پروفیسر احمد رفیق اختر اور عمران خان کااصل روپ

saqib malickثاقب ملک، لندن
پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کو میں بہت پسند کرتا تھا۔کوئی شک نہیں کہ پڑھے لکھے با علم اور انتہائی پر کشش شخصیت ہیں۔مہمان نواز ہیں۔پروٹوکول کی بیماری لاحق نہیں۔سادہ اور ہر انسان کی دسترس میں رہتے ہیں گو کہ انکے ارد گرد شبیر چوہدری جیسا کوآرڈینیشن ہے اور شبیر چوہدری اور دانش جیسے لوگ پروفیسر صاحب کے ارد گرد انگلینڈ میں بھی تھے۔وہاں بھی ایسے ایسے منحوس کیس موجود ہیں کہ انکے اصل کردار کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ یہ پروفیسر صاحب کے ارد گرد موجود ہوتے ہیں اور پروفیسر صاحب نے کبھی انھیں تنبیہ تک نہیں کی۔ بلکہ کچھ لوگ فراڈ میں ملوث تھے جوجعلی تسبیحات دینے اور پیسے بٹورنے میں شامل تھے مگر پروفیسر صاحب نے شاید انکی طرف سے آنکھیں بند کر رکھیں ہیں یا وہ اپنے ان چمچوں کو ڈھیل دیتے ہیں۔یہ تمہید اس لئے کہ پروفیسر صاحب جوانی سے ہی اپنے علم الا سماء کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ وہ انسان کا نام سنتے ہی اسکے متعلق جان لیتے ہیں۔آپ پہلے 80 کے اواخر اور نوے کے آغاز میں فون پر نام سن کر لوگوں کے اندر کا حال بتاتے تھے اور فون والے پروفیسر کے نام سے مشہور تھے۔حقیقت میں یہ بھی انسانی نفسیات کا عمدہ استعمال ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ البتہ میرا تجربہ تو مکمل ناکام رہا۔میں نے انھیں اپنے بھائی کی بیماری کے متعلق بتایا اور اسکا نام بتایا لیکن پروفیسر صاحب ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ دوسری بار یہ تفصیل بیان کی تب پروفیسر صاحب نے ہوں ہاں کی اور وہی تسبیحات تھما دیں جو ہر دوسرے بندے کو پکڑاتے ہیں۔اس دوران وہ دوسروں کو بھی جو کچھ بتا رہے تھے وہ عام فہم باتیں تھیں یعنی آپکو ٹینشن ہے، اینگزایٹی ہے، معدہ خراب ہے، غصہ زیادہ آتا ہے مایوسی ہے۔یہ مسائل دنیا میں کس کو نہیں ہیں؟ بالفرض اگر پروفیسر صاحب نے کسی کو کچھ ایسی خفیہ بات بتا بھی دی ہو جو کسی کو معلوم نہیں تھی اور پروفیسر صاحب کو بھی اسکا علم ہونا قرین قیاس نہیں تھا تو وہ ایک تکا ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ سوال اس لیے کہ ابھی حال ہی میں پروفیسر صاحب نے ایبٹ آباد کے لیکچر میں پھر عمران خان اور اپنے متعلق سفید جھوٹ بولے ہیں۔ اپنی اس ویڈیو میں پروفیسر صاحب نے کہا کہ میں نے عمران خان کو کھڑا کیا۔ میں نے عمران کو 2004میں متعارف کرایا.۔ یہ بات کسی بچے کو بھی معلوم ہے کہ عمران خان کو دنیا جانتی ہے اور انکی پارٹی کو 2004میں آٹھ نو سال ہو چکے تھے. ۔پھر عمران خان کی وجہ سے تو پروفیسر صاحب کو پاکستان میں لوگوں نے جانا ورنہ انکا ذکر ایک مبالغہ آمیز مصنف ممتاز مفتی اور انکے شاگرد جاوید چوہدری کی ایک کتاب تک محدود تھا. ہارون الرشید اور پروفیسر صاحب کی مقبولیت عمران خان کی وجہ سے ہے۔ابھی بھی یو ٹیوب پر عمران خان کی پروفیسر صاحب کے ساتھ موجود لیکچر والی ویڈیو سب سے زیادہ بار دیکھی گئی ہے۔ پروفیسر صاحب جس طرح سگریٹ کے نشے کی عادی ہیں اسی طرح پیشنگوئی کے بھی شوقین ہیں۔ہر لیکچر کے اختتام پر پیشنگوئی فرماتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم صوفی پیشنگوئی نہیں کرتے۔یعنی آپ خود ہی اپنے آپ کو اپنی زندگی میں صوفی بنائے بیٹھے ہیں۔اسی طرح کی ایک پیشنگوئی پروفیسر صاحب نے اپنے اس ایبٹ آباد کے لیکچر میں بھی فرمائی کہ ستر کے عشرے میں میرے پاس دو لوگ صباحت اور زبیر آئے اور انھوں نے پوچھا کہ یہ شریف فیملی کبھی اقتدار میں بھی آئے گی؟ تو میں نے کہا کہ ہاں یہ تو اقتدار میں آئیں گے لیکن تم لوگ ساتھ نہیں ہوگے۔اس بات کا انکشاف زندگی بھر پروفیسر صاحب نے کسی لیکچر میں نہیں کیا۔لیکن اب تو یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پروفیسر صاحب وہ دنیا کے واحد شخص تھے جن کو شریف فیملی کے اقتدار میں آنے سے پہلے سے ہی آگاہ تھے۔ اب اس پر بندہ کیا کہے؟ اگر یہ بات درست ہے تو پھر پروفیسر صاحب کو عمران خان کا "اصل" کیوں نظر نہیں آیا؟ وہ پہلے کیوں عمران کی اسپورٹ کرتے رہے؟ وہ کیوں عمران کو اپنے سے ایماندار سے کہتے رہے؟ وہ کیوں یہ دعوٰی کرتے رہے کہ دونوں پارٹیاں کرپٹ ہیں تو ہمیں ایک دیانت دار اور نہ بکنے والا حکمران چاہیے اور عمران خان میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں؟ کیا وہ جھوٹ تھا یہ اب جھوٹ ہے؟ یا دونوں ہی جھوٹ تھے؟
ایک اور پھلجھڑی جو پروفیسر صاحب نے چھوڑی کے پاکستان بغیر اچھے لیڈرز کے ہی ترقی کرے گا۔آگے چل کر فرماتے ہیں کہ میں نے 2008 میں کہا تھا کہ پاکستان کا ساٹھ سالہ برا دور ختم ہو جائے گا اور اب پاکستان ترقی کرے گا اور آپ ایک سرمایہ دار ملک بنیں گے ۔یہی پروفیسر صاحب الیکشن 2013 سے قبل عمران کے اقتدار میں آنے کی پیشنگوئی کرتے تھے۔ بلکہ ہارون الرشید نے تو اپنے کالم میں پروفیسر کا حوالہ دیکر کئی بار یہ لکھا کہ عمران دو کروڑ ووٹ لے گا.یہ بھی لکھا کہ اقتدار میں تو عمران آئے گا ہی مگر تمھارے اس سے تعلقات اچھے نہیں رہیں گے۔کبھی ان باتوں کی تردید پروفیسر صاحب نے کسی لیکچر ،کسی گفتگو میں نہیں کی. ۔نہ ہی کبھی ہارون الرشید نے ان باتوں اور دعووں کو بعد میں کبھی غلط کہا۔مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ الیکشن کے بعد پروفیسر صاحب اور ہارون الرشید یہ کہتے رہے کہ عمران کے ساتھ دھاندلی ہوئی اور عمران کی نا اہلی کی وجہ سے دو کروڑ ووٹ نہیں ملے تو آپ کے علم السماء کو عمران خان کا الیکشن کا نتیجہ نظر نہیں آیا یا آپکو اس میں دھاندلی نظر نہیں آئی؟ شریف فیملی کا اقتدار تو چالیس سال پہلے نظر آگیا۔
مسلسل غلط پیشنگوئی پروفیسر صاحب کا طرہ امتیاز ہے۔ آپ 1996 سے مسلسل غلط پیشنگوئی کرتے آ رہے ہیں۔ممکن ہے اس سے پہلے بھی کرتے رہے ہوں مگر میں نے انکے 1996 سے لیکر آج تک تقریباً 99 فیصد لیکچر دیکھ رکھے ہیں۔دجال اور امام مہدی کی آمد اور تیسری عالمی جنگ انکا محبوب موضوع رہا۔آپ نے پہلے اکیسویں صدی کے آغاز میں جنگ کی پیشنگوئی کی اور بعد میں 9/11کو اسکی صداقت کے طور پر پیش کیا جو کہ مکمل غلط ہے۔ پھر 2007 میں عالمی جنگ کا خدشہ ظاہر کیا اور اسکے بعد 2012 میں بہت بڑی ہلچل کا فرمایا۔سب غلط ثابت ہوگیا۔ پھر الیکشن 2013 کے بعد اپنے لیکچرز میں فرمایا کہ یہ حکومت ڈیڑھ دو برس رہے گی پھر احتجاج ہوگا اور پھر اس کے بعد اچھے لوگوں کی حکومت آئے گی۔ تین سال اس حکومت کو ہو چکے ہیں یہ بھی غلط ثابت ہوچکی ہے۔اب تو خیر پروفیسر صاحب نواز شریف کو ہی اچھے لوگوں میں شامل کرتے ہیں۔ اچھا پروفیسر صاحب دھرنے کے وقت اپنی اس پیشنگوئی کا دبے لفظوں میں تذکرہ
کرتے تھے جیسے یہ سب انکی پیشنگوئی کے عین مطابق ہو رہا ہے مگر حکومت چونکہ نہ ہٹی اس لئے خاموش ہی رہے۔ ایک اور ارشاد جو پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ عمران الیکشن سے پہلے میرے پاس آئے کہ کچھ کریں اور بتائیں میری کتنی سیٹیں ہونگی اور کیا نتیجہ ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ عمران خان یہ باتیں پروفیسر صاحب سے کیوں پوچھ رہا ہے؟ اگر عمران نے ایسا کیا ہے تو اسکی جہالت پرافسوس ہے ۔ دوسرا پروفیسر صاحب کیا خدا ہیں یا کیا عظیم الشان صوفی ہیں جو مستقبل کا سارا حال جانتے ہیں؟ ذرا غور کریں کہ پروفیسر صاحب نے کس مہارت سے اپنی بڑائی اور پیش بینی کی صلاحیت کی پروموشن کی ہے۔پھر پروفیسر صاحب اسے بتاتے ہیں کہ تمھاری زیرو سیٹس ہونگی پنجاب میں اور خیبر پختون خواہ میں پٹھان کیونکہ پٹھان کی سپورٹ کرتا ہے تو اس لئے جیت جاو گے۔ یعنی جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمن اور اے این پی کیا پنجابی ہیں جو انکو 2013 کے الیکشن میں تحریک انصاف سے شکست کھانا پڑی؟ پھر پنجاب سے پی ٹی آئی کی 24 صوبائی نشستیں اور پنڈی سے تو عمران خود الیکشن جیتا تھا۔ کہتے ہیں کہ میری بات سن کر عمران بڑا چڑا اور اس نے پوچھا کہ کچھ کریں تو میں نے اسے 12 لوگوں کے نام لکھ کر دیئے۔ عمران نے ان 12 لوگوں کو حسب وعدہ ٹکٹ نہیں دئیے۔ یعنی عمران سے اصل ناراضی کی وجہ یہی تھی۔ بندہ پوچھے کہ پروفیسر کو کیا پڑی ہے جو سیاست دانوں کے نام لکھ لکھ کر بھیج رہے ہیں؟ساتھ ہی پروفیسر صاحب نے ایک گھٹیا حملہ کرتے ہوئے کہا عمران کے جلسوں میں تو لوگ خواتین کو دیکھنے آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 2011 کا عظیم الشان جلسے میں کیوں لوگ آئے تھے؟
پروفیسر صاحب اپنی نرگسیت اور پیشنگوئی کے ہاتھوں اسیر ہو چکے ہیں۔باقی مجھے پروفیسر کی تسبیحات بھی پسند ہیں۔انکے تصوف متعلق خیالات بھی اچھے ہیں۔سیکولرزم کے خلاف انکے دلائل بھی بہت توانا ہیں اور نوجوان نسل کو انکی اچھی باتوں کو بھی دیکھنا اور سننا چاہئے مگر انکا کردار انکے افکار سے کہیں کمتر درجے کا ہے ۔وہ دراصل شعبدہ بازی کی پڑھی لکھی اور ماڈرن شکل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *