بھائی چارے کی فضا

Anjum Niaz

(انجم نیاز)

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے دو جوشیلے ترجمانوں کے بھائیوں کو پی آئی اے میں اعلیٰ عہدے مل گئے ہیں؟ہم گزشتہ مئی میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے ان ترجمانوں ، سینٹر مشاہد اﷲ خان اور طارق عظیم کی کارگزاری کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ سینٹر مشاہد اﷲ رنگین گفتگو اور جارحانہ انداز کے ساتھ ٹی وی شوز میں اپنے ساتھ شریک مہمانوں کی خبر لیتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کی اعلیٰ قیادت کی نظروں میں بلند مرتبہ پاتے ، جبکہ طارق عظیم مدہم، محتاط اور سلجھے ہوئے لہجے میں میاں صاحب کا دفاع کرتے۔ ان دونوں احباب کی کارکردگی اتنی متاثر کن تھی کہ گماں ہوتا تھا کہ ایوانِ وزیرِ اعظم میں ان کا اپنا ہی آدمی آنے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ افراد اس خیال کو بے بنیاد سمجھتے ہوں، لیکن ٹھہریں، طارق عظیم کے بھائی شجاعت عظیم اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور کے ائیرپورٹس کی ’’رائل ائیر پورٹ سروس‘‘ کے شراکت دار مالک ہیں۔ یہ کمپنی ٹرمینل سروسز، کارگو اور ائیر ٹریفک کنٹرول جیسے فرائض سرانجام دیتی ہے۔یہ سعودی ائیر لائن، اتحادا ئیر ، گلف ائیر اور قطر ائیر کو سروسز فراہم کرتی ہیں۔ ان کا چھوٹا بھائی اعظم ایسا ہی کاروبار کینڈا میں کرتا ہے اور اس کے پاس اُس ملک کی شہریت ہے ۔
ایک بصارت سے محروم شخص بھی اس بات پر حیران ہو گا کہ نواز شریف نے اس کا انتخاب کیوں کیا ہے ؟کیا اس تقرری میں تین تضادات دکھائی نہیں دیتے؟ پہلی بات یہ ہے وہ رائل ائیر پورٹ سروسز کا شریک مالک ہے، اگرچہ اس کا کہنا ہے کہ اُس نے بطور سی ای او استعفا دے دیا ہے، لیکن اگر میڈیا رپورٹس پر یقین کر لیا جائے تو وہ اتنا امیر ہے اور پھر وہ ائیر لائن چلانے کامتمنی بھی ہے، اس لیے اُس کی نظر پی آئی اے کو خریدنے پر لگی ہوئی ہے، اگراسے نجی تحویل میں دیا جاتا ہے۔کیا یہ بات دل کو لگتی ہے کہ ایک شخص جو اتنے وسائل رکھتا ہو کہ وہ ایک فضائی کمپنی کو خریدسکتا ہو، وہ اس زوال پذیر ادارے میں کپتان کے فرائض سرانجام دے گا؟چناچہ منطق یہی ہے کہ پی آئی اے کا خاتمہ جلد از جلد ممکن بنایا جائے تاکہ اسے بیچے بغیر کوئی چارہ نہ رہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اعظم، چوہدری منیر کا کاروباری شراکت دار ہے اور چوہدری منیر کو فتح جنگ میں ائیر پورٹ کی تعمیر کا کام ملا ہے۔ تیسرا تضاد یہ ہے کہ اعظم کینڈا کی شہریت رکھتا ہے۔ طارق عظیم پاکستان ائیر فورس میں درمیانے درجے کے افسر تھے مگر دہری شہریت کی بنا پر اُنہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔
بات یہ ہے کہ کسی بڑی شخصیت کا بھائی ہونا کوئی گناہ نہیں ہے۔اُن کا سماجی بائیکاٹ صرف اسی لیے نہیں کیا جا سکتاکہ ان کا بھائی اقتدار میں ہے۔ وہ اپنے بھائی کے ادارے کے علاوہ جس شعبہِ زندگی میں جانا چاہیں جاسکتے ہیں، تاہم اُن کو ٹیکس دھندگان، جن میں اب مزید حکمران طبقہ پالنے کی سکت نہیں ہے، کی رقم پر عیش کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مثال کے طور پر کیا کوئی بتا سکتاہے کہ صدر زرداری کے حالیہ دورہِ لندن کے اخراجات کس نے برداشت کیے ہیں؟
پاکستان میں مسل�ۂ یہ ہے کہ یہاں ’’بھائی چارہ ‘‘ بہت گہری جڑیں رکھتا ہے۔ اور پنجابی شاعر وارث شاہ نے بھی کہا ہے کہ بھائی بھائیوں کے دست و بازو ہوتے ہیں۔ چناچہ اسی بھائی چارے کا مظاہر ہ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب ایک بھائی فرض کریں وزیر بن جاتاہے تو دوسرے بھائی کو سرکاری عہدے میں یک لخت ترقی مل جاتی ہے ، اور ہو سکتا ہے کہ تیسرا نجی شعبے میں ہو اور وہ وہاں بڑے بھائیوں کے کندھے کا سہار ا لے کر اپنے لیے چاندی کرنا شروع کردے۔ شاید یہی موقع ہوتا ہے جب بڑے بھائی چھوٹوں کو شفقت بھری سرزنش کرتے ہوئے کہتے ہیں...’’کچھ کر لو نوجوانوں ، اٹھتی جوانیاں ہیں۔‘‘ہمارے معاشرے میں بھائیوں، بہنوں، بیٹوں، بیٹیوں اور رفقائے حیات کا سہار ا لے کر آگے بڑھا جاتا ہے۔ پتہ نہیں ہم پاکستان کو ایک جمہوری ملک کیوں کہتے ہیں؟حقیقت یہ ہے کہ یہاں حکومت ’’دولتِ مشترکہ ‘‘ کی طرح کام کرتے ہوئے اپنے اور اپنے جیسے دیگر وی آئی پی خاندانوں کو نوازتی ہے۔ یہ ایک ایسی گنگا ہے جس میں جج، جنرل، مارشل، ایڈمرل، وزرا وغیرہ ہاتھ اس طرح ہاتھ دھوتے دکھائی دیتے ہیں کہ، بقول غالب...’’جذبہِ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے۔‘‘یہاں کو ن ہے جس کادامن صاف ہے؟
پی آئی اے میں ایک سیاسی شخصیت کے بھائیوں کے ساتھ سابقہ حکومت کے افسران نے نامنصفانہ سلوک کیا۔ ایک انگریزی اخبار نے گزشتہ دنوں اپنے اداریے میں لکھا ...’’پی ایم ایل (ن) کے سیکریٹری انفارمیشن مشاہد اﷲ خان کے دوبھائیوں کی پی آئی اے میں کئی سالوں سے ترقی رکی ہوئی تھی۔ اب اُن کو ترقی دے دی گئی ہے۔ اس پر ان کے اہلِ خانہ کا خیال ہے کہ یہ کوئی ناانصافی نہیں بلکہ حقدار کو اُن کو حق ملا ہے۔ ‘‘چناچہ مشاہد اﷲ کے بھائیوں، رشید اﷲ ، جو ڈپٹی جنرل مینجرا ور سجاد اﷲ، جو مینجر بن گئے ہیں، کی گویالاٹری نکل آئی ہے۔ اب پی آئی اے ان کو 2007 سے ان عہدوں پر فائز کر کے ان کے واجبات ادا کرے گی۔
پی آئی اے نے شجاعت عظیم کو سات بلین روپوں کی ادائیگی کی ہے تاکہ وہ اس ڈوبتی ہی فضائی کمپنی کو چھے ماہ کے اندر بحالی کی طرف گامزن کرے۔ اگروہ یہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا تو کیا ہوگا؟اگر یہ بھاری بھرکم افراد ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا؟زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ان افراد نے رضاکارانہ طور پر تنخواہیں لینے سے انکار کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا یہ افراد پی آئی اے کو زندگی کی طرف لوٹا سکیں گے؟کیا یہ لوگ ماہرینِ فن اور باصلاحیت لوگوں، جن کی پی آئی اے کو ضرورت ہے، کو آگے آنے دیں گے؟ کیا یہ ملازمین کی تعداد کم کرنے اور دیگر مشکل فیصلے کرنے کا یارا رکھتے ہیں؟خوش قسمتی سے نواز شریف نے ملازمتوں پر فائزکرنے کا کام اپنے ذمے نہیں لیا ہوا ہے، لیکن ان کی حکومت میں پسندکی ملازمتیں پسندیدہ افراد کو دینا اور اقربا پروری پروان چڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب لوگ جانتے ہیں کہ اگر وہ اعلی عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ آپ ان کے بنائے ہوئے سہ رکنی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنی درخواست دیں۔ اگر آپ ان کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ملازمت پکی۔ یہاں آپ کو کچھ سوالات کا جواب دینا پڑے گا اور اس کے لیے ضروی ہے کہ آپ ان کو مطمئن کر سکیں کہ جو کچھ آپ جانتے ہیں وہ ان کے علم کے مطابق ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *