مسئلہ تین طلاقوں کا

tallaq

بھارت کے سنی اسلام کے حامی گروپ آل انڈیا مسلم لا بورڈ نے کہا ہے کہ تین طلاقوں پر پابندی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔ گروپ کے حمایتیوں کی طرف سے کوئی دلچسپ رد عمل دیکھنے میں نہیں ملا ہے۔ بورڈ نے مسلمان مردوں کیے بچاو کا کام کیا ہے لیکن مسلمان عورتوں کے لیےبورڈ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

اس فیصلے کی وجہ مختلف سکول آف تھاٹ کی تین طلاقوں کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ بہت سے علما ایک ہی موقع پر تین طلاقوں کو صحیح نہیں مانتے۔ بہت سے مسلم قومیں جن میں پاکستان، ترکی، تیونیزیا، اور دوسری اقوام نے ایک ہی موقع پر تین طلاقوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ جب تیونیزیا میں النہدا کی اسلامی جماعت حکومت میں آئی تو انہوں نے اس پابندی کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی۔

ترکی میں جہاں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے وہاں مسلمان کئی سال سے حکومت کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود حکمران پارٹی جسٹس اینڈ ویلفیر سوسائٹی نے کبھی اس پابندی کو ختم کرنے کی بات نہیں کی۔ جب بھی عورتوں کے حقوق کی بات آتی ہے تو تین طلاقوں کا مسئلہ لازما سامنے آتا ہے۔ بھارت کے بہت سے سکالرز ایک موقع پر تین طلاق کے عمل کو اچھا نہیں کہتے لیکن ان کے خیال میں یہ مذہی طور پر غلط نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ  نے شایرہ بانو کیس کے سلسلے میں کہا ہے کہ تین طلاق پر پابندی کے فیصلے کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔

ان حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاہ بانو والا مسئلہ پھر سے دیکھنے میں ملے گا جو ۱۹۸۵ میں رونما ہوا تھا۔ پانچ بچوں کی ماں شاہ بانو کو اس کے خاوند نے ایک ہی موقع پر تین طلاق دے دی تھیں۔ اسے سپریم کورٹ نے اس کے شوہر کی طرف سے مدد دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

تین طلاق کا مسئلہ قران پاک میں کہیں بھی ثابت نہی ہوتا۔ قران شادی کو ایک مضبوط عہد کہتا ہے اور اگر ایک ہی موقع پر تین طلاق کی اجازت ہو تو یہ مضبوط نہیں بلکہ کمزور ترین رشتہ بن جاتا ہے۔ مختلف اسلامی مکتبہ فکر کے مطابق اسلام میں تین طلاق کا تصور ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک انسان اپنی بیوی کو ایک موقع پر تین طلاق دے تو بھی صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔ شیعہ کے مطابق بھی تین طلاقیں ایک ساتھ دینا بالکل صحیح نہیں ہے۔

طلاق کے بارے میں اسلام کا تصور

اسلام میں انسان ایک وقت میں ایک ہی طلاق دے سکتا ہے۔ یہ طلاق بھی ایام ماہواری میں نہیں دی جا سکتی۔ یہ اس وقت دی جا سکتی ہے جب پچھلے ماہواری کے ایام کے بعد میاں بیوی نے جسمانی تعلقات قائم نہ کیے ہوں۔

مختار احمد ندوی کے مطابق حضور ﷺ نے تین طلاق ایک بار دینے سے سختی سے منع کیا ہے ۔ ان کے مطابق طلاق اسلام میں سب سے نا پسندیدہ عمل ہے۔ مولانا کے مطابق شادی شدہ جوڑے کے مسائل بات چیت سے حل کیے جانے چاہییں۔ ناکامی کی صورت میں دونوں خاندان اپنی طرف سے ایک ثالث مقرر کریں ۔ مولانا نے لکھا ہے کہ آپ ﷺ کی موجودگی میں ہونے والے طلاق کے واقعات میں شوہر تین ماہواری کے ایام کے بعد طلاق کے الفاظ دہراتا تھا۔ اس دوران میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہتے تھے اور جسمانی تعلقات سے پرہیز کرتے تھے۔ اس دورانیہ میں وہ جب چاہیں رجوع کر سکتے تھے اور اگر تین ماہ گزر جائیں اور رجوع نہ ہو تو علیحدگی واقع ہو جاتی تھی۔

ڈاکٹر ابراہیم بن سید نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے: اگر انسان ایک وقت میں تین بار بھی طلاق کا لفظ دہرائے تو ایک ہی طلاق  جو طلاق رجعی کہلاتی ہے  اور خاوند اپنی بیوی کوواپس اپنے ساتھ لیجا سکتا ہے اور دوبارہ جسمانی تعلقات کے ذریے اس طلاق کو ختم کر سکتا ہے۔ عرب عالم شیخ جمال الدین القاسم  نے کہا ہے کہ تین طلاق ایک ساتھ بلکل صحیح  نہیں ہے۔ یہ صرف ایک طلاق کا موجب بنتا ہے۔ ان سب آرا کو دیکھنے کے بعد مولانا عثمانی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے  کہ ایک وقت میں تین طلاق کا قران میں کوئی ذکر نہیں ہے اور یہ فیصلہ قرانی تعلیمات کے سخت خلاف ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *