پانامہ لیکس اور ٹی او آرز کی' فارسی'

khalid mehmood rasool

تاریخ اور روایت سے سروکار نہ ہو تو بیشتر احباب بضدہو جاتے ہیں کہ انگریزی کے بغیر بھی کبھی کوئی زبان سرکار دربار کی زبان تھی۔ حالانکہ کوئی ڈیڑھ صدی قبل ہی کی بات ہے کہ فارسی ہی سب سے بڑی سرکاری زبان تھی۔ ترک اور افغان حملہ آور اپنے ساتھ فارسی زبان لائے۔ مغل سلطنت کے عروج کا سورج چمکا تو بر صغیر میں فارسی کا طوطی بولنے لگا۔ سرکار دربار، عدالت، شعر و شاعری اور علم و فضل میں کمال کے اظہار کا ذریعہ یہی فارسی زبان بنی۔ مقامی آبادی نے بھی مجبوراٌ اسے اپنایا۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ غیر مسلم مقامی اہل علم و فن نے بھی فارسی میں اہل زبان جیسی دسترس حاصل کر لی۔ شعر و شاعری کے بیسیوں دیوان اور کتابیں ان کے کمالِ فن کی آج بھی گواہ ہیں۔ انیسویں صدی میں مغل سلطنت کو زوال آیا ۔ اسی دوران انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت نے 1830 اور 1843 کے دوران فارسی کو بھی سرکار دربار سے نکال اپنا سکہ جما دیا۔ اس کے باوجود پاکستان بننے سے پہلے تک مسلمانوں میں با لخصوص اور دیگر مقامی آبادی مین با لعموم فارسی پڑھنے پڑھانے کا خاصا رواج تھا۔ پاکستان بننے کے بعد فارسی کو مزید اجنبی بنانے میں انگریزی کی محبت سے کہیں زیادہ تاریخ اور روایت سے ہماری بڑھتی ہوئی دوری نے چند ہی دِ ہایوں میں فارسی کو مکمل اجنبی بنا دیا ۔
آج کل اکثر یار لوگ غلط سلط انگریزی بول کر اپنی علمیت کی دھاک بٹھانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ میڈیا میں من چلے نوجوان D J's اور اینکرز نے اردو میں انگریزی کے ایسے ایسے ٹانکے لگائے ہیں کہ اہل زبان سنیں تو بلا تمیزِ عمر اور گناہ کے شرم سے پانی پانی ہو جائیں ۔ یہ چلن کچھ ایسا نیا بھی نہیں۔ انہی بھلے وقتوں میں جب فارسی کی سرکار دربار اور عوام میں دھاک تھی، اکثر لوگ ایسی ہی کوششیں کرتے۔ ان کا ٹھٹھہ بھی اڑایا جاتا مگر وہ ا پنی سی کوشش ضرور کرتے۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ دیہات سے ایک نوجوان لام یعنی فوجی دستے میں بھرتی ہو گیا۔ کچھ وقت گزارنے کے بعد اسے فارسی کے چند الفاظ یاد ہو گئے۔ اب موقع بے موقع اپنی دھاک بٹھانے کے لیے وہ ان الفاط کا بے دریغ استعمال کرتا۔ کرنا خدا کو یوں ہوا کہ گاؤں میں چھٹیوں کے دوران وہ شدید بیمار ہو گیا۔ بخار کی حدت اور بیماری کے زور نے اس ادھ مواکر دیا۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں اپنی پیاس بجھانے کے لیے بار بار بلند آواز میں آب آب پکارتا رہا۔ ان پڑھ ماں باپ فارسی سے نابلد ہونے کے سبب سمجھ نہ سکے کہ جاں بلب ان کا بیٹاکیا مانگ رہا ہے ۔ اسی عالم میں وہ فوت ہو گیا۔
افسوس کے لیے دور پار سے لوگوں کا تانتا بندھ گیا۔ رواج کے مطابق ہر آنے والا آخری لمحات کی روداد اور بیماری جاننے کا کہتا تو گھر والے یہ ضرور بتاتے کہ اسے آب آب کی کسی مہلک بیماری کا حملہ ہو گیا تھا کہ مرنے تک وہ لگاتار یہی پکارتا رہا۔ اس دوران فارسی کا حرف شناس کوئی آیا تو اس نے عقدہ کھو لا کہ وہ بے چارہ تو پانی مانگ رہا تھا۔ یہ سن کر اس کی ماں بے سا ختہ شدتِ غم میں اپنے آپ کو دو ہتّڑ مارتے ہوئے چلّائی۔۔۔ آب آب کر مویوں بچڑا۔۔۔ ایناں فارسیاں گھر گالے ( پیاس کے عالم میں پانی کہنے کی بجائے تم آب آب کرتے مر گئے، تف ہے ایسی فارسی پر جس نے میرا گھر اجاڑ دیا)۔
ہمیں یہ کہانی یوں یاد آئی کہ سیاست کی زبان میں جب سے پانامہ کی لغت جاری ہوئی ہے، ہر ایک پانامہ، آف شور کمپنیاں ، فورنزک آڈٹ، منی لانڈرنگ اور انکوائری کے علاوہ بات ہی نہیں کرتا۔ جنہیں پامانہ لیکس سے زیادہ صدمہ پہنچا ہے انہوں نے ان تمام الفاظ کو بار بار دہرانے کی بجائے اسے ایک سادہ لفظ میں سمو دیا ہے۔۔۔ استعفیٰ۔ جی وزیر اعظم کا استعفیٰ۔ پا نامہ لیکس کی تفصیلات آئیں تو فقط آف شور کمپنیوں کو ہی حتمی ثبوت سمجھنے پر اصرار ہوا۔ کچھ پردے اور ہٹے تو پتہ چلا کہ اپنی صفوں میں بھی آف شور کمپنیوں کے مالکان دریافت ہو گئے لیکن طوفان اٹھانے کا جو ٹیمپو بن چکا تھا اس میں کمی نہیں آئی ۔ اپوزیشن کی اکژیت اب ایسے نئے ٹی او آرز پر متفق ہے جس میں عدالت عظمیٰ کو صرف وزیر اعظم کا نام بھرنا ہے اور بس۔ جو پارٹیاں رسک فری نتیجے کی خواہاں ہیں انہوں نے البتہ وزیر اعظم کا فوری مطالبہ بھی ساتھ رکھا ہے لیکن گردان ٹی او آرز کی ہے۔ حکومت اپنے ٹی او آرز پر قائم ہے اور اپوزیشن اپنے ٹی او آرز پر بضد ۔ کیا ہو تا ہے؟ کیا ہو سکتا ہے؟ کیا انہونا ہو جائے گا؟ ہمیں معلوم نہیں کہ دست شناسی اور ستاروں کی چال چلن سے ہمیں کبھی لگاؤ رہا نہ انہیں ہم سے لاگ۔ البتہ دونوں اطراف کی ضِد ہمیں وہ آب آؓ ب کرتے جان ہارنے والا نوجوان ضرور یاد آرہا ہے۔
پانامہ لیکس میں شامل تقریباٌ دو سو ناموں میں اشرافیہ کے سبھی شعبوں کے نام ہیں۔ آف شور کمپنی ہونا بجائے خود جرم نہیں۔ عالمی مالیاتی نظام میں یہ کمپنیاں مدت سے کام کر رہی ہیں ۔ معاملہ اس وقت مشکوک اور پر اسرار ہو جاتا ہے جب اصل مالک کئی کاغذی پردوں کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے، ان جانے ذرائع سے موٹی موٹی رقموں کا ٹرانسفر ان کمپنیوں کے ذریعے ہو تا ہے لیکن اس ا حتیاط اور رازداری کے ساتھ کہ سراغ نہیں ملتا کہ یہ سرمایہ کہاں سے آیا، کدھر گیا، اس عجیب مانوس اجنبی کا کبھی پتہ نہیں چل پاتا ۔ دنیا بھر میں درجن بھر ٹیکس ہیون ہیں۔ ان کے ہاں راز داری کا اہتمام ا یسا ہے کہ سر پٹخنے کے باوجود ان مانوس اجنبیوں کے گئے دنوں کے سراغ کا اتہ پتہ نہیں لگ پاتا ۔بقول ناصر کاظمی
گئے دنوں کا سراغ لے کر کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
میکاولی کا مشہور مقولہ ہے کہ Power corrupts; and absolute power corrupts absolutely ۔ حالیہ سالوں میں آمریت اور جمہوریت کی پاور کی آڑ میں دنیا کے بیشتر ممالک میں کرپشن کا بازار گرم رہا ہے۔ حکومتی طاقت یا نظام میں موجود خفیہ سرنگوں کے ذریعے کرپشن ایک عالمی وباء ہے۔ برازیل ہو یا جنوبی افریقہ، ملا ئشیاء ہو یا مصر، نائجیریا ہو یا عراق۔۔۔ کرپشن کی کہانیاں ترکی، روس اور چین میں بھی ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں بھی تمام تر قوانین اور سختیوں کے باوجود ٹیکس چوری اور کرپشن کے اپنے انداز ہیں۔ کہاں تک سنو گے کہیں تک سنائیں۔
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے ممالک کی طرح کرپشن ہمارے سیاسی اور گورننس سسٹم میں جڑوں تک راسخ ہو گئی ہے۔ سیاسی اشرافیہ کا راج ہو یا غیر سیاسی اشرافیہ کا، کرپشن میں حالیہ دِہایوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ کرپشن کے سرمائے کو محفوظ اور گردش میں رکھنے کے لیے بلیک اکونومی کو ہر دور میں تحفظ دیا گیا۔ اب یہ عالم ہے کہ بلیک اکونومی کا حجم دستاویزی معیشت سے کہیں زیادہ ہے۔ کرپشن اور ٹیکس چوری کے سرمائے کی آزادانہ گردش کے لیے 90's میں فارن کرنسی کے ایسے اصول و ضوابط وضع ہوئے جن کی رو سے ملک میں آنے اور جانے والے فارن کرنسی سرمائے پر کوئی روک ٹوک ہے اور نہ پوچھ گچھ۔ شرمناک ٹیکس گی ڈی پی کے تناسب کی موجودگی میں بلیک اکونومی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہو رہی ہے ۔
ایک دوسرے پر الزامات کے سیاسی کلچر نے کرپشن جیسے ہمہ گیر مسئلے کو دھیرے دھیرے عملاٌ بے حسی کی حد میں دھکیل دیا ہے۔ اصلاحات اور اقدامات کی بجائے الزامات کا تبادلہ ہی حاضر توفیق خدمت خلق رہ گئی ہے۔ پانامہ لیکس کے بعد اٹھنے والے طوفان کا رخ اصلاحِ احوال کی اجتماعی بہتری کی بجائے سیاسی شکار پر ہے۔ وزیر اعظم کے استعفیٰ کی گردان اور ٹی او آرز کی آڑ میں سسٹم کی بوسیدگی دور کرنے کے بارے کوئی سیریس ہے نہ فکر مند۔ شاید یہی ایک تیر بہدف طریقہ ہے سسٹم میں اشرافیہ کی کرپشن جاری رکھنے کا کہ ایک آدھ شخصیت کی مٹی جھاڑ دی جائے تاکہ باقی سب اسی روٹین سے چلتا رہے۔ کرپشن کے تیز بخار میں مبتلاء معیشت سے تو ٌ بس کر بس کرٌ کی آواز آ رہی ہے لیکن ہمارے سیاست دانوں کی تمام کھیپ اسٌ فارسیٌ کو سمجھنے کی بجائے صرف اور صرف ٹی او آرز ہی سے علاج کرنے کے در پئے ہیں۔ ہمیں بھی اس غم زدہ ماں کی طرح گلہ یہی ہے کہ ٹی او آرز ٹی اوآرز کی گردان کی بجائے ٌ سب کا احتسابٌ ٌ کا عرقِ شفاء معیشت اور سیاست کو پلا دیتے تو سیاست اور معیشت مسلسل جان کنی کے عذاب سے ہمیشہ کے لیے سکھی ہو جاتی !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *