10 ایسی چیزیں جن کے بارے میں آپ غلط فہمی کا شکار ہیں

بشکریہ:ڈاکٹر نذیر مشتاق

surprised

زندگی میں بہت سی چیزوں کے بارے میں ہم بلاوجہ وہم کا شکار رہتے ہیں، اصل میں سنی سنائی باتوں کی وجہ سے ہم بعض بے ضرر چیزوں کو بھی اپنے لیے نقصان دہ سمجھنے لگتے ہیں- آئیے ایسی ہی دس چیزوں کے بارے میں آپ کو بتائیں جن کے بارے میں آپ شائد ابھی تک کسی غلط فہمی کا شکار رہے ہوں گے-

۱)مچھلی اور دہی ملاکر کھانے سے بدن پر سفید داغ نمودار ہوتے ہیں

جی نہیں… یہ ایک باطل عقیدہ ہے، اگر ایسا ہوتا تو سبھی بنگالیوں کے جسم داغدار ہوتے، وہ لگ بھگ روزانہ یا ہفتے میںکم از کم چار بار مچھلی اور دہی ایک ساتھ ملاکر کھاتے ہیں۔ مچھلی اور دہی ایک ساتھ کھانے سے جسم پر سفید داغ ظاہر ہوتے ہیں نہ ہی جسم کا کوئی حصہ سفید ہوتا ہے۔ ’’سفید داغ‘‘ ایک خود مصون بیماری ہے جس میں جسم کی جلدکے نیچے موجود خلیات ’’ملانوسائٹ‘‘ ضائع ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے جسم کے مختلف حصوں پر سفید داغ ظاہر ہوتے ہیں اور دوسری بیماری لیکوڈرما اُن میں بھی پائی جاتی ہے، جو مچھلی کھاتے ہی نہیں ۔ اسلئے اگر آپ مچھلی اور دہی ایک ساتھ ملاکر کھانا چاہیں تو شوق سے کھائیے۔ آپ کے بدن پر کوئی سفید داغ ظاہر نہیں ہوگا۔

۲)آرتھرائیٹس ایک لاعلاج بیماری ہے

جی نہیں… آرتھرائیٹس کی کئی قسمیں ہیں اور اکثر اقسام قابل علاج ہیں۔ اصلی بات تو یہ ہے کہ آرتھرائیٹس یعنی ’’جوڑ کا ورم‘‘ کی بنیادی وجہ کیا ہے؟۔ چوٹ، عفونت، سِل کی وجہ سے کسی بھی جوڑ میں ورم اور درد کے علاوہ سُرخی نمودار ہوسکتی ہے اور مناسب علاج سے تینوں علامتیں دور ہوجاتی ہیں اور جوڑ پھرسے نارمل ہوجاتا ہے۔ اوسٹیوآرتھرائیٹس اور ریح ہار (ریموٹائیڈ آرتھرائیٹس) جوڑوں کی بیماریاںہیں جو اگرچہ لاعلاج ہیں مگر ایسی دوائیاں دستیاب ہیں جن کا لگاتار استعمال کرنے سے دونوں قسم کے آرتھرائیٹس پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ کسی بھی قسم کے آرتھرائیٹس کے علاج کیلئے کسی ماہر معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے اور ورزش شروع کرنے سے پہلے کسی فزیو تھراپسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ جوڑوں کی صحت مندی کیلئے وزن کو اعتدال میں رکھنا بے حد ضروری ہے۔ علاج ازیں ایک متوازن و مناسب غذا کھانے کے علاوہ ہلکی پھلکی ورزش بھی بے حد ضروری ہے۔

۳)چائے پینے سے آپ کے بچے کی جلد کالی ہوجائے گی

جی نہیں… یہ ایک باطل عقیدہ ہے اور شاید ماں باپ یہ جھوٹ اسلئے بولتے ہیں کہ اُن کا بچہ چائے کی بجائے کوئی اور مشروب استعمال کرے۔ اس موضوع پر کوئی خاص تحقیق نہیں ہوئی ہے۔ جہاں تک ماہرین کی رائے ہے، چاہئے کی کئی قسمیں ہیں ۔ اگر بچے سبز چائے یا بغیر دودھ والی چائے پینے کی عادت ڈالیں تو یہ اُن کے لئے بے حد فائیدہ مند ہے کیوں کہ سبز چائے میں مانع تکسیری اجزاء موجود ہیں جو جسم کے خلیات خصوصاً جلد کی خلیات پر مثبت اثر مرتب کرتے ہیں۔ دودھ والی چائے بار بار اُبالنے سے ’’تیزابی‘‘ بن جاتی ہے جس کو پینے کا کوئی فائیدہ نہیں ہے، اس سے چہرے کی رنگت پر فرق پڑسکتا ہے۔ سبز چائے صحت کیلئے مفید ہے اور نظام ہاضمہ میں مدگار ثابت ہونے کے علاوہ دماغ کو بھی تروتازہ رکھتی ہے۔ اسلئے بچوں کو سبز چائے پینے کی طرف راغب کریں، اُن سے یہ نہ کہیں کہ چائے پینے سے اُن کے چہرے کا رنگ کالا ہوجائے گا۔ صاف صاف کہیں کہ چائے کے بدلے اگر دودھ یا کسی میوے کا رس لے لیں تو زیادہ بہتر ہے۔

۴)سانس روکنے سے ہچکیاں آنا خود بخود بند ہوجائیں گی۔

جی نہیں … ہچکیاں اُس وقت اچانک شروع ہوتی ہیں جب درد کی وجہ سے پردہ صفاقسکڑتا ہے۔ پردہ صفاق چھاتی اور پیٹ کے درمیان عضلات کا بنا ایک مضبوط پردہ ہے جو جسم کے ان دوحصوں میں موجود اعضاء کو الگ کرتا ہے۔ پردہ صفاق میں درد کی وجہ سے سانس اچانک رُک جاتی ہے جس سے آواز پیدا کرنے والے دو ’’کارڈس‘‘ بند ہوجاتے ہیں اور ان کے بند ہونے سے ’’ہچکی‘‘ کی آواز ظاہر ہوتی ہے۔ درد کی وجہ معدہ سے خوراک کی نالی میں تیزاب کا اُلٹا بہائو بھی ہوسکتا ہے جس سے ہچکیوں کا آغازہوسکتاہے۔ پردہ صفاق یا جگر کی ہیجانیت سے بھی ہچکی آسکتی ہے یا پھر کسی وجہ سے اچانک معدہ کا پھول جانا بھی ہچکیوں کو دعوت دے سکتا ہے۔ اسلئے ہچکیاں شروع ہوتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بنیادی وجہ کیا ہے۔ مثلاً اگر کوئی فرد گرم گرم چائے کے بعد آئیس کریم کھائے تو ہچکیاں شروع ہوسکتی ہیں، یا حد سے زیادہ سرد کوکا مشروبات پی لے تو بھی ہچکیاں آسکتی ہیں۔ ہچکیاں کسی خاص قسم کی پریشانی اور ذہنی دبائو سے بھی شروع ہوسکتی ہے۔ ہچکیاں خودبخودور ہو جاتی ہیں۔ ہچکیوں کے درمیاں پانی پیتے رہئے، چند منٹوں کے بعد ان سے نجات ملے گی، مگر یاد رکھئے، سانس روکنے سے ہچکیاں بند نہیں ہوں گی۔

۵اگر آنکھ بار بار پھڑکتی ہے تو عینک کا استعمال کرنا ضروری ہے۔

جی نہیں… شاید آپ کو معلوم نہیں کہ آنکھ پھڑکنے کی وجہ ، دماغ سے آنکھوں تک ایک ساتھ کئی اِشاروں کا آغاز ہونا ہے۔ یہ بھی صرف ایک فرضیہ ہے ، کوئی نہیں جانتا کہ اس کی اصلی اور بنیادی وجہ کیا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ کوئی کسی کواگر دل کی گہرائیوں سے یاد کرے تو دوسرے کی آنکھ پھڑکتی ہے۔ آنکھ پھڑکنا کوئی بیماری نہیں ہے یہ مسئلہ دو تین بعد خود بخود دور ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر یہ کوئی بیماری ہو یا کسی بیماری کی علامت ہو تو اس کے ساتھ اور بھی علامات ظاہر ہوں گے۔ مثلاً آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ، سرمیں شدید درد، دائیں طرف بازو یا ٹانگ میں کمزوری وغیرہ۔ جب آنکھ بار بار پھڑکے تو اس کا مطلب ہے کہ فرد ذہنی پریشانی میںمبتلا ہے اور نیند میں خلل کا شکار ہے یا پھر کمپوٹر کا زیادہ استعمال کرتا ہے اور کمپوٹر پر کام کرنے کے دوران آرام نہیں کرتا ہے یا کم از کم آنکھوں کو آرام نہیں دیتا ہے۔

۶کم روشنی یا (دُھندلی روشنی) میں مطالعہ کرنے سے آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں۔

جی نہیں … دھندلی روشنی میں مطالعہ کرنے سے آنکھوں پر دبائو پڑسکتا ہے لیکن اس سے آپ کی آنکھیں خراب نہیں ہوں گی۔ اگر آپ کم روشنی میں مطالعہ کرتے ہیں تو دبائو کی وجہ سے آپ کے سر میں درد ہوگا لیکن ایسی کوئی شہادت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ کم روشنی میں پڑھنے سے آنکھیں خراب ہوجاتی ہیں۔ بہرحال سر درد سے چھٹکارا پانے کیلئے اچھی اور مناسب روشنی میں مطالعہ کریں اور مطالعہ کرتے وقت اپنی کمر بھی سیدھی رکھیں۔

۷عورتوں میں ’’سفید آب‘‘ جاری ہونا اُن کی کمزوری کا سبب بنتا ہے:

جی نہیں… عورتوں میں ’’سفید آب‘‘ جاری ہونے سے اُن میں کمزوری پیدا نہیں ہوتی ہے بلکہ کمزوری (دیگر وجوہات سے)کی وجہ سے سفید آب کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ سنِ بلوغت کے بعد ہر عورت میں سفید آب جاری ہوتا ہے۔ یہ بالکل نارمل ہے ، ہاں اگر اس سے خاص قسم کی بو آتی ہو اور یہ دہی یا پنیر کی مانند نظر آئے اور حارش شروع ہوتو کسی ماہر معالج سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ ’’سفید آب‘‘ ہر عورت میںمختلف مقدار میں جاری ہوتا ہے۔ ماہواری کے بعد یہ سفید آب کا بہائو گاڑھا، اور دورانِ ماہواری پتلا اور سفید ہوسکتا ہے۔ جب ’’ہوا‘‘ کے ساتھ اس کا رابط ہوجاتا ہے تو زرد بُورے رنگ کا ہوجاتا ہے ،اسلئے اگر آپ دیکھیں کہ سفید آب کا رنگ زرد ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،یہ بالکل نارمل ہے۔

۸جگر کی بیماری میں مبتلا مریضوں کو ہلدی اور گوشت کا استعمال نہیں کرنا چاہئے

جی نہیں… یہ باطل عقیدہ ہے۔ جگر کی بیماری میں مبتلا مریض گوشت، مچھلی، انڈوں کا استعمال کرسکتے ہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہلدی کے استعمال سے مریض کی آنکھیں اور جلد زرد ہوجائیں گی۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ دراصل ہلدی ایک بہترین ضد عفونی دوا ہے اور کوئی بھی مریض اسے استعمال کرسکتا ہے۔ جگر کی بیماری میں مبتلا مریض کو ایک مناسب و متوازن غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

۹یرقان میں مبتلا مریض کو صرف مُولی اور ٹماٹر کھانے چاہئیں

جی نہیں… یرقان کی بنیادی وجہ تلاش کرنا ضروری ہے… اگر یرقان سے مطلب ورمِ جگر (ہپاٹائیٹس اے) کی زردی ہے تو کوئی غذائی پرہیز نہیں ہے۔ مریض ہر قسم کی سبزیاں اور میوہ جات کے علاوہ ایک مقوی قسم کی غذا کھاسکتا ہے۔ یرقان، جسے عرفِ عام میں کامبل یا کامبے کہا جاتا ہے، ایک ’’خود محدود‘‘ بیماری ہے، یہ ایک وائرس سے پھیلتی ہے جو جگر کے خلیات پر حملہ آور ہوتا ہے اور جگرمتورم ہوجاتا ہے، عام لوگوں کے دلوں میں یہ بات گھر کر گئی ہے کہ یرقان میں مبتلا مریض کو صرف مولیاں اور ٹماٹر دئے جائیں، ایسا کرکے مریض پر ظُلم کیا جاتا ہے۔ چوں کہ جگر متورم ہوتا ہے، اسلئے مریض کو زیادہ حرارے والی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یرقان میں مبتلا مریض حد سے زیادہ چربی والی غذائیں نہ کھائے ،باقی جو بھی غذائیںحلال ہیں، اُن سے مریض لطف اندوز ہوسکتا ہے، دوسری بات یہ کہ یرقان مدت معینہ کے بعد خود بخود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اسلئے اس کیلئے کسی نقلی پیر فقیر یا منتر باز کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔

۱۰اُبالا ہوا پانی پینے سے تھائیرائیڈ کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔

جی نہیں… اُبالا ہوا پانی پینا صحت مند رہنے کیلئے بے حد ضروری ہے۔ پانی کو 20 منٹ تک اُبالنے سے اس میں موجود جراثیم کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔ یہ افواہ کئی مہینوں سے گشت کر رہی ہے کہ اُبالا ہوا پانی پینے سے تھائیرائیڈ کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے۔ امراض تھائیرائیڈ اور اُبالے ہوئے پانی کا کوئی رابطہ ہی نہیں ہے۔ تھائیرائیڈبیماریوں کے وجوہات بالکل الگ ہیں جن میں موروثیت، غذا میں آیوڈین کی کمی، خود مصونیت، عفونت، وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *