کے ایبٹ آباد سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک کے لوگوں کو اجنبیت کی دیوار کے اس پار دکھیل دیا جائے، بلوچستان میں زبانوں اور قومیتوں کی بنیا د پردرجنوں سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں، اگر اس سب کچھ پر اعتراض نہیں تو پھر ایک گروہ کے چوڑی دار پجامے پہننے اور مہاجر کہلانے پر کس طرح اعتراض کیا جا سکتا ہے؟
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سپاہ
خود دکھایا ہے مرے گھر کے چراغاں نے مجھے
جو دوست تمسخر اڑاتے ہیں کہ الطاف حسین کے ٹیلی فونک خطابوں کو سننے والے روبوٹ لگتے ہیں ، وہ یہ بھی تو بتائیں کہ ان کے پاس متبادل کیا ہے؟ کیا وہ سندھ کارڈ کھیلنے والی پیپلز پارٹی میں قبول کر لیے جائیں گے؟ایک بار پھر معاف فرمائیے گا، حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ گلے میں لٹکانے والے پنجاب میں تو آکسیجن بھی اس بنیاد پر تقسیم ہوتی ہے کہ آرائیں کون ہے، کشمیری کون ہے، جاٹ کون ہے ، اس سانحہ کو ہم پی جاتے ہیں کہ چند ماہ پہلے پی این اے کے کارکنوں نے اسفندیارولی کو اردو بولنے کی اجازت نہیں دی اور اس نے منتیں کر کے انہیں سمجھایا کہ میڈٰیاکے نمائندوں کو پشتو نہیں آتی۔ آج اگر کراچی اور حیدر آباد کے عوام الطاف حسین جیسی سیماب صفت شخصیت کی قیادت قبول کر نے پر مجبور ہیں تو اس حد تک انہیں خود ہم لوگوں نے دکھیلا ہے۔ ہم پنجابی سندھی پٹھان بننے کے بجائے صرف پاکستانی رہتے تو وہ بھی مہاجر نہ بنتے۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ایم کیو ایم سے غلطیاں ہوئیں۔ الطاف حسین نے جب مہاجر کا لفظ اپنی جماعت سے ہٹایا توچڑیان کھیت چگ چکی تھیں، چھاپ لگ چکی تھی۔اگر وہ پاکستان بھرکے پسے ہوئے طبقات کو ساتھ لے کر پہلے دن ہی سے وڈیرہ شاہی کے خلاف محاذ بناتے تو آج پورے ملک کی مڈل کلاس ان کے ساتھ ہوتی !
اب بھی وقت ہے کہ ایم کیو ایم زیادہ اہمیت اپنے عوام کو دے۔ اس الزام پر ہنسا ہی جا سکتا ہے کہ برطانوی اسٹیبلشمنٹ الطاف حسین کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ وہی سیاسی جماعتیں زندہ رہتی ہیں جو سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہتی ہیں اور ایک مقام پر اٹک کر نہیں رہ جاتیں بلکہ رکاوٹ دور کر کے آگے بڑھتی ہیں ۔ پیراہن کو خون میں تر کر کے لہرانے سے کچھ حال نہیں ہوتا ، ایم کیو ایم مانے یا نہ مانے، اسے نئی قیادت کی ضرورت ہے۔!

میں اگر سوختہ سیاہ ہوں تو یہ روز سیاہ” پر ایک تبصرہ

  • جولائی 24, 2013 at 11:58 PM
    Permalink

    Thanks for all your valuable labor on this site. My niece take interest in carrying out internet research and it's simple to grasp why. A number of us notice all regarding the lively method you convey insightful tips on the web blog and therefore recommend response from some others on the subject and our princess is now learning a great deal. Have fun with the remaining portion of the new year. You are performing a powerful job.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *