Site icon DUNYA PAKISTAN

والدین کے ڈپریشن سے متعلق ردعمل : ’تیرے پاپا کو بتا دوں گی، بڑا آیا ڈیپریسڈ‘

Share

جہاں سوشل میڈیا رابطوں اور معلومات کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے وہیں وقتاً فوقتاً اس پر معاشرے کے مخفی مسائل کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے۔ ایک ایسے ہی مسئلے پر گفتگو ٹوئٹر پر ایک صارف نے چھیڑی۔

انھوں نے لکھا میں ڈیپریسڈ (اداس) ہوں اور اس کے آگے انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا اس کا جواب ایشیائی والدین کی طرح دیں۔

اس سوال پر ایک بڑی تعداد میں کئی صارفین نے ایسی صورتحال میں والدین کے ردعمل اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر شیئر کیے۔

اس تھریڈ میں سوشل میڈیا پر متحرک صارف اور پروفیسر ندا کرمانی نے لکھا کہ شادی کر لو اور اگر شادی ہو چکی ہے تو بچے پیدا کر لو۔

ایک صارف نے اس ہی گفتگو میں والدین کی جانب سے یہ جواب لکھا کہ ناٹک مت کر، بوتل میں پانی بھر کر فریج میں رکھو اور پھر فٹافٹ دھنیا لے کر آؤ، ورنہ تیرے پاپا کو بتا دونگی۔ بڑا آیا ڈیپریسڈ۔

اریبہ نے لکھا: ’کیسا ڈپریشن؟ اللہ کا شکر ادا کرو اللہ نے ہاتھ پیر دیے ہیں، تین وقت کا کھانا مل جاتا ہے، رہنے کو گھر ہے، سکون کی زندگی ہے، جو چاہتے ہو ہم تمہیں دیتے ہیں۔ کس چیز کا ڈپریشن؟

بہت سے صارفین نے والدین کے ردعمل کے بارے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ کسی نے کہا کہ شادی کر لو کسی نے کہا صبح جلدی اُٹھو تو کسی نے ٹھیک سے نہ کھانے کی بات کی۔

ہت سے صارفین نے ذکر کیا کہ والدین کا یہ جواب ہوتا ہے کہ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا، سب ٹھیک ہے شکر کرو بہت سے لوگوں کو تو دو وقت کی روٹی بھی نہیں ملتی۔

اس مسئلے پر ہر کسی نے کوئی ایسا پیغام دیا جو شاید ِآپ نے بھی کسی نہ کسی سے سنا ہو مگر اس تھریڈ کو پڑھنا شروع کریں تو لگتا ہے کہ زیادہ تر افراد کے تجربے میں جو انھوں نے سُن رکھا ہے، اُس میں ڈپریشن کو ایک طبی مسئلے کی طرح نہیں دیکھا جاتا۔ اگر بچے اپنے والدین سے اس بات کا اظہار کریں تو اس کے لیے علاج کی بجائے اُنھیں دوسرے مشورے دیے جاتے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔

اس بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کراچی کے ضیاءالدین کالج کی سینیئر لیکچرار اور ماہر نفیسات تانیہ وقاص کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی امراض کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور یہ مسئلہ اتنا سنگین ہے کہ لوگ اس بارے میں اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور کوئی اس کا سامنا ہی نہیں کرنا چاہتا۔

’لوگ یہ نہیں چاہتے کہ اُن کے بچوں پر ذہنی مریض ہونے کا لیبل لگ جائے، خاص طور پر لڑکیوں میں کیونکہ پھر اُن کی شادیاں نہیں ہوتیں۔‘

تانیہ وقاص کہتی ہیں کہ جو نوجوان اُن کے پاس آتے ہیں، ان میں سے اکثر کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے والدین سے اس مسئلے کا ذکر کرتے ہیں تو اکثر کہا جاتا ہے کہ تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں ان مسائل کا آسان حل ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں کچھ مذہبی عنصر بھی ہوتا ہے اور عموماً اصل مسئلے پر توجہ دینے کی بجائے مذہب کی طرف دھیان دینے اور دوسرے حل تجویز کیے جاتے ہیں۔

کیا واقعی ڈپریشن کو ایک طبی مسئلے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ماہر نفیسات تانیہ وقاص کا کہنا تھا کہ دراصل لوگوں میں اس بارے میں آگاہی ہی نہیں ہے۔

’ڈپریشن کا مسئلہ تو ہمیشہ سے رہا ہے مگر یہ بات درست ہے کہ پہلے کی نسبت اب معاشرے میں دباؤ بڑھ گئے ہیں۔ والدین کو لگتا ہے کہ اپنے دور میں تو انھوں نے ان باتوں کا حل ڈھونڈ لیا تھا، اب کیا مسئلہ ہے۔ لیکن اگر بچے ان کے پاس آئیں تو ان مسائل کو رد کر دینا ٹھیک نہیں اور اس کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بجائے انھیں طعنے دینے سے مسائل اور بڑھیں گے۔‘

اس بارے میں تانیہ وقاص کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ کیونکہ معاشرے نے بہت ترقی کی ہے اس وجہ سے لوگوں میں کامیابی کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ آج کی نوجوان نسل کو جن مشکلات کا سامنا ہے شاید اُن سے پچھلی نسلوں کو نہیں تھا۔

’جو نوجوان ڈپریشن کا شکار ہیں اور اگر اُن کے والدین مسائل کو نہیں سمجھ پا رہے تو انھیں چاہیے کہ اپنے عزیزواقارب یا دوستوں سے، جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں اُن سے کھل کر بات کریں کیونکہ ڈپریشن کی صورت میں لوگ اپنے آپ کو سب سے علیحدہ کر لیتے ہیں جو اُن کے لیے ٹھیک نہیں۔‘

تانیہ وقاص کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ مسئلے کی تشخیص کی جائے۔

’جب گھر میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے جیسا کہ اگر نلکا خراب ہوتا ہے تو اس کے لیے کسی پلمبر یا ماہر کو بلانا پڑتا ہے۔ اسی طرح یہ سمجھنا ہو گا کہ ذہنی امراض کے مسئلے کے لیے طبی ماہر سے مدد لینا ضروری ہے۔‘

سوشل میڈیا پر جاری اس گفتگو میں ایک صارف ایسی بھی تھی جنھوں نے لکھا کہ وہ اس بارے میں کوئی شکایت نہیں کر سکتی کیونکہ ان کے والدین نے ان کے ڈپریشن کا ایک بیماری کی طرح علاج کیا۔

انھوں نے لکھا ’ممکن ہے کہ بہت سے والدین ایسا ہی کرتے ہوں مگر سوشل میڈیا پر جو تاثرات سامنے آئے ہین، اُن سے معاشرے میں سوچ کی عکاسی ضرور ہوتی ہے۔ بہت سے جملے عام سننے میں آتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا واقعی معاشرے میں ڈپریشن کے بارے میں آگاہی نہیں کہ اس کا علاج موجود ہے۔‘

مگر فی الحال سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو سے لگتا ہے کہ اس بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے جیسا کے لمز کے پروفیسر عمیر جاوید نے سوال والی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بس اتنا لکھا کہ کلونجی کو پیس کے۔۔۔ گفتگو کے تناظر میں باقی جملہ تو آپ اب سمجھ ہی گئے ہوں گے۔

Exit mobile version