شیشے کا بڑھتا ہوا رجحان ایک جان لیوا فیشن ہے

Sheesha1

لاہور-آج کل نوجوان نسل میں جس نشے کا رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، وہ ہے حقے کی جدید قسم جو شیشہ سموکنگ کے نام سے مشہور ہے ۔ بنیادی طورپر شیشہ ایک عرب روایت ہے، لیکن گذشتہ چند سال سے دنیا بھر میں شیشہ نوشی کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ شیشہ کو سگریٹ کی نسبت کم مضر صحت تصور کیا جاتا ہے ،لیکن طبی ماہرین اس تاثر کی نفی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ شیشہ نوشی کسی طورپر بھی سگریٹ سے کم خطرناک نہیں۔ حکومت پاکستان اور عالمی ادارہ صحت نے اگرچہ شیشہ نوشی اور اس کی فروخت پرپابندی عائد کی ہوئی ہے، مگریہ ہمارے ملک میں سگریٹ کی طرح بآسانی چھوٹے بڑے ہوٹلوں ، دکانوں اور شیشہ کیفیز پردستیاب ہے۔

Sheesha2

ماہرین کے مطابق شیشہ میں سگریٹ کے مقابلے 36 فیصد زیادہ ٹار ، 1.7 فیصد زیادہ نکوٹین اور 8.3 فیصد زیادہ کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جبکہ نوجوان نسل اس بات پر خوش ہے کہ اس کا ذائقہ میٹھا اور خوشبودار ہے، جس کی وجہ سے کھانسی نہیں ہوتی اور یہ خطرناک نہیں۔ نوجوان نسل گھر والوں سے چوری چھپے مختلف شیشہ کیفیزپر ایک گھنٹے کا 200 سے 1000 روپے تک ادا کر کے شیشہ نوشی کرتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں 20 سے 25 ملین افراد تمباکو کا نشہ کرتے ہیں،جن میں 36 فیصد نوجوان لڑکے اور 9 فیصد نوجوان لڑکیاں شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ہمارے ملک میں ہر سال 60 ہزارافراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکا ر ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی نوجوان نسل جس زہر کو شیشہ کے نام پر اپنی رگوں میں گھول رہی ہے، اسے پرانے وقتوں میں حقہ کہا جاتا تھا اور اس کے پینے کی روایات 3000 سال پرانی ہیں ۔ سب لوگ واقف ہیں کہ حقہ تیار کرنے کیلئے نکوٹین ، ٹار اور تمباکو کا استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب اس کی جدید قسم شیشہ میں تمباکو کی کڑوی بو کو زائل کرنے کیلئے اس میں میٹھے ذائقے شامل کیے جاتے ہیں۔

Huqqa

یونیورسٹی آف کیلیفونیا امریکا کی ایک ریسرچ کے مطابق شیشہ نوشی کرنے والے افراد کے خون میں کاربن مونو آکسائیڈ کا تناسب سگریٹ پینے والے افراد کے مقابلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتا ہے، جو کینسر اور ٹی بی جیسے خطرناک امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ سگریٹ پینے کا دورانیہ 5 سے 7 منٹ کا ہوتا جبکہ شیشہ نوشی کا دورانیہ اوسطاً 30 منٹ کا ہوتا ہے۔ ایک سگریٹ سے اوسطاً 20 کش لگائے جاتے جبکہ شیشہ سے اوسط 200 کش لگا سکتے ہیں ۔ ایک سگریٹ پینے کے دوران اوسط 500-600ml دھواں اور شیشہ نوشی کے ایک دورانیہ میں 90000ml دھواں انسانی جسم میں جاتا ہے۔ سگریٹ عموماً ایک آدمی پیتا ہے جبکہ شیشہ نوشی کے دوران اس کا پائپ دوستوں میں شیئر کیا جاتا تا کہ مل کر نوشی ہو، اس شیئرنگ سے مختلف انفیکشن ایک جسم سے دوسرے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں۔

Sheesha3

شیشہ میں موجود تمباکو کو گرم کرنے والا کارکول جس میں زہریلا ٹوکسن موجود ہوتا ہے، وہ سانس سے جسم میں داخل ہو کرنظام تنفس کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں شیشہ پینے کی وباء پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا، چین، ترکی اور بنگلہ دیش میں بہت تیزی سے پھیلی ہے جبکہ پاکستانی قانون (سموکنگ ممانعت آرڈیننس 2002 ء) کے مطابق سولہ سال سے کم عمر نوجوانوں کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی ہے البتہ یہ بات الگ ہے کہ آج تک ہمارا ملک اس قانون کے اطلاق سے محروم نظر آتا ہے۔ کم عمر لڑکے اور لڑکیاں ہوٹلوں میں،تفریحی مقامات ، کالجوں،یونیورسٹیوں اور سڑکوں پر کھلے عام سموکنگ کرتے نظرآتے ہیں ، لیکن اب ان کم عمر نوجوانوں نے شیشہ پینے کی عادت کو بھی بطور فیشن اپنا لیا ہے کیونکہ وہ اس کے خطرناک نقصانات سے لاعلم ہیں ۔ اس لئے یہ ا مر ضروری ہے کہ ان کو شیشے سے جڑے نقصانات سے روشنا س کروایا جائے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *