"خضر" ۔۔۔۔۔پاکستان کی جنت

بشکریہ: سید مہدی بخاری

khizar-1

جون کے مہینے میں بہت گرمی پڑتی ہے جب تک پنجاب کے علاقوں میں مینہ نہیں برستا یہ گرمی بڑھتی رہتی ہے۔ مختلف پرندوں کی آوازیں، پنکھوں کا شور ادھر ادھر کا شورو غوغا اور کوئل کی کو کو مجھے اداس کر دیتی ہے۔ جب پنجاب کی گرمی ناقابل برداشت ہو جاتی ہے تو مجھے خضر کی چراگاہوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ انسانی دماغ فوٹو البم کی طرح ہے۔ ایک تصویر کھولو تو باقی ساری تصاویر کو دیکھے بغیر دل نہیں بھرتا۔ سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور انسانی جسم کے آرام کے لیے بہت سے طریقے ڈھونڈ نکالے ہیں لیکن روح کا کیا کریں جو کہ ہمیشہ بے چین رہتی ہے۔

khizar-2

روح کے سکوں کے لیے کسی قسم کے گیجٹس کام نہیں آتے۔ روح کو آرام پہنچانے کا واحد طریقہ نیچر کے خوبصورت مناظر کو دیکھنا اور ان اللہ کی تعریف کرنا ہے ۔ گلگت ایک مربع کی شکل کا شہر ہے۔ یہاں پر مختلف راستے آپ کو خوبصورت وادیوں، دریائوں ، نالوں، میدانوں اور قدیم عمارتوں کی طرف لے جاتے ہیں۔گلگت کا ایک راستہ سکردو کی طرف جاتا ہے اور دوسرا نلتار کی طرف۔ تیسرا راستہ وادی ہنزہ کی طرف جب کہ ایک اور راستہ خنجراب پاس کی طرف مڑتا ہے۔ چوتھا راستہ خضر تک لے جاتا ہے ۔

khizar-3

اگر آپ خضر دریا کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں تو آپ شندور پاس سے ہوتے ہوئے چترال پہنچ جائیں گے۔ خضر ایک رنگینیوں والے پانی سے بھری زمین ہے ۔ درختوں سے بھرا یہ علاقہ زمین پر جنت کی مثال پیش کرتا ہے اور پھنڈر ویلی اس جنت کو مزید خوبصورت بنا دیتی ہے۔

khizar-4

میں محرم میں گلگت کے علاقہ خضر جانا پسند کرتا ہوں۔ اس مہینے میں پوری وادی خزاں کا منظر پیش کرتی ہے۔ جب میں گلگت سے آگے بڑھتا ہوں تو کراکرم رینج میری بائیں طرف نظر آتی ہے۔ ان علاقوں میں جیپ بمشکل آگے بڑھتے ہوئے ہندو کش کے پہاڑی سلسلہ تک پہنچتی ہے ۔ خضر روڈ پر چڑھتے ہی دریائے خضر کا ساتھ ملتا ہے۔ اس کا ٹھنڈا پانی ٹرائوٹ فش سے بھرا ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔ دریا کی دوسری طرف رہائشی علاقہ ہے جہاں علاقہ کے لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔

khizar-5

شیر قلعہ سے آگے گوہ کوچ اور پنیال کے علاقے ہیں ۔ گوہ کوچ اس ضلع کے مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ پنیال سے آگے دریا کی دائیں طرف ایک رہائشی علاقہ گچ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پورا علاقہ انگور کے بیل اور خوشبو سے علاقے کو خوبصورت اور معطر کیے رکھتا ہے۔ یہ گائوں علاقے میں  سب سے زیادہ انگور پیدا کرنے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ غضر کا بارڈر خیبر پختونخا کے ساتھ ملتا ہے ۔ اس کی ایک طرف سوات کے خوبصورت اور بلند و بالا پہاڑ ہیں اور دوسری طرف چترال کا شہر آباد ہے۔ یہ شہر ایک طرف سے وادی یاسین  اور کرمبر پاس کے  ذریعہ تاجکستان سے ملتا ہے۔ زیادہ تر آبادی گجر ذات سے تعلق رکھتی ہے۔ علاقے کا نام غرز سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے مہاجر۔

khizar-6

چترال کے حکمران مہتار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔جب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شاہی نظام ختم ہوا تو خضر کے علاقہ کو ضلع بنا دیا گیا۔ اس ضلع پر کئی راجاوں نے حکومت کی جن میں کتورے، بروشے اور کھوشواتے خاندان قابل ذکر ہیں۔

Courtesy DAWN

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *