ٹائیں ٹائیں فش!

naeem-baloch1
ہم نے چند دن پہلے تبصرے میں لکھا تھا کہ :نواز شریف حکومت پانامہ لیکس کے گرداب سے باہرآچکی ہے ۔ اس کے ہم نے جو دلائل دیے تھے اس میں ایک دلیل یہ بھی د ی تھی کہ حزف اختلاف وزیر اعظم کے استعفے پر متفق نہیں اور یہ کہ 9 جون کو مزید لیکس رپورٹس آنے کے بعد پی ٹی آئی اور دیگر پارٹیوں کے متعدد رہنما اسی مقام پر کھڑے ہوں گے جہاں اس وقت نواز شریف اور ان کاخاندان ہے۔ اس لحاظ سے تمام سیاست دانوں کو ’’مالک‘‘ کاخطرہو سکتا ہے۔ اگر یہ منظر نامہ پیدا ہوتا ہے تو پارلیمنٹ دھرنے کی تاریخ دہرا سکتی ہے ۔
اس پس منظر میں آج سپہ سالار اعظم اور وزیر اعظم کی ملاقات ملاحظہ فرمائیں تو معاملات کی خاصی واضح تصویر سامنے آتی ہے کہ کم از کم پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق کی طرف سے بھی حکومت کوئی خطرہ نہیں رہا۔ اب کوئی اخلاقی جواز نہیں رہا کہ وہ حکومت کو طعنہ دیں یا ان سے کسی قسم کا مطالبہ کریں ۔ یہاں ایک اور پہلو پیش نظر رہے کہ جو بڑی بڑی شخصیات بڑھ بڑھ کر بول رہی تھیں اور ان کو معلوم تھا وہ خود اس حمام میں ننگے ہیں ، ان کے اندر ضمیر نامی چیز تھی؟
البتہ ایک اور چیز ضرور سامنے آئی ہے اور اس کی طرف ٖ فوری توجہ دینی ہو گی ۔ وہ یہ کہ آف شور کمپنیوں کے ذریعے سے ٹیکس بچانے کا ’’قانونی طریقہ ‘‘ اب ہر ایک کے علم میں آچکاہے ۔ اس لیے اس چور دروازے کو بند کرنے کے لیے فوری قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔ لیکن یہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والا معاملہ ہو گا ۔ اور ایک بات یہ بھی طے ہے کہ جو کوئی اس حوالے سے سب سے پہلے بات کرے گا وہ سیاسی پوائنٹ بھی سکور کرے گا اور عوام کی طرف سے بہت زیادہ کریڈیبلیٹی بھی حاصل کرے گا ۔ ورنہ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *