محبت ،فریفتگی اوربھونڈی کی حقیقت !

th (5)
عمار خان ناصر
ینگ جنریشن کے لیے ایک مولوی کے مشاہدات ملاحظہ فرمائیں۔
محبت ((Love اور فریفتگی( (Infatuation میں د ن اور رات کا فرق ہے۔ وفاداری اور دوسرے کے لیے قربانی کے جذبے کے بغیر، کسی پر دل کا آجانا، یہ فریفتگی ہے جو پائیدار نہیں ہوتی، کیونکہ خود غرض ہوتی ہے۔ عام طور پر محبت کی شادیاں اسی لیے ناکام ہوتی ہیں کہ وہ دراصل فریفتگی کے زیر اثر کی جاتی ہیں جس کا زور محبوب کو پا لینے کے بعد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس میں فریقین، ایک دوسرے سے رومانوی توقعات وابستہ کیے ہوتے ہیں جو پوری نہ ہونے پر فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے اور پھر نوبت ٹٹ گئی تڑک کر کے تک جا پہنچتی ہے۔
بہرحال فریفتگی کی کیفیت میں فریقین کم سے کم دیانت دار تو ہوتے ہیں اور غلطی سے فریفتگی کو محبت سمجھ کر اس پر فیصلوں کی بنیاد رکھ لیتے ہیں۔ اس سے ہٹ کر ایک اور چیز جو اب مخلوط ماحول میں زیادہ تر نظر آتی ہے، وہ جانتے بوجھتے محبت محبت کھیلنا ہے۔ اس میں محض وقتی تلذذ مقصود ہوتا ہے، سو کسی شکایت کے بغیر یہ ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے فرد کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اس کو انگریزی میں Flirt کرنا کہتے ہیں۔ یہ انسان کی روح اور اس کے ضمیر کے لیے تباہ کن چیز ہے۔ ایسا شخص اگر غور کرے تو خود اپنی ہی نظروں میں خود کو کمینہ محسوس کرے گا۔
اس کے بعد ایک آخری درجہ ہے جس میں کسی قسم کے تعلق کے بغیر محض حسن سے نظروں کو سینکنا مقصد ہوتا ہے۔ اس کو ہمارے ہاں عرف عام میں بھونڈی کرنا کہتے ہیں۔ اس کے متعلق زیادہ کیا کہوں اور وہ بھی آج کی ینگ جنریشن سے۔ یہ تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوگا۔( البتہ مولانا مودودی سے اس بارے پوچھا گیا کہ اسلام میں پہلی نظر تو معاف ہے۔انھوں نے جواب دیا تھا کہ پہلی نظر ضرور معاف ہے لیکن پہلی ٹکٹکی معاف نہیں ۔ یعنی اگر اس نظر بازی کی وجہ سے آپ بد کاری تک جا پہنچے تو گناہ کی سزا میں آپ کو ٹکٹکی( کوڑے لگانے کی جگہ )پر ضرور لٹکایا جائے گا۔ )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *