عوامی زندگی پر کارپوریشنز کا قبضہ

mncsجارج مونبٹ

آپ تناؤ سے پاک غیرسیاسی دنیا کس طرح بناتے ہیں؟ کھپت اور کبھی نہ ختم ہونے والی پیداوار میں اتفاق پیدا ہو چکا ہے۔ یہ مادیت اور قرض اور ایٹمی دوڑ سے بھرپور وہ خواب نگرہے کہ جس میں تمام رشتے ڈالر کے ذریعے تشکیل دئیے جا سکتے ہیں۔ کیا اس دنیا میں ہم تبدیلی کے لئے لڑنا چھوڑ چکے ہیں؟ آپ اپنی طاقتیں ان کمپنیوں کو دے چکے ہیں جن کا منافع اس طرح کی دنیاپر انحصار کرتا ہے۔
طاقت اپنا مقام تبدیل کر رہی ہے۔ یہ ان جگہوں پر جارہی ہے جہاں نہ تو ہماری آواز کی رسائی ہے اور نہ ووٹ کی۔قومی حکمتِ عملیاں وہ خصوصی مشیر، میڈیا منیجرز ، پینل اورمشاورتی کمیٹیاں بناتی ہیں کہ جو مخصوص مفادی گروہوں کی لابی کرنے والوں سے بھری ہوتی ہیں۔ ریاست اپنے آپ سے نفرت یا دشمنی کرتے ہوئے، خود نگرانی کرنے یا حکم دینے کے اپنے اختیار سے دستبردار ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ،بین الاقوامی بیوروکریٹس اور کارپوریٹ عہدیداران کی جانب سے کسی قسم کی اجازت کے بغیر عالمگیر حکمرانی کے سبب پیدا ہونے والے جمہوری خلا کو پر کیا جا رہا ہے۔ غیر سرکاری تنظیمیں، جنہیں اجازت مل چکی ہے۔۔۔ یہ عموماًآخر ہی میں کسی نظام کا حصہ بنا کرتی ہیں۔۔۔ یہ نہایت دانشمندی سے کسی نظام کا حصہ تو بن جاتی ہیں مگر یہ نہ تو سول سوسائٹی کی نمائندگی کرتی ہیں اور نہ ہی منتخب اداروں کی۔ اور برائے مہربانی صارفین کی جمہوریت یا شیئر ہولڈرز کی جمہوریت کے متعلق مجھے یہ بات کہنے دیں کہ دونوں صورتوں میں کچھ لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ ووٹ رکھتے ہیں، اور وہ کہ جن کا ووٹ بینک بڑا ہوتا ہے، وہ تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالنے کے لئے خود کو کچھ کم آمادہ پاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ صارفین کے لئے اشیا تیار کرنے والی دیوہیکل کمپنی، یونی لور، جس کے ساتھ پام آئل کے مسئلے پر میرا کچھ ہی روز قبل تنازعہ ہو گیا تھا، ان بدلتے ہوئے تعلقات کی علامت ہے۔ میں ایسی کسی چیز کے متعلق نہیں سوچ سکتا کہ جس نے نجی اور سرکاری شعبوں کے درمیان حدود کو مبہم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہو۔ اگر آپ یونی لور کا ویب پیج پڑھتے ہوئے اس کا نام فراموش کر بیٹھے تو آپ اسے اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی بھی سمجھ سکتے ہیں۔۔۔ غلطی سے!
یوں لگتا ہے کہ یونی لور کو تقریباً ہر جگہ نمائندگی مل رہی ہے۔ اس کے لوگ جن اداروں میں موجود ہیں، ان میں سے صرف چند ایک کے نام یہ ہیں:برطانوی حکومت کی ایکو سسٹم مارکیٹس ٹاسک فورس اور غذائیت سے متعلق مشاورتی کمیٹی، زرعی ترقی سے متعلق بین الاقوامی فنڈ، غذائی تحفظ اور غذائیت کے لئے 8ترقی یافتہ ممالک کا الائنس، عالمی ادارہ خوراک،عالمی سبزانقلاب کے لئے قائم کردہ ادارہ،اقوام متحدہ کاغذائیت کی بہتری کے لئے قائم کردہ ادارہ، اقوام متحدہ کا دیرپا ترقی کے حل تلاش کرنے کے لئے بنایا گیا ادارہ، مختصر اور طویل مدت کے ترقیاتی اقدامات کے لئے قائم کردہ عالمی ادارہ اور عالمی ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کا اعلیٰ سطحی گروہ۔
بعض اوقات یونی لور اس طاقت کو خوب استعمال کرتی ہے۔توانائی اور پانی کے اپنے ذاتی استعمال اور دوران پیداوار اپنے ذرائع کے ضیاع کو کم کرنے اور پھر ان تبدیلیوں کو اپنے نظام کے ساتھ ساتھ دنیا کے دیگر اداروں میں متعارف کروانے کے لئے اس کی کوششیں ناقابل یقین اور نہایت متاثر کن نظر آتی ہیں۔ بعض اوقات اس کے ان اقدامات کو دیکھ کر مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ خودبخود دوسروں کی خدمت پر تیار ہو جانے والا یا ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا نعرہ لگانے والا ادارہ ہے۔
مثال کے طور پر، اس کا ’’ڈو، عزت نفس کا منصوبہ‘‘یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ ، ’’تعلیمی منصوبوں کے ذریعے اپنی عزت نفس کو بہتر بنانے میں لاکھوں نوجوانوں کی مدد کر رہا ہے۔‘‘ اس کی تعلیمی وڈیوز میں سے ایک یہ دعویٰ کرتی ہے کہ خوبصورتی ’’آپ کی خوشیوں سے زیادہ بری حالت میں نہیں ہو سکتی،‘‘جو یقیناًایک ایسا پیغام ہے جو پہلے پہل تو نوجوانوں کی عزت نفس کو مجروح کردیتا ہے لیکن بلا شبہ آپ ڈو لکوئیڈکا خود پر لیپ کرکے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔یونی لور رپورٹ کرتا ہے کہ کینڈاکی 82فیصد خواتین جو اس منصوبے سے واقف ہیں، ’’ڈو کی خریداری کو زیادہ پسند کرتی ہیں۔‘‘
زیادہ تر، یہ کارپوریشنز کے غلبے والے ادارے بے کار ہوتے ہیں۔ اپنی زندگیوں کے اس بدترین دور میں، وہ ایک ذریعہ ہیں جس کی مدد سے یونی لورجیسی عالمی کمپنیاں اپنے ذاتی مفاد میں عالمی سیاست کو نیا رنگ دیتی ہیں۔ ساری دنیا میں پھیل جاتی ہیں اور ضرورت و استحصال کو فتح کرنے کے نام پر ، ان کا استحصالی کاروبار چلتا رہتا ہے۔
تقریباً ہر سیاسی کارکن ۔۔ بشمول کچھ غیرسرکاری تنظیمیں جو کسی دور میں ان کمپنیوں کی مخالفت کیا کرتی تھیں، ان کمپنیوں کی جانب سے موت کی جانب دھکیل دئیے جانے کے خطرے میں مبتلا ہیں۔ فروری میں گارڈین نے یونی لور کے ساتھ کئی ملین کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔اس معاہدے کے متعلق ناشر نے دعویٰ کیا کہ یہ، ’’دیرپا زندگی اور کھل کر کہانی کہنے کی مشترکہ اقدار پر مبنی ‘‘ معاہدہ ہے۔اس معاہدے نے ایک نئے پروگرام کا آغاز کیا ہے جسے گارڈین لیبز کا نام دیا گیا ہے جو ’’اپنی کہانی کہنے کے مزید دلکش انداز ‘‘ تلاش کرنے میں برینڈز کی مدد کرے گا۔ گارڈین کہتا ہے کہ اس کے پاس تعاون کے ایسے معاہدوں کے باوجودادارتی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے رہنما اصول موجود ہیں۔
میں ان حقائق سے واقف بھی ہوں اور افسردہ بھی کہ تمام اخبارات کو زندہ رہنے کے لئے کارپوریشنز کے پیسے پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔(ان کارپوریشنز کی جانب سے ملنے والے اشتہارات اور امدادان اخبارات کی آمدن کے تقریباً 70فیصد پر مشتمل ہوتے ہیں۔) لیکن یہ امداد اور رقوم مجھے ان اخبارات کو ان کی مثالی منزل سے دور لے جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ماحولیاتی مبلغ، پیٹر گرہارتھ، اسے یوں لکھتے ہیں کہ یونی لور جیسی کمپنیاں’’ہر تنازعے میں کلیدی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔‘‘ اس سے، میرا خیال ہے کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے ناقدین کواس طرح گلے لگا لیتی یا اپنا بنا لیتی ہیں کہ انہیں ایک مقالمے میں الجھا دیتی ہیں جو اس لحاظ سے ایک کھلا مقالمہ ہوتا ہے کہ ایک پنڈورا باکس کھل جاتا ہے، جو فریقین میں موجود تشویشناک فاصلے اور شناخت کو خلط ملط کر دیتا ہے یہاں تک کہ کوئی بھی نہیں جان پاتاکہ کون کیا ہے۔
میں ترجیح دیتا ہوں کہ کمپنیوں کو یونی لور جیسا ہونا چاہئے۔ اور گولڈ مین سیکس، کارگِل یا ایگزن جیسا نہیں ہونا چاہئے ۔ یوں لگتا ہے کہ یونی لور اس بات کا گہرا شعور رکھتی ہے کہ ایک ذمہ دار کمپنی کو کس طرح کا ہونا چاہئے۔لیکن یہ زیادہ بہتر ہو گا کہ حکومتیں اور عالمی ادارے
اپنے اختیارات کارپوریشنز کو دینا بند کر دیں۔یہ کارپوریشنز ہماری نمائندگی نہیں کرتیں اور انہیں ہماری زندگیوں کا نظام چلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *