برطانیہ میں گرمی کی لہر

Irfan Hussain

(عرفان حسین)

پاکستان، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرات بہت اونچا ہوتا ہے، تیس ڈگری فارن ہائٹ کو گرمی نہیں سمجھا جاتا اور جب اتنے ’’متعدل ‘‘ موسمِ گرما میں لوڈ شیڈنگ نہ ہو تو ہم دیسی لوگ اہلِ برطانیہ کو برملا کہہ سکتے ہیں کہ اس گرمی کی لہر ، جس نے گزشتہ دو ہفتوں سے برطانیہ کو اپنی گرفت میں لیا ہوا ہے، کا کیوں رونا رو رہے ہو؟حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں زیادہ تر گھر اور فلیٹس گرم موسمِ کومدِ نظر رکھ کر نہیں بنائے جاتے ہیں، بلکہ سر د موسمِ کے پیشِ نظر ان کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اندر کی گرمی باہر نکلنے نہ پائے۔ یہاں دولت مند ترین افراد کے گھروں میں بھی اے سی تو کجا چھت کے پنکھے بھی نہیں ہیں، اس لیے تیس درجے گرمی بھی بہت معلوم ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک سات سو ساٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گرمی کی موجودہ لہر کا گزشتہ سال کی گرم لہر سے موازنہ کیا جارہا ہے ، فرق صرف اس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اموات کی کچھ اور وجوھات بھی ہو سکتی ہیں۔
جو بھی سچائی ہو، یہ بات یقینی ہے کہ گرمی معمر افراد، خاص طور پر وہ جو تنہا رہتے ہیں، کے لیے بہت پریشانی کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ تنہا ئی کے باعث وہ پانی کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاو ہ نوجوان لوگ ، جو اپنی جلد کو براؤ ن کرنے کے لیے سن باتھ لینے کے شوقین ہیں، بھی سورج کی گرم کرنوں کی وجہ سے سن سٹروک کا شکار ہو رہے ہیں۔ بے شک دھوپ میں دور تک لیٹے ہوئے نیم برہنہ افراد ،جن کی جلد سور ج کی تمازت سے سرخ ہو چکی ہو، اچھے نہیں لگتے ہیں، اسی طرح ٹیوب ٹرین کے بند ڈبوں میں پسینے میں نہائے ہوئے افراد کے پاس بیٹھنا بھی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا ہے۔ شہروں میں عمارتیں اور سڑکیں دن کے وقت حرارت کو جذب کرلیتی ہیں، اس لیے یہاں دیہات کی نسبت درجہ حرارت بلندہوتا ہے۔ چناچہ مجھے خوشی ہے کہ ہم ڈیویزز(Devizes) میں رہتے ہیں ، جو کہ ایک مضافاتی قصبہ ہے، اور ہم نقب زنوں کے خدشے کے بغیر اپنے دروازے اور کھڑکیاں کھلی چھوڑ سکتے ہیں ۔
موسم وہ موضوع ہے جس پر بات کرنے سے اہلِ برطانیہ کبھی نہیں اکتاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں کا موسم بہت غیر یقینی ہوتا ہے ۔اس میں ہر روز تغیر دکھائی دیتا ہے اور بعض اوقات ایک دن میں ہی کئی مرتبہ اس میں تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ چناچہ یہ ایک پسندیدہ عوامی موضوع ہوتا ہے اور ٹی وی اور ریڈیو پر موسم کی پیشین گوئی کو بہت دلچسپی سے سنا جاتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کے مشہور انگریزی اخبار ، Pakistan Times، جو اب بند ہو چکا ہے، میں موسم کے بارے میں ایک ہی لائن مسلسل شائع کی جاتی تھی...’’ہر شہر میں موسم گرم اور خشک رہے گا۔‘‘
ہفتے کے اختتام پر اہل برطانیہ لاکھوں کی تعداد میں ساحلوں کا رخ کررہے ہیں۔ اُن کے لباس میں اختصار کا پہلو عقربی پیمانے پر نمایا ں ہے اور وہ ریت پر لیٹے یا پانی میں ڈبکیاں لگاتے ہوئے اپنے آپ کو گرمی سے بچانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ آج کل اخبارات بھی لوگوں کو مشورے دے رہے ہیں کہ وہ سن سٹروک سے بچنے کے لیے کیا تدابیر اختیار کریں اور کون سے مشروبات اور خوراک کا زیادہ استعمال کریں۔ یہاں مجھ جیسے دیسی افراد ، جو کہیں زیادہ گرم موسم میں پلے بڑھے ہیں، کے لیے انگریز وں کی موسم کے حوالے سے تنک مزاجی پریشان کن ہے۔ جب کئی ماہ تک موسم سرد اور بھیگا ہوا رہے تو وہ شکایت کرنے لگتے ہیں کہ وہ سورج کی دھوپ نہیں تاپ سکے ہیں اور موسمِ بہار سے محروم ہو گئے ہیں، لیکن اب جبکہ سورج چمک رہا ہے تو ان کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ یقیناًفطرت بھی ہر کسی کوئی خوش نہیں کر سکتی ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ اگرچہ کچھ لوگوں کی صحت خراب ہوئی ہے، لیکن یہ موسم کاروبار کے حوالے سے سود مند ہے۔ کئی ماہ سے موسم سرما کے ملبوسات کی فروخت کے بعد اب گرمی میں پہننے والے ملبوسات بک رہے ہیں جبکہ بار بی کیو اور اس کا متعلقہ ساز و سامان بھی سٹورز سے باہر نکل آیا ہے۔ گارڈین کے مائیک پاور لکھتے ہیں...’’تمام برطانیہ میں دھیمی آنچ کے کوئلوں پر بھنے ہوئے گوشت کی مہک پھیلی ہوئی ہے جبکہ گرم سورج چمک رہا ہے اور باغات کی باڑوں کے نزدیک لوگوں کے گروہ بھنے ہوئے گوشت کا مزہ لے رہے ہیں۔ بہت مزہ آتاہے جب کچھ قصبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ زور وشور سے بحث کرتے سنائی دیتے ہیں کہ بار بی کیو کیسے بنائی جائے ، بلکہ اس سے پہلے، کوئلوں کو کیسے دہکایا جائے۔ ‘‘یہ ہلکی پھلکی گفتگو ، جس میں مرد حضرات خواتین کے فنِ طباخی کو درخورِ اعتنا نہ گردانتے ہوئے ، اس ضمن میں اپنی مہارت کے گن گاتے ہیں، میرے لبوں مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ میں خود بھی بار بی کیو کا ماہر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ زیادہ تر آدمی بار بی کیو کے موقع پر خود کام کرنے کی بجائے اپنے اپنے گلاس مشروبات سے بھر کر دوسروں کو مشوروں سے نوازتے رہتے ہیں، حالانکہ اُنھوں نے زندگی بھر کچھ نہیں پکایا ہوتا۔ کچھ افراد نیم وا نظروں سے دیکھتے، پیشانی مسلتے ہوئے بقراطی لہجے میں کہیں گے کوئلوں کو قدرے ہلانے کی ضرورت ہے۔
میر اخیال ہے کہ کھلی جگہوں پر کوئلوں پر گوشت بھوننے سے ہمارے اندر کا قدیم انسان بیدار ہو جاتا ہے اور اس انسان کو اپنی ’’مردانگی‘‘ ثابت کرنے کی ضرورت رہتی ہے، چاہے اب مشورے کی حد تک ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے نازک مواقع پر عام طور پر خواتین بار بی کیو سے دور رہتے ہوئے یہ بہانہ کرتی ہیں کہ اُنہیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے ۔ چناچہ وہ دھوئیں وغیرہ دور، کوئلوں سے منہ کالا کرنے کی بجائے بھنے ہوئے کباب کھاتے ہوئے مردوں کے اناڑی پن پر ہنستی رہتی ہیں۔
آخر میں کچھ ذکر ومبلڈن ٹینس ، برٹش اوپن گالف اور ایشز کرکٹ سیریز کا ، جو گرم موسم کی وجہ سے بارش سے متاثر نہیں ہوئے۔ چناچہ گرمی کی لہر کے باجود، نوجوان مختلف کھیلوں کا سامان خریدتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت جب کہ انگلینڈ ایشز سیریز کے ایک میچ میں اپنے حریف اسٹریلیا کو چت کر چکا ہے جبکہ کالم کی اشاعت تک ہو سکتا ہے کہ دوسرے میچ کا نتیجہ بھی اس کے حق میں ہی نکلے، جبکہ اینڈی مرے ومبلڈن کپ جیت کر تاریخ رقم کرچکا ہے اور ایک برطانوی سائیکلسٹ کرس مروم ٹورڈی فرانس میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔ موسمِ گرما کی ان تمام ہنگامہ آرائیوں کے ہوتے ہوئے سیاست بے کیف اور بور لگتی ہے۔ اس وقت سیاست پر یہاں میڈیا میں سے بڑی کہانی این ایچ ایس (نیشنل ہیلتھ سروس ) کے حوالے سے ہے۔ اس وقت ملک بھر کے چودہ ہسپتالوں کا جائزہ لیا جارہاہے کیونکہ ان کے بارے میں رپورٹ ہے کہ غیر معیاری ہیلتھ سروس کی وجہ سے ان میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس وقت اخبارات میں دھڑادھڑ کالم لکھے جارہے ہیں کہ برطانیہ میں ہیلتھ کیئر کی سہولیات کس قدر غیر معیاری ہیں۔ اس وقت پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہورہا ہے اس لیے یہ تمام چیخ وپکار کچھ دیر کے بعد تھم جائے گی۔
نوٹ: گزشتہ کالم میں ، میں نے غلطی سے لکھ دیا تھا کہ الطاف حسین کی برطانوی شہریت کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ کے ایکٹ کی ضرورت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ2006 میں ایک قانون منظور ہوا تھا جس کی رو سے ہوم سیکرٹری بھی کسی شخص کی برطانوی شہریت ختم کر سکتا ہے۔ میں اس غلطی پر معذرت خواہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *