ماں کی قبر کے سرہانے!

akhter saeed madan..

اماں۔۔۔۔تجھے تویاد ہوگا!!!
ایک روز کھیلتے ہوئے میری ایڑی میں کانٹا اتر گیا تھااور میں روتا ہوا تیرے پاس آیا تھا ناں۔۔اور تو نے مجھے آغوش میں بھر لیا تھا۔تو نے اپنی پوروں سے نہ صرف میری ایڑی سے کانٹا نکالا تھا بلکہ اپنا لعاب دہن بھی میری ایڑی پر لگایا تھا۔میرے جلتے ہوئے تلوے پر یکدم جیسے ٹھنڈ پڑ گئی تھی اور میں روتا ہوا چپ کر گیا تھا۔ اماں تو نے میرے آنسو پونچھے تھے اور میرے گال پر بوسہ دیا تھا اورمیں ایک لمحے بعدتیری گود سے پھدک کر دوباہ کھیل کود میں مشغول ہو گیا تھا۔اس روز کے بعد جب بھی میں چاہے جھوٹ موٹ کا کہتا کہ میرے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا ہے تو تو مجھے اپنی آغوش میں بھر کر میرے تلوے پر اپنا لعاب دہن لگاتی تھیں۔میری ساری تھکن اور پاؤں کی آبلہ پائی کافور ہو جاتی تھی۔مگر آج ۔۔۔۔آج اماں ۔۔۔۔!کیا تجھے نہیں معلوم کہ تیرے بیٹے کے جسم ہر ایک بال کانٹا بن کر اس کے بدن میں اتر چکا ہے۔
اماں۔۔۔تجھے یاد ہو گا!!!
جب میں نے تجھے بتایا تھاکہ میں جھوٹ موٹ کہتا تھا کہ میرے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا ہے اور تو نے میرا ہاتھ اپنے دل پر رکھ کر کہا تھا۔میرے بیٹے جب تم مجھے کہتے تھے کہ میرے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا ہے تو نامعلوم کیوں میرے دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی تھی۔لگتا تھا کوئی سول سی میرے دل میں اتر گئی ہے۔مگر آج ۔۔۔اماں میرا سارا جسم کانٹوں سے بھر گیا ہے ،کوئی میری بات کا اعتبار نہیں کرتا ۔میں جھوٹ نہیں بول رہا۔کوئی اپنا لعاب دہن میرے فگار بدن پر نہیں لگاتا۔
اماں۔۔۔!!!
تو مجھے سامنے بٹھا کر کھانا کھلاتی تھیں۔گرمیوں کے موسم میں تیرے ہاتھ کی چپڑی ہوئی روٹی اور آلو کی بھجیا میری زندگی کا سب سے مڑے دار کھانا ہے۔تیرے ہاتھوں سے بلوئی ہوئی نمکین لسی میری حیاتی کا عزیز ترین مشروب ہے ۔۔۔اماں ، آج میں بہت مہنگے مہنگے کھانے کھاتا ہوں،بہت قیمتی قیمتی مشروب پیتا ہوں مگر سب بے مزا،سب بے ذائقہ۔ڈاکٹر کہتے ہیں یہ غذا میرے معدے میں جا کر زہر بن جاتی ہے۔شوگر ،ہائی بلڈ پریشر،اختلاج قلب ،ہیپاٹئٹس اور ناجانے کیا کیا بتاتے ہیں۔
اماں۔۔۔!!!
تجھے یاد ہوگا۔جب مجھے نیند نہیں آتی تھی تو تو مجھے گرم گرم دودھ پلاتی تھی۔میرے بالوں میں تیل ڈال کر مالش کرتی تھی،تو میں چند منٹوں میں محو خواب ہو جاتا تھا۔گہری نیند سو جاتا تھا۔مگر اب مجھے نیند نہیں آتی تو میں نیند آور گولیاں پھا نکتا ہوں۔میرا ذہن موؤف ہو جاتا۔میں بار بار ڈر کر اٹھ جاتا ہوں۔دن کے وقت چلتا پھرتا اونگتا رہتا ہوں۔کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا،کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی۔میں اکثر اپنے گھر کا دروازہ بھول جاتا ہوں۔
اماں ۔۔۔تجھے تویاد ہوگا!!!
ایک بار میں سکول کے ایک ٹیٹ میں فیل ہو گیا تھا۔تو نے مجھے بہت مارا تھا۔تو نے کتنے ہی دن مجھے نہیں بلایا تھا۔لیکن اس دن کے بعد میں کسی کلاس میں فیل بھی تو نہیں ہوا تھاناں۔مگر سن اماں۔۔۔!!!آج تیرا بیٹا زندگی کے ہر امتحان میں فیل ہو گیا ہے۔آج کوئی مار کر بھی مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھاتا۔
اماں۔۔۔!!!
ساون بھادوں کے موسم میں جب نم آلود ٹھنڈی ہوا چلتی تھی توتو گھر کی چھت پر مجھے ایک جھگی ڈال دیتی تھیں۔جس میں بیٹھ کر میں سکول کا کام کرتا تھا۔کتنا گداز،کتنی اپنایت ہوتی تھی اس جھگی میں۔آج بھی ٹھنڈی ٹھنڈی نم آلود ہوا چلتی ہے،لیکن اس میں وہ گداز وہ محبت ،وہ والہانہ پن نہیں ہے ۔ان دنوں میں جس مکان میں رہتا ہوں ا س کے فرش پر پتھریلی ٹائلیں لگی ہیں ۔میں ننگے پاؤں چلوں تو بہت سی بکھری ہوئی کنکریاں میرے پیروں میں چھید کر دیتی ہیں۔
اماں۔۔۔صرف ایک بار تو آ۔۔۔صرف ایک بار میں آجا ناں۔۔۔میرے بدن پر اپنا لعاب دہن لگا جا۔۔۔صرف آخری بار میں تیرے ہاتھ کا پکا ہوا،زندگی کا آخری کھانا چاہتا ہوں۔مجھے بہت بھوک لگی ہے ماں۔۔۔مجھے نیند نہیں آرہی ۔۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *