سکیورٹی والوں کے ساتھ عوامی رویے۔۔۔!

Dr abdul basit

ڈاکٹر عبدالباسط

اگر آپ کا خیال ہے کہ میرے اعصاب پر نیر بخاری صاحب کا واقعہ سوار ہے اور میں آج کا کالم اس واقعہ پر لکھوں گا تو نہیں، جناب نہیں۔ جو کچھ اسلام آباد کچہری میں نیر بخاری صاحب نے پولیس اہلکار کے ساتھ کیا، اس پر مجھے کوئی حیرت نہیں، اس لئے کہ ہم سب نیر بخاری بننا چاہتے ہیں۔ ہم وہ منافق ہیں جو دن کے وقت سورج کی روشنی میں جاگیرداروں، وڈیروں، لٹیروں اور بدمعاشوں کے خلاف تقریریں کرتے ہیں اور رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں تکیے میں منہ دے کر وہی جاگیردار، وڈیرہ، لٹیرا اور بدمعاش بننے کے خواب دیکھتے ہیں ۔ ہاں میں بھی نیر بخاری ہوں،آپ بھی نیر بخاری ہیں۔
افسوس صد افسوس، دنیا میں جو چیزیں باعث شرم سمجھی جاتی ہیں ہمارے ہاں وہی ’’بڑا آدمی‘‘ ہونے کی علامت تصور ہوتی ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود، آئے روز سکولوں، کالجوں اور پارکوں میں بم حملوں کے باوجود، ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ جیسے ہی وہ سکیورٹی گارڈ کے سامنے پہنچے، جیسے ہی وہ کسی بلڈنگ، ہسپتال، کالج، کچہری یا کسی عمارت میں داخل ہونے لگے، سکیورٹی والے اسے سلیوٹ کریں اور سر جھکا کر اندر جانے کا اشارہ کر دیں۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بغیر تلاشی کے اندر جانے کی جس روایت کی بنیاد ہم ڈال رہے ہیں، کوئی چور یا دہشت گرد بھی اسی انداز سے بلڈنگ میں داخل ہو سکتا ہے۔
پولیس والے اور سکیورٹی گارڈز جو مختلف ناکوں پر کھڑے ہوتے ہیں کبھی آپ نے ان کے مسائل کے بارے میں سوچا ہے؟ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ جس عمارت میں آپ محفوظ بیٹھے ہیں ،اس کو محفوظ بنانے والا سکیورٹی گارڈ کس حال میں ہے؟ خدانخواستہ اگر کوئی حملہ آور آجائے تو سب سے پہلے اسی گارڈ کو جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی جان کے تحفظ کے لئے اسے ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ڈیوٹی کرنا پڑتی ہے۔ گھر سے جب وہ ڈیوٹی پر آتا ہے تو یہ بات نہیں جانتا کہ وہ اپنے بچوں کے پاس واپس جائے گا بھی یا نہیں۔ جب یہ خبر آتی ہے کہ شہر میں کچھ دہشت گرد داخل ہو گئے ہیں تو شہری گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن پولیس والوں کو ناکارہ بندوقیں دے کر ناکوں پر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان کے جذبات نہیں ہیں؟ کیا جب وہ بارود کا سامنا کرنے کے لئے چیک پوائنٹ پر کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں اپنے ننھے پھولوں کے معصوم چہرے یاد نہیں آتے؟ اور ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ صلے میں انہیں کیا ملتا ہے؟ 10سے 15 ہزار معمولی تنخواہ، عوام کی گالیاں، بڑے آدمیوں کی طرف سے طمانچے، افسروں کے بگڑے ہوئے بچوں کی طرف سے دھکے، بھوک پیاس اور اکثر و بیشتر دولت مند، طاقت کے نشہ میں چور اور گھمنڈی لوگوں کی طرف سے ’’تو مینوں جاندا نئیں‘‘کی دھمکیاں اور زناٹے دار تھپڑ۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس صورتِ حال میں وہ خوش دلی اور خوش اسلوبی سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے سکتے ہیں؟ نہیں بالکل نہیں!
ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ سکیورٹی والے ملک کے کونے کونے کو محفوظ بنا دیں اور خود اپنی حالت یہ ہے کہ چیکنگ کے لئے جب روکا جاتا ہے تو اسے توہین تصور کرتے ہیں۔ یقین کریں دل چاہتا ہے کہ ان بڑوں کی عقل پر ماتم کیا جائے۔چند روز قبل میں ڈیوٹی پر جانے کے لئے ہسپتال ایمرجنسی گیٹ سے داخل ہوا۔ وہاں تین سکیورٹی گارڈز موجود تھے، میں تھوڑی دیر ان کے پاس رک گیا اور مشاہدہ کرنے لگ گیا۔ ایک صاحب جو ” بدقسمتی ” سے یا تو امیر آدمی تھے یا پھر پڑھے لکھے تھے، گیٹ سے داخل ہونے لگے تو گارڈز نے انہیں روکا اور اپنا بیگ چیک کروانے کے لئے کہا۔ وہ اپنے کسی مریض کے لئے کمبل لے کر جا رہے تھے،وہ گارڈ کی طرف سے تلاشی کے تقاضہ پر سیخ پا ہو گئے۔ بیگ چیک کروانے کی بجائے اپنا مقام و مرتبہ بتانے لگے۔ میں نے آگے بڑھ کر انہیں سلام کیا اور کہا کہ ہو سکتاہے آپ پاکستان کے” وزیراعظم ” ہوں لیکن ذرا سوچیں کہ اگر یہ گارڈ آپ کو بغیر تلاشی کے اندر جانے دیں اور آپ ہی کی طرح کا کوئی دوسرا ” وزیراعظم” آئے اور سکیورٹی والے اسے بھی تلاشی کے بغیر جانے دیں لیکن اس کے بیگ میں کمبل کی بجائے بم ہو، تو خدانخواستہ میں اور آپ پلک جھپکنے میں لقمۂ اجل بن جائیں گے ۔ پھر آپ مجھے بتائیں قصور کس کا ہوگا؟ اس سکیورٹی گارڈ کا یا آپ کا؟
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک محفوظ ہو تو ہمیں سب سے پہلے اپنے سکیورٹی عملہ کو یہ یقین دلانا ہو گا کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہمیں اپنے دماغوں کی صفائی کرنی ہوگی اور یہ سمجھنا پڑے گا کہ اگر کوئی گارڈ بغیر چیکنگ کے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دیتا ہے تو وہ ہمارا خیرخواہ نہیں، یہ ہماری عزت نہیں بلکہ ہم پر ظلم ہے۔ ہمیں سکیورٹی گارڈز اور پولیس والوں کے ساتھ تعاون کرنا ہوگااور یہ فریضہ سب سے پہلے ملک کے بڑوں کو ادا کرنا ہو گا۔جناب دس ہزار تنخواہ لینے والا غریب آدمی پراڈو پر گھومنے والے اعلیٰ افسر یا سیاست دان کی چیکنگ کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ بڑے لوگوں کو خود کو چیکنگ کے لئے پیش کرنا ہوگا، صرف اسی صورت میں ان سکیورٹی گارڈز کی عزت نفس بحال ہو سکتی ہے اور صرف اسی صورت میں ہم محفوظ ہو سکتے ہیں ورنہ جو ہماری حرکتیں ہیں اور جو کچھ ہم بو رہے ہیں اس کا پھل ہم پہلے ہی کاٹ رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *