کیا یہ حقیقت نہیں؟

naeem-baloch1ضیاء الحق کے دور میں وزیر خزانہ اور وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے، پھر بقول مرحوم جنرل حمید گل اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جب نواز شریف برسر اقتدار آئے تھے تو اس وقت ان کی سیاسی سوجھ بوبھ زیادہ تھی یا اب ؟ ان ادوار میں احتساب کا نظام زیادہ بہتر تھا یاا ب ؟اس وقت سیاسی مخالفوں کو آڑے ہاتھوں لینے کی روایت زیادہ تھی یااب ؟عدلیہ اس وقت زیاد ہ آزاد تھی یا اب؟ صحافت اس زمانے میں زیادہ آزاد تھی یا اب ؟ نواز حکومت کی کارکردگی پچھلے ادوار میں بہتر تھی یا اب ؟ معلوم رہے کہ زرداری دور کی نسبت لوڈشیڈنگ میں 3گنا کمی آچکی ہے،دہشت گردی میں80 فیصد کمی،کراچی اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف دوبارہ سفر شروع کر چکا ،پاک چین اقتصادی راہداری، ملکی تاریخ کا عظیم ترین اور صحیح معنوں میں انقلا ب آفریں منصوبہ ہے ، جاری ساری ہے ، اور تکمیل کے لیے ہر قیمت پر سیاسی استحکام اور امن و امان کا متقاضی ہے ، زر مبادلہ کے ذخائر میں ماضی کی نسبت اضافہ ہے ، عالمی اداروں( IMF) اور وولڈ بینک نے تصدیق کی ہے ملکی معیشت جو دیوالیہ ہونے کے قریب تھی ، اب خرابیوں کے باوجود بحالی کا طرف گامزن ہے ، اپنی کارکردگی ، شفافیت ،اور مہارت میں زرداری دور بہتر ہے یا نواز حکومت ؟
اس کے مقابلے میں عمران خان نے جب ورلڈ کپ جیتا تو اس وقت وہ زیادہ معتبر تھے یا اب ؟ جب انھوں نے اسپتال اور یونیورسٹی بنائی تو اس وقت ان کا اخلاق اچھا تھا یا اب ؟ جب انھوں نے سیاست میں قدم رکھا تو ان کے قریبی ساتھی اس وقت زیادہ دیانت دار، مخلص اور غیر متنازع تھے یا اب ؟لوگوں کی ہمدردیاں 2013ء میں ان کے ساتھ زیادہ تھیں یا اب ؟ان کی مقبولیت ، حمایتیوں کا جوش جذبہ پہلے زیادہ تھا یا اب ؟
یعنی ایک شخصیت کا سفر بہتری کی طرف جاری ہے اور دوسرا ہر گزرتے دن اپنی کریڈیبیلٹی اس طرح گنوا رہا ہے جیسے کسی موم بتی کو دونوں طرف آگ لگی ہو ۔
ذرا غور کریں پھر اس ساری بک بک کی وجہ کیا ہے ؟ اگر ترقی کا یہ سفر جاری و ساری ہے تو رکاوٹ ڈالنے کی اصل وجہ کیا ہے؟
شیر۔۔۔۔ اک واری فیر ؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *