بہار اور تتلیاں

razia syed

کتاب ’’ بہار اور تتلیاں ‘‘ دراصل ترکی کے مشہور ادیب عمر سیف الدین کی کہانیوں کا مجموعہ ہے جس کا اردو ترجمہ محترمہ عابدہ خان نے کیا ہے وہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں اور ترکی ادب پڑھاتی رہی ہیں جبکہ ترکی میں کئی سال ان کا قیام بھی رہا ہے ۔عابدہ خان نے اتنی خوب صورتی سے ان کہانیوں کا اردو ترجمہ کیا ہے کہ ہم خود کو ترکی کی ثقافت کا ہی ایک حصہ سمجھنے لگتے ہیں ۔ عمر سیف الدین ترکی کی فوج میں ایک اعلی عہدے پر فائز تھے ریٹائر منٹ کے بعد و ہ ’’ سلانیک ‘‘ چلے گئے جو کہ ترکی ادب کا مشہور مرکز تھا ۔ بعدا زاں انھیں ترک حکومت کی جانب سے شائع ہونے والے رسالے کا ایڈیٹر بھی مقرر کیا گیا ۔
عمر سیف الدین کی یہ کہانیاں معاشرے سے بہت قریب تر ہیں ، یہ ہماری روزمرہ زندگیوں کا ایک حصہ ہیں ،اسکے کردار ہمارے اپنے ہیں ۔اور یہ سب کہانیاں ترکی کے نصاب میں شامل ہیں۔ عابدہ خان نے اس کتاب کے دبیاچے میں تحریر کیا ہے کہ ترکی اور اردو زبان کے کم و بیش سات ہزار الفاظ میں مشابہت ہے اور لفظوں کی بناوٹ اور ثقافت کی خوب صورتی کی بنا پر انھیں ترکی ادب پاکستانی ادب سے قریب تر محسوس ہوا ہے ۔ اس کتاب کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے شائع کیا ہے اور اسکی پہلی اشاعت سن 2005 میں ہوئی ، قیمت بہت مناسب یعنی ساٹھ روپے ہے اور انداز تحریر اس قدر دل چسپ ہے کہ کوئی بھی کہانی مکمل کئے بغیر آپ اس کتاب کو چھوڑ نہیں سکتے ۔ کتاب کا سرورق بھی نہایت دیدہ زیب ہے اور صفحات کی تعداد ۱۵۰ ہے ۔
کتاب میں موجود کہانیوں کی بات کریں تو ہمیں ہر رنگ نمایاں نظر آئے گا ۔ محبت ، نفرت ، حسد ، کینہ ، اخلاص ، قربانی سبھی کچھ اس میں دکھائی دیتے ہیں ۔ ’’بہار اور تتلیاں ‘‘ نامی کہانی میں ایک بوڑھی عورت اور ایک دوشیزہ کے مابین مکالمہ ہے اور یہاں زندگی کے مختلف رنگوں کو مختلف رنگوں کی تتلیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ایک کہانی میں ایک جوان لڑکی اپنے ہم عمر کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے اور ناکامی کی صورت میں خود کو سزا دینے کے لئے ایک عمر رسید ہ شخص سے شادی کر لیتی ہے ۔

bahar

اسی طرح ایک اور کہانی میں ایک شخص اپنے بھتیجے کو ایک سفید خوب صورت بندریا انعام میں دیتے ہیں اور وہ کئی ممالک کا سفر اس بندریا کے ساتھ کرتا ہے اور اس کے ساتھ اسکی محبت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ بندریا بھی اس پر جان چھڑکتی ہے تاہم ایک ہوٹل میں اس شخص ( بھتیجے ) کی
ملاقات ایک لڑکی سے ہوتی ہے اور جلد ہی وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں اسی تمام عرصے میں بندریا غیر محسوس انداز سے نظرا نداز ہو جاتی ہے اور وہ ایک دن اس لڑکی کے چہرے کو اپنے لمبے ناخنوں سے زخمی کر دیتی ہے ، جب اس شخص کو معلوم ہوتا ہے تو وہ بندریا کی پٹائی کر کے اسے باہر پھینکوا دیتا ہے ۔ لیکن بعد میں احسا س ہوجانے پر اسے واپس بلوا کر اسکی مرہم پٹی کرنے اور اسے خوراک کھلانے کی کوشش کرتا ہے لیکن بندریا کچھ بھی کھانے سے انکار کر دیتی ہے اور دس دن بھوکی پیاسی رہ کر مر جاتی ہے ۔ یہ کہانی اتنی خوب صورتی سے بیان کی گئی ہے کہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نظر انداز کرنا صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی تکلیف دہ ہوتا ہے اور وہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی محبت میں کسی کو شریک کیا جائے ۔
اس کتاب میں مختصر اٹھارہ کہانیوں موجود ہیں اور ہر ایک کہانی میں کئی نئی کہانیاں پوشیدہ ہیں ۔ ان کہانیوں سے نہ صرف انسانی فطرت کو سمجھنے میں مدد ملے گی بلکہ ترک ادب و ثقافت کا جائزہ لینے میں بھی آسانی ہو گی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *