کیا زمین گول ہے؟ سائنسی اوراسلامی نقطہ نظر آمنے سامنے

Earth1

اللہ تعالی نے مسلمانوں کو سائنسی حقیقت سے آگاہ فرمایاکہ ’’ زمین گول نہیں ،کروی ہے ‘‘۔یہ قرآن پاک کی رہنمائی ہی ہے جس نے عالم اسلام میں سائنس وٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔  یہ 1578ء کی بات ہے،دنیا کے سفر پہ نکلا مشہور انگریز مہم جو،سر فرانسس ڈریک بحرالکاہل میں واقع ایک جزیرے پر پہنچا۔(یہ جزیرہ بعد ازاں ایلزبتھ آئی لینڈ کہلایا۔)سمندری سفر نے جہاز’’پیلی کن‘‘ کے ملاحوں کو تھکا ڈالا تھا۔اب سر ڈریک کی خواہش تھی کہ جزیرے کے کچھ باسی بطور ملاح بھرتی کرلیے جائیں۔ موصوف نے جزیرے کے جاہل باسیوں کو قیمتی اشیاء دینے تک کالالچ دیا مگر انہوں نے ملاح بننے سے انکار کر دیا۔ان باسیوں کے سر پہ سب سے بڑا خوف یہ سوار تھا کہ بحری جہاز پانی پر چلتے چلتے کبھی نہ کبھی زمین کے کنارے پہنچ کر نیچے جا گرے گا۔اس عجیب و غریب نظریے نے اسی مشہور اعتقاد سے جنم لیا کہ زمین چپٹی ہے۔ زمین کروی (گول) نہیں چپٹی ہونے کا نظریہ بنی نوع انسان کے قدیم ترین نظریات میں سے ہے۔اس نے ہزاروں برس پہلے مصری و بابلی تہذیبوں میں جنم لیا۔ان تہذیبوں کے باسی سمجھتے تھے کہ زمین ایک چپٹی قرض(ڈسک) ہے جو پانی(سمندر)میں تیر رہی ہے۔جب عہد نامہ قدیم تحریف کا نشانہ بنا ،تو اس آسمانی کتاب میں بھی یہ قدیم نظریہ ڈال دیا گیا۔(حوالہ:دی آکسفورڈ ڈکشنری آف دی جیوش ریلیجن کا مقالہ’’کائنات اور تخلیق‘‘) پہلے پہل یونانی فلسفیوں ،فیثا غورث اور پارمیندس نے ریاضی میں دسترس رکھنے کی بنا ء پہ یہ خیال ظاہر کیا کہ ’’شاید‘‘زمین گول ہے۔تاہم وہ کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکے۔اسی باعث ان کا نظریہ عوام میں مقبول نہ ہوا۔چنانچہ اگلی کئی صدیوں تک یہی خیال عام رہا کہ زمین چپٹی ہے۔ کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ اس باطل نظرئیے پہ پہلی ٹھوس ضرب اللہ تعالی نے قرآن پاک کے ذریعے لگائی اور اسے پاش پاش کر ڈالا۔قرآن مجید میں موجود تین آیات ہمیں اس دائمی سچائی سے آگاہ کرتی ہیں کہ زمین چپٹی نہیں گول ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے(یعنی رات کے کم ہوتے گھنٹے دن میں داخل ہو جاتے ہیں)اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔(گویا دن کے گھٹتے گھنٹے رات میں جا شامل ہوتے ہیں)اس نے سورج اور چاند کو کام پہ لگا رکھا ہے۔ہر ایک اپنے مقررہ وقت پر چل رہا ہے۔اللہ تمہارے سب اعمال سے واقف ہے۔‘‘(سورہ لقمنٰ: آیت 29) اس آیت ِقرآنی میں ’’داخل کرنے‘‘ کامطلب یہ ہے کہ رات آہستہ آہستہ دن میں بدلتی ہے اور اسی طرح دن رفتہ رفتہ رات میں ڈھل جاتا ہے۔یہ عجوبہ اسی وقت انجام پا سکتا ہے جب زمین گول ہو۔کیونکہ زمین چپٹی ہوتی تو ایک سمت اچانک سورج نکلنے سے دن بھی فی الفور نکلتا۔اور سورج ڈوبنے سے دفعتاً رات چھا جاتی۔ سورہ الزمر (39)کی آیت 5 بھی ہمیں یہ خبر دیتی ہے کہ زمین کروی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’اسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا۔وہی رات کو دن پر لپیٹتا اور دن کو رات پہ لپیٹتا ہے۔اسی نے سورج اور چاند کو کام پہ لگا رکھا ہے۔سب مقررہ وقت تک چلتے رہیں گے۔ دیکھو وہی غالب اور بخشنے والا ہے۔‘‘ درج بالا آیت میں لپیٹنے کے لیے’’یکور‘‘کا لفظ آیا ہے۔عربی میں اس کے معنی کوئی شے گول لپیٹنے کے ہیں…جیسے سر پہ پگڑی گولائی کی شکل میں لپیٹ کر باندھی جاتی ہے۔اس آیت میں بھی رب ِکائنات نے زمین کو گول قرار دیا…تبھی رات اور دن ایک دوسرے سے گولائی کی صورت لپٹ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ گیند کے مانند زمین بالکل گول نہیں،بلکہ قطبین(poles)پہ چپٹی ہے۔حتی کہ زمین کی یہ طبعی حالت بھی قرآن پاک میں اشارتاً بیان فرمائی گئی ۔ہماری مقدس کتاب اتنی فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے ہر لفظ میں کئی معنی پوشیدہ ہیں۔ سورہ النزعت(79)میں اللہ تعالی فرماتے ہیں’’اور اسی نے رات تاریک بنائی اور دن کو دھوپ نکالی اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔(29-30) ان آیات میں ’’پھیلانے‘‘کو بیان کرنے کی خاطر عربی لفظ’’دحھا‘‘آیا ہے۔عربی میں شترمرغ کے انڈے کو دحھا بھی کہا جاتا ہے…وہ انڈہ جو ہماری زمین کی طبعی ہئیت سے بہت ملتا جلتا ہے۔ یہ آیاتِ قرآنی منکشف کرتی ہیں کہ 1400 سال قبل جب دنیا والے کرہ ارض کو چپٹا سمجھتے تھے،تو اللہ تعالی نے مسلمانوں کو سائنسی حقیقت سے آگاہ فرمایا کہ وہ کروی ہے۔یہ قرآن پاک کی رہنمائی ہی ہے جس نے عالم اسلام میں سائنس وٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔یوں مسلمان اپنے وقت کی سپر پاور بن گئے مگر جب مسلمانوں نے قرآن سے ناتا توڑا،تو انہیں زوال پذیر ہونے میں دیر نہ لگی :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *