زندہ باد یاسر پیرزادہ

amir khakwani

یاسر پیرزادہ ہمارے بہت عمدہ لکھ والوں میں سے ایک ہیں۔ نظریاتی فکری اعتبار سے ان کا شمار، لبرل ، پروگریسو رائٹرز میں کیا جاتا ہے۔ کئی موضوعات پر ان کا ایک خاص نقطہ نظر ہے، جس سے میرے جیسے کئی لوگ بعض اوقات اختلاف بھی کرتے ہیں، مگر یاسر پیرزادہ کی ایک خوبی انہیں دوسروں سے مختلف بناتی ہے کہ وہ جو جسے درست سمجھتے ہیں، اسے جرات سے کہہ ڈالتے ہیں، خواہ وہ نقطہ نظر عمومی لبرل رائے کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ توہین رسالت کے حوالے سے یاسر ہمیشہ مغرب کے نام نہاد آزادی اظہار کے دعوے کے ناقد رہے ہیں اور اس پر جرات سے کئی بار لکھ بھی چکے ہیں۔ چند ہفتے قبل بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی میں بعض لڑکیوں نے ایک ایسی عجیب وغریب حرکت کر ڈالی کہ سب ہکا بکا رہ گئے، یہ ٹرینڈ سا بن گیا، ایک آدھ اور جگہ بھی وہی واقعہ دہرایا گیا۔ مین سٹریم میڈیا پر تو یہ زیادہ زیربحث نہیں آئی البتہ سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا گیا۔ ان بچیوں کی اس احمقانہ حرکت کے دفاع میں بھی خاصا کچھ لکھا گیا۔ ’’ہم سب ‘‘ پر اس کی حمایت میں کئی مضامین شائع ہوئے، ایک آدھ مخالفت میں بھی آیا۔ یہ عمومی تاثر بنا جیسا کہ لبرل حلقہ یونیورسٹی کیمپس کی دیواروں پر سینیڑی پیڈز لگانے کی افسوسناک حرکت کا پرجوش دفاع بلکہ ایک طرح سے اس کی پشتبانی کر رہا ہے۔ یاسر پیرزادہ نے اس پر ایک شاندار کالم لکھا ۔ ہم جیسوں کا اس کے خلاف لکھنا تو معمول کی بات ہے، لیکن یاسر جیسے روشن خیال اور بہت سے حوالوں سے لبرل سوچ رکھنے والے کالم نگار کی جانب سے ایسے زوردار انداز میں یہ کالم لکھنا اور اس حرکت کی پرزور مذمت کرنا معنی رکھتا ہے۔ یاسرj کا کالم پڑھئیے اور داد دیجئے۔ علمی دیانت اسی کا نام ہے کہ آدمی جو درست سمجھے وہ لکھے، خواہ اس کی زد اس کے ہم خیال قافلے پر پڑتی ہو۔ زندہ باد یاسر پیرزادہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *