نوجوان لڑکی کی بے باک جنسی اعترافات کی سٹوری نے سوشل میڈیا پر ریٹنگ کے ریکارڈ توڑ دیئے

zahra

سوشل میڈیا پر کوئی بھی انہونی خبر وائرل ہو جاتی ہے لیکن جب معاملہ کسی ایسی لڑکی کا ہو جو غیر شادی شدہ اور محض انیس سال کی ہو اور وہ بے باکانہ انداز میں اپنے جنسی اعترافات بیان کردے تو ایسی سٹوری یقینا " سب کو چونکا کر رکھ دیتی ہے- اسلام آباد کی زہرہ حیدر نے سوشل میڈیا پر اپنی سیکس لائف بیان کر کے بہت سے کمنٹس حاصل کیے۔ زہرہ حیدر جو ابھی ۲۰ سال کی عمر کی ہیں ۱۹سویں جنم دن سے کچھ دن پہلے کینیڈا منتقل ہوئیں۔ انہوں نے لکھا کہ وہ انہوں نے اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہوٹل روم کا استعمال کیا اور ان کے والدین نے انہیں عجیب سے لباس پہنائے  جو ایک عورت کے لیے بلکل مناسب نہیں تھے۔ ان کی یہ سٹوری بہت زیادہ شئیر کی گئی اور میڈیا پر ایک بہت بڑی بحث چھڑ گئی ۔ کچھ لوگوں نے ان کے کچھ خاص جملوں پر بہت توجہ دی جن میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ پورن موویز دیکھی جاتی ہیں،

زہرہ حیدر کی مکمل سٹوری پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

زہرہ حیدر کے نام علی معین نوازش نے اپنے خط میں کیا لکھا؟ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

پاکستانی سیکس کے بھوکے اور پریشان ہیں اور یہ کہ میں بارہ سے زیادہ لوگوں سے جنسی تعلقات رکھ چکی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ایک کھلے خط میں علی معین نوازش نے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستانی کلچر کے بارے میں اپنے تجربات کی بنا پر انداز ے لگانے کا کوئی حق نہیں رکھتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زہرہ حیدر نے کوئی قابل قبول ثبوت نہیں دیاکہ وہ کیوں پاکستانی مسلمانوں کو بہت زیادہ سیکس کے بھوکے اور پورن موویز دیکھنے والے لوگ کہ رہی ہیں۔ ان کا یہ خط بہت زیادہ شئیر کیا گیا ۔کچھ لوگوں نے زہرہ کی ہمت کو بہت سراہا ہے ۔ زہرہ حیدر نے بتایا کہ انہوں نے یہ آرٹیکل ان لوگوں کی ہمت بڑھانے کے لیے لکھا ہے جو اپنے تجربات بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مجھے پاکستان سے ایک پیغام ملا جس میں ایک آدمی کے بھائی کو ایڈز کی بیماری لاحق تھی اور وہ اپنی ہچکچاہٹ کی وجہ سے اپنی ذاتی زندگی کے معاملات بیان نہیں کر پاتا تھا۔ آدمی نے بتایا کہ چونکہ اس آدمی کو اپنے جسم مین ہونے والے معاملات کی سمجھ نہیں آتی تھی اس لیے وہ موت کے منہ میں چلا گیا۔

source:bbc

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *