نیشنل ٹیکس کمیشن کی ضرورت

Ikramڈاکٹر اکرام الحق اور حزیمیہ بخاری

پاکستان کاطبقۂ اشرافیہ نہ صرف بہت ڈھٹائی سے ٹیکس ادا کرنے سے انکار کردیتا ہے بلکہ عام شہریوں کی طرف سے ادا کردہ ٹیکس کی رقوم اپنی پرتعیش زندگی اور غیر ملکی دوروں پر اُڑا دیتا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر)ان کی گھر کی باندی کی طرح ان کی خدمت بجالاتے ہوئے غیر ملکی مالیاتی اداروں باور کراتا رہتا ہے کہ عام پاکستانی ٹیکس ادا نہیں کرتے ، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ استحقاق یافتہ طبقہ، عدلیہ اور دفاعی اداروں کے افسران، کاروباری افراد ، سیاست دان ، وڈیرے اور جاگیردار اور تاجراپنے واجب ٹیکسز ادا نہیں کرتے ہیں حالانکہ ان کی آمدنی عام پاکستانی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔
اس طبقے کے ہاتھوںیرغمال بنی ریاست کے مالی معاملات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ لاکھوں افراد ، جو غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں کو روز مرہ کی اشیائے ضرورت پر 17 سے19.5 فیصد تک سیل ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ملک میں لوگ فاقہ کشی کی وجہ سے مررہے ہیں لیکن صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ اور وزیروں اور مشیروں کی سیکورٹی ، ان کی پرتعیش زندگی اور ڈنر اور غیر ملکی دوروں پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ دوسری طرف عوام کے خون کو مزید نچوڑنے کے لیے پیٹرولیم اور دیگر اشیاکی قیمت میں اضافہ کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ غیر اور متوسط طبقہ کو بلوسطہ ٹیکسز کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔مثال کے طور پر پٹرولیم پر تیس سے پنتیس فیصد چارچ وصول کیا جاتا ہے۔ اس کو بوجھ حتمی صارف پر پڑتا ہے ،جو کہ ایک عام شہری ہے۔ ملک میں فزوں تر ہوتی ہوئی مہنگائی کی وجہ ٹیکسز کا یہی غیر منصفانہ نظام ہے۔ اس کی وجہ سے صنعت کاری بھی متاثر ہورہی ہے کیونکہ بلواسطہ ٹیکسز پراڈکٹس کی قیمت میں اضافہ کردیتے ہیں۔ اس کی وجہ صنعت کار عالمی منڈی میں دیگر ممالک کا مقابلے نہیں کرپاتے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ عام پاکستانی استعمال کرنے والی ہر چیز پر ٹیکس ادا کرتے ہوئے بھی یہ طعنہ سنتا ہے کہ وہ ٹیکس نہیں دیتا... بلکہ عام پاکستانی یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کس طرح اور کتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں، بلکہ یوں کہہ لیں کہہ ان سے زبردستی وصول کرلیا جاتا ہے۔
پٹرولیم کی مصنوعات پر وصول کیے جانے والے بھاری بھرکم ٹیکس ، جو گزشتہ پندرہ سال کے دوران پندرہ ٹریلین روپے تھا، کے باوجود کسی حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم بناکر ملک میں تیل کی کھپت کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی ، حالانکہ تیل کی درآمد ملک کی کل درآمد کا ایک تہائی ہوتا ہے۔ بھاری مقدار میں پٹرولیم دآمد کیے جانے کی وجہ سے ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے حاصل کرنے پڑتے ہیں۔ اسے معیشت اور کرنسی پر دباؤ آتا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے وصول کردہ زیادہ تر ٹیکسز دآمدات پر ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی حکومت بھی غیر ضروری اشیاء کی درآمد روکنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ قومی خزانے سے درآمدات کے لیے زرِ مبادلہ استعمال کیا جاتا ہے اور پھر ان درآمدات پر ٹیکس وصول کرکے حکمران طبقہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتا ہے۔
ٹیکس کا یہ ظالمانہ نظام عوام کے لیے بہت اذیت ناک زندگی کا پیش خیمہ بنتا ہے ۔ اس کی وجہ سے امیرغریب کے درمیان تفاوت کی لکیر مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔ ہمارے معاشرے کو جن بہت سے مسائل ، جیسا کہ لاقانونیت، دھشت گردی، بدعنوانی اور ذہنی تناؤ، ان کی بڑی وجہ دولت کی یہی غیر مساوی تقسیم ہے۔ اس تقسیم کی بڑی حد تک ذمہ داری غیر منصفانہ ٹیکس کے نظام پر عائد ہوتی ہے۔ مہذ ب معاشروں میں بھی تمام لوگ یکساں طور پر امیر نہیں ہوتے لیکن وہاں اس تفاوت کی وجہ سے پیداہونے والا احساسِ محرومی بھی نہیں ہوتا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق وصو ل کیے جانے والے انکم ٹیکس کی شرح میں جی ڈی پی کے تناسب سے کمی واقع ہورہی ہے۔ 2012-13 میںیہ صرف 2.1 فیصد تھا ،جبکہ 2011-12 میں2.2 فیصد، 2010-11 میں 2.4 فیصد، 2009-10 میں 2.5 فیصد، 2008-09 میں 2.6 فیصد، 2007-08 میں 2.9 فیصد2006-07 میں3.2 فیصداور 2004-2005 میں3.5 فیصد( یہ معلومات FBR YEAR BOOKS 2004-05 to 2012-13 and Economic Surveys سے حاصل کی گئی ہے۔)اس کی ایک سرسری جائزہ بھی اس حقیقت کومنکشف کردیتا ہے کہ ایف بی آر کے محصولات کا2012-13 میں پچاسی فیصد دارومدار بلواسطہ ٹیکسز پر تھا اور اس کا صاف مطلب یہ کہ یہ رقم غریب کی رگوں سے نچوڑی گئی ۔ تاہم ہمارے اعداو شمار کے ماہرین عوام سے یہ حقائق پوشیدہ رکھتے ہوئے انہیں اخلاقی دباؤ کا شکار رکھتے ہیں کہ وہ اس ملک کے لیے کچھ نہیں کررہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس طبقے نے اس ملک کا بچاسی فیصد بوجھ اٹھایا ہوا ہے ، غیر منصفانہ نظام کی وجہ سے غربت کا شکار بھی وہی ہے اور جو طبقہ ملک کو کچھ نہیں دیتا، وہ ان کی خون پسینے کی کمائی سے عیش کرتا ہے۔ یہ صورتِ حال کب تک چلے گی اور ہم کب تک غیر ملکی قرضے لینے کو اپنی معیشت کی جادوگری سمجھتے رہیں گے؟ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق 2013 کے دوران صرف چند ہزار افراد نے ایک ملین روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔ اگر کہیں ایف بی آر ارکانِ پارلیمنٹ ، جج حضرات، فوجی جنرل، اعلیٰ سرکاری افسران اور دولت مند کاروباری افراد اور دیگر پیشہ ور حضرات، جیسا کہ مہنگے ڈاکٹرز، وکلا اور ماہرِ تعمیرات کی طرف سے ظاہر کردہ اثاثے عوام کے سامنے پیش کردے تو عوام دیکھیں کہ ان افراد نے اپنے اثاثوں کی نسبت کیا ٹیکس ادا کیا ہے ۔ ایف بی آر پریہ قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کرے ... بلکہ عوام کے پاس اس سے باز پرس کرنے کا حق ہونا چاہیے کہ آخر اس کے ہاتھ ان متمول افراد تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟
درحقیقت ہمارے ہاں سماجی ناانصافی اور ٹیکس کا موجودہ نظام ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک کی معیشت کا نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ عوام میں بے چینی اور مایوسی بھی بڑھ رہی ہے۔ ملک کی بھاری رقم جس پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا، وہ غیر ملکی بنکوں میں جمع ہے۔ اسے کون ٹیکس کے دائرے میں لائے گا؟اور کشکول ٹوڑنے کی بات کرنے والے ٹیکس کا نظام کب درست کریں گے؟ جب تک ایسا نہیں ہوگا، ہم ایک ہی شیطانی چکر کا شکار رہے ہیں۔ چار دن کی دکھائی دینے والی چاندنی کے بعد پھر اندھیری رات ہوگی تاوقتیکہ مستقل اجالے کا اہتمام نہ کر لیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *