ایک سوشل تتلی کی ڈائری

ہائے کتنی میری خواہش تھی کہ جانو سیاسی طور پر اتنے سیدھے نا ہوتےbutterfly۔۔۔ کتنا میں نے سمجھایا جانو کو اس دنیا میں رہنے کے لیے کچھ قربانیاں دینی پڑتی ہیں، زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنا پڑتا ہے ورنہ انسان کی حالت اُس بدھا کی سی ہو جاتی ہے جو پیدا تو شہزادہ ہوا تھا مگر مرا فقیر۔ ۔۔۔ مگر نہیں جانو کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ ہائے میرا کلچو بھی کیا جانو کی ضدوں کی وجہ سے فقیر مرے گا؟
کیا جاتا جانو کا اگر جانو بھی اپنا تھوڑا سا پیسہ باہر بھیج کر کلچو کے نام کا ایک آف شور ٹرسٹ بنا دیتے۔ اگر جانو کو اتنی عقل ہوتی تو ہمارا کلچو بھی ہمارے حاکموں اور اُن کے مخالفوں کے بچوں جتنا امیر ہو جاتا۔
کیونکہ جب یہ پانا مہ پیپرز نواز شریف کی الماری سے باہر آئے تو کسی کو حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ عمران خان تو پہلے بھی نواز اور زرداری کو چیخ چیخ کر دو نمبر کہتا ہی رہتا ہے جبکہ خود اُس کا اپنا پیسہ کب سے باہر انویسٹ ہو رہا ہے۔ اور تو اور اب جب عمران کے خاص الخاص ، چیف انصافین ، جیٹ ٹیکسی ڈرائیور نے بھی اس چیز کا کھلم کھلا اقرار کیا ہے کہ اُس نے بھی آف شور کمپنی میں پیسہ لگایا ہے اور عمران کے ATM اور لاہور کے رئیل اسٹیٹ انگلستانی امیر کی الماری میں بھی بہت سے ڈھانچوں کے ساتھ کچھ چھپی چھپائی پراپرٹی بھی ہے تو بھئی اب کس بات کا ڈر ہے؟ سب سے بڑھ کر عمران کے سسرالیوں زیک گولڈ سمتھ اور جیمی گولڈ سمتھ کا پیسہ بھی آف شور کمپنی میں لگا ہے ہے تو ہم کیوں نہیں لگا سکتے؟
تو بات تو وہی ہے کہ جانو کی کنجوسی کا شکریہ کہ میرا کلچو بدھا کی طرح غریب مرے گا۔
اوہو بھئی ہمارا کلچو نروانا حاصل کر لے گا ایسے تو وہ لافانی ہو جائے گا۔۔۔۔ جانو نے کہا
مگر جانو وہ کبھی اپنا جیٹ نہیں چلا پائے گا، اُس کے پارک لین میں مہنگے فلیٹ نہیں ہونگے اور وہ انگلینڈ کے کسی ملک میں نہیں رہے گا۔۔۔ بندہ اگر امیر نا ہو تو لافانی ہونے کا کیا فائدہ؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *