پانامہ لیکس کا اُونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟

نوید رشید

naveed rasheed

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد فروری کے مہینے سے نواز شریف حکومت کی مشکلات شروع ہوئیں، مارچ کے مہینے میں ممتاز قادری ایشو کی وجہ سے پاکستانی عوام میں کافی غصہ پایا جاتا تھا،ابھی لوگ اس ایشو کو بھولے نہیں تھے کہ اپریل 2016 کے آغاز میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا دھماکہ پانامہ لیکس کی صورت میں ہو گیا ، جب پانامہ لیکس نے پاکستان سمیت دنیا میں بڑے بڑے سیاست دانوں،بیوروکریٹوں، فلمسٹاروں،صحافیوں ، سرمایہ داروں کی آف شور کمپنیوں کو ساری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا،پانامہ لیکس سے پہلے کچھ سال قبل وکی لیکس سکینڈل بھی منظر عام پر آ چکا تھا، وکی لیکس کے اثرات اپنی جگہ پر تھے ، مگر پانامہ لیکس اس لیے زیادہ ہائی لائٹ ہوا کہ اس میں کھربوں روپوں کے آف شور اکاونٹس کی تفیصلات منظر عام پر آئیں ، ساری دنیا جانتی ہے کہ آف شور اکاونٹ ٹیکس سے بچنے کا ایک طریقہ ہے ، آف شور کمپنیوں کے نام پر زیادہ تر روپیہ مختلف ناموں سے مختلف ملکوں کے کریم طبقے نے چھپا کر رکھا ہوا تھا ،آپ پانامہ لیکس کے طوفان کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں،کہ دو ملکوں کے وزیر اعظموں کو استعفی دینا پڑا ، برطانیوی وزیراعظم کو پوری پارلیمنٹ کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنی پڑی ، دنیابھر میں لاکھوں افراد نے اپنے حکمرانوں کے خلاف جلوس نکالے ، جو کئی ملکوں میں زوردار تحریک کی شکل اختیار کر گے ،دنیابھر کی حکومتیں پانالہ لیکس کے منظر عام پر آنے سے ہل کر رہ گئی ،
اب آئیں زرا پاکستان کی طرف ،جو لوگ اورجماعتیں ممتاز قادری کے ایشو پر نواز حکومت کے خلاف غم وغصے کا اظہار کرتے نہیں تھک رہے تھے وہ تمام لوگ اور جماعتیں پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد گُم سُم ہو گئے ، اور خلاف توقع پاکستان میں سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا ، شروع شروع میں یہ احساس ہو رہا تھا کہ جس طرح ماضی میں بڑے بڑے مالیاتی سکینڈل وقت کے ساتھ ساتھ مٹی پاو فارمولے کی نظر ہو گئے پانامہ لیکس بھی اسی طرح مٹی پاو فارمولے کی نظر ہو جاے گا ، مگر حیران کن طور پر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پانامہ لیکس کی تپش کم ہونے کی بجاے زیاوہ ہوتی جا رہی ہے ، پاکستان میں گوکہ ابھی تک پانامہ لیکس کے خلاف کوئی بڑا جلوس نہیں نکلا، البتہ حالات و واقعات اب یہ بتا رہے ہیں کہ پانامہ لیکس کا ایشوپاکستان میں آہستہ آہستہ اپنا رنگ دکھانا شروع ہو گیا ہے ،حزب اختلاف کی سب سے موثر جماعت تحریک انصاف نے اسلام آباد میں جلسہ کے بعد پانامہ لیکس ا یشوکو عوام میں لے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اسی لیے لاہور میں جلسہ ہوا اور اب فیصل آباد میں 20 مئی کو جلسہ کرنے جا رہی ہے ، وقت کے چکر میں گُم ہوتی پیپلز پارٹی بھی پانامہ لیکس کی آڑ لیکر میں اپنی عوامی مقبولیت کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے ، اسی طرح جماعت اسلامی مسلم لیگ ق بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی تیاری میں ہیں ، پانامہ لیکس میں یو ں تو پاکستان سے بہت نام آے مگر خصوصا الیکڑانک میڈیا حکمران جماعت پر کچھ زیادہ ہی بھاری ثابت ہو رہا ہے اور پرنٹ میڈیا بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار نظر آرہا ہے وہاں دوسری طرف الیکڑانک و پرنٹ میڈیا کے کچھ گروپ حکمران جماعت کی اعل اعلان مدد کرتے بھی نظر آ رہے ہیں -
اس میں کو شک نہیں کہ پانامہ لیکس نے سب سے زیادہ مشکلات مسلم لیگ ن کے لیے پیدا کیں ہیں ، میاں نواز شریف کو قوم سے خطاب کرنا پڑا ، جب بات نہ بنی تو میاں نواز شریف نے بھی تحریک انصاف کے مقابلے میں جلسے شروع کر دیے ، مسلم لیگ ن کے اندرونی زرائع پانامہ لیکس پر دباو محسوس کر رہے ہیں ، یہ ہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف کو عوام سے رجوع کرنا پڑا ، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوامی جلسوں کے بعد حالات مسلم لیگ ن کے کنٹرول میں آ جائیں گے ، اس بات کا جواب تو بہر حال آنے والا وقت ہی دے گا ، کیونکہ پانامہ لیکس کے بعد آہستہ آہستہ احتساب کا نعرہ زور پکڑتا جا رہاہے ، پاکستا نی تا ریخ کے سب سے مقبول آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پانامہ لیکس کے بعد فوج میں بھی احتساب کا عمل تیز کر دیا ، گوکہ پاکستان کی مسلح افواج میں احتساب کا ایک خود کار نظام پہلے ہی موجود ہے مگر پانامہ لیکس کے طوفان میں میڈیا نے آرمی آٖفیسرزکے خلاف جنرل راحیل شریف کے اقدام کو پہلی بار بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیاہے،پانامہ لیکس کے مخصوص حالات کی وجہ سے اب عام عوام میں یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ اگر آرمی اپنا احتساب کر سکتی ہے تو سیاست دا نو ں بیوروکریٹوں صحافیوں اور سرمایہ داروں کا احتساب کیوں نہیں ہو سکتا ،
شائد یہ ہی وجہ ہے کہ میاں نواز شریف گرم سیاسی ماحول میں اسلام آبادکے ٹھنڈے کمروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گے ، اب وہ شہر شہر جلسے کر رہے ہیں ، اور ترقیاتی کاموں کے افتتاح پر افتتاح کر رہے ہیں ، جس سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے ،یا شائد وہ اگلے الیکشن کی کمپین شروع کرنے کے لیے ماحول کو گرما رہے ہیں، تاکہ پانامہ لیکس کے اثرات کو عوامی طاقت سے کم کیا جا سکے ، مگرپھر آئی سی آئی جے کنسورشیم نے پانامہ لیکس کے پارٹ ٹو کو 9 مئی کو منظر عام پر لانے کا اعلان کر دیا جس سے تقریبا ساری دنیا میں خصوصا سیاستدان ایک بار پھر پریشان ہیں کہاب کیا ہو گا،اور ،پاکستان کے حکومتی حلقوں میں مزید بے چینی محسوس کی جا رہی ہے ، دوسری طرف پاکستانی میڈیا بھی 9 مئی کے لیے اپنے ٹوکے تیز کر رہا ہے ،
پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد روز نئی نئی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے ، جسکی تازہ ترین مثال مشہور صحافی روف کلاسرہ نے دوبئی لیکس جاری کر دیں، جس میں ان پاکستانیوں کے نام افشا کرد یے گئے ہیں جنکی
دوبئی میں بڑی بڑی جائیدادیں ہیں ، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں 269 خواتین کا نام بھی شامل ہے ، جنکے نام پر بھی بہت کچھ منظر عام پر آ رہا ہے ، جس طرح روز نئی نئی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے صاف نظر آ رہا ہے کہ آنے والے دن حکومت کے لیے بھاری ہو سکتے ہیں ، فلحال حکومت ایک کے بعد ایک مشکل کا سامنا کر ہی ہے ، مگر پانامہ لیکس کا پانی حکومت کے گلے گلے تک جا پہنچا ہے ، میاں نواز شریف حکومت نے اگر
پانامہ لیکس معماملے کو ہنڈل کرنے میں کوئی اور غلطی کی تو یہ ایشو حکومتی ساکھ کے ساتھ ساتھ حکومت کے وجود کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ،
آنے والے دو سے تین ماہ بہت اہم ہیں کیونکہ اگر اپوزیشن جماعتیں پانامہ لیکس پر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہو گئیں جسکے امکانات ففٹی ٖففٹی ہیں، تو حکومت کے لیے گرمی کے مہینے بلکل اسی طرح بھاری ثابت ہوں گئے جس طرح پیچھلے دس سال سے عوام کے لیے لوڈشیڈنگ کی وجہ گرمیوں کے مہینے بھاری ہیں،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *