ذکر ایک مسلمان سیکولر حکومت کا

naeem-baloch1عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ مغل حکمران شاہنشاہ اکبر وہ عبقری تھا جس نے یہ راز پا لیا تھا متعدد مذاہب کے حامل معاشروں میں سیکولر طرز حکومت ہی امن اور استحکام کی ضمانت ہے ۔ لیکن یہ ایک شدید قسم کی تاریخی غلطی ہے ، دراصل یہ اعزاز شیر شاہ سوری (1545 1486-کو جاتا ہے ۔ ہندستان کی پوری مسلم تاریخ میں اس سے پہلے آپ کو کسی حکمران سے منسوب یہ الفاظ نہیں ملیں گے :
’’میں فرید خان مسلمان ہوں، لیکن میں شیر شاہ ہر مذہب والے کا حاکم اور خادم ہوں۔ میری رعایا میں سے کسی سے مذہب کے سبب بے انصافی ہوئی تو میں ظالم پر بجلی بن کر گروں گا، اور ظالم کو مٹا دوں گا، یا خود مٹ جاؤں گا یا اپنی سلطنت چھوڑدوں گا۔‘‘(تاریخِ شیر شاہی از اکبر خاں سروانی )
شیر شاہ سُوری کے والد محترم سورا خان افغانستان سے ہندوستان آئے۔ ان کے والد نے علوم و فنون کی تعلیم دی۔ اس زمانہ میں فنون سپہ گری سب سے اہم اور قابل قدر مہارتیں سمجھی جاتی تھی۔ زمانے کا دستور یہی تھا کہ حکومت کرنے کا اختیار اسی کو حاصل ہے جو طاقت ور ہے۔ جہاد وغیرہ کی جن علمی بحثوں اور شرائط کا آج ذکر کیا جاتا ہے ، اس دور میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔چنانچہ شیر شاہ اور ہمایوں کی جنگ کے بارے میں جب کوئی بات کی جاتی تو کہا جاتا کہ شہنشاہ بابر کو اگر یہ حق حاصل تھا کہ وہ ابراہیم لودھی پر حملہ کرتا اور اسے شکست دیتا، تو شیر شاہ کو بھی پورا حق حاصل تھا کہ وہ ہمایوں سے باد شاہت چھینتا۔اس دور کی ایک کتاب’’عظیم نامہ‘‘ میں شیر شاہ اور ہمایوں کی کشمکش پر صرف چند فقرے ملتے ہیں :’’بابر اگر سلطنت قائم کرسکتا تھا، تو شیر شاہ کیوں سلطنت قائم نہ کرتے، وہ زیادہ قابل اور ممتاز شخص تھے۔ عادل تھے، اور لہوو لعب سے ان کا کچھ واسطہ نہ تھا۔‘‘
سیکولر ازم کے ساتھ ساتھ شیر شاہ سوری نے عوامی فرمانروائی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا ۔اُس دور میں جب شہنشاہیت کا ایک ہی تصور باقی رہ گیا تھا اوروہ تھاسلطنت کے ذرائع اور وسائل کو شاہی تزک و احتشام اور شان و شوکت کے لیے مخصوص سمجھنا۔اس میں عوامی فلاح اور خوش حالی کا احسا س بہت کم تھا۔اس سے پہلے یہ احساس ہمیں اشوک اعظم کے ہاں ملتا ہے۔ ایک عظیم سوشل اور عوامی ریاست کے قیام کا موقع اگر چہ شیر شاہ کو نہ مل سکا لیکن پھر بھی شہنشاہت کے اس پانچ برس کے دور میں اس عظیم عوامی فرمانروا کے ہاتھوں ایک فلاحی اسٹیٹ کے طرز کی حکومت کی داغ بیل پڑی ۔ شیر شاہ کا لنجر میں اسلحہ خانہ کے حادثے کا شکا رنہ ہوتے تو برطانوی سیاستدانوں کو اس فخر کا موقع نہ ملتا کہ وہ دور جدید کے پہلے جمہوریت پسند حکمران ہیں۔
شاہی محلوں ، قلعوں ، شیش محل ، حمام خانوں کی تعمیر کی جگہ اس فرمانروا نے عوامی مفاد کے لیے خلیج بنگال سے سرحد تک دوہزار میل لمبی وسیع و عریض قومی شاہراہ کی تعمیر کرائی جو آج بھی مواصلات اور نقل و حرکت کے لیے ایک مثالی رابطہ کاکام دے رہی ہے۔ جسے ہم آج گرینڈ ٹرنک روڈ (G T Road)کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ قومی شاہراہوں کی تعمیر کی تاریخ میں یہ پہلی مثالی شاہراہ کہی جا سکتی ہے جو مشرق سے مغرب تک بسے ہوئے عوام کے لیے تعمیر کرائی گئی۔بلا امتیاز مذہب وملت عوام کے مفاد میں اپنی چھوڑی ہوئی یاد گار جی ٹی روڈ پر مساجد، مندر ، سرائے ، مسافر خانے ، لنگر خانے ، اور جگہ جگہ کنوئیں کھدوائے ۔ شاہراہ کے دونوں جانب سایہ دار درختوں کی قطاریں شیر شاہ کی یاد آج بھی تازہ کرتی ہیں۔ مورخین کو حیرت ہے کہ تھوڑی مدت میں ہر دو میل کے فاصلہ پر سرائیں،قیام اور کھانے پینے کا انتظام کیسے ممکن ہوا جبکہ شیر شاہ کو شہنشاہ ہمایوں کادوبار سامنا بھی کرنا پڑا۔لعل و زمرد ، لولو اور مرجان کی خواب گاہیں اور محل سرا بنانے کے بجائے شیر شاہ نے ملک کا تاریخی سروے کرایا اوراس کے نتیجے میں لگان اور محصولات کا انتظام کیا۔ایسا زرعی ٹیکس لگایا جو ہر ایک کے لیے قابل برداشت تھا۔ زمین کی پیمایش کا وہ نظام قائم کیا جو آج بھی رائج ہے ۔ یاد رہے کہ بیگہ، مرلہ، کنال اور ایکڑ نامی سکیل اسی زمانے میں رائج ہوئے ۔ البتہ اس میں وقتاًفوقتاًاصلاحات ہوتی رہیں۔ اسی طرح چھٹانک ، تولہ، ماشا،رتی کا نظامِِ اوزان بھی اسی دور میں بنایا گیا۔ ’’روپا‘‘ کو بدل کر روپیہ نام سے کرنسی کا آغاز بھی شیر شاہ نے کیا جو آج بھی اسی نام سے ہندستان، پاکستان ،انڈونیشیا ،موریطانیہ ، بھوٹان ، مالیدیو، سری لنکا اورنیپال کی کرنسی کا نام ہے۔(جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *