یا اللہ یا رسول ، کیا عمران بھی بے قصور!

naeem-baloch1’’اوئے کھوتے دا کناں ! اب بتاؤ، اب کیا کہتے ہو ، تمہارے لیڈر کی بھی نکل آئی ناں آف شور کمپنی!‘‘ نون لیگیے نے اپنے ایک انصافیے دوست کے کان پر دھول جماتے ہوئے کہا ۔
وہ بے چارہ گھسیانا ہو کر بولا :’’ یار وہ تو پرانی بات ہے ، اور 2011ء کو ختم بھی ہو گئی تھی ، وہ قانونی کمپنی تھی ، ٹیکس بچانا ہر ایک کا حق ہوتا ہے ، ایویں بکواس نہ کر خاں کے خلاف !‘‘
’’ یار تم ایسا کرو ، ایک فہرست بنا دو نا جائز کاموں کی جس میں لکھا ہو کہ عمران خاں نے اگرچہ ان سب ناجائز کاموں میں منہ کالا کیا تھا لیکن کیونکہ ماضی میں کیا تھا،اس لیے اس پر کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا !‘‘
’’بے وقوفا، ایویں چولیاں نہ مار، عمران خاں نے تو یہ پیسے کرکٹ میں کمائے تھے ، اس نے پاکستان کا ٹیکس تو چوری نہیں کیا نا ، انگریزوں کا ہی کیا ہے نا ، تمہیں کیا تکلیف ہے ؟ ‘‘
’’ اوئے اوروں کو نصیحت خود میاں فصیحت، یہ بتاؤ کہ عمران خاں نے 2011 ء میں کون سی کرکٹ کھیلی تھی ، اور کیا وہ اس وقت بھی برٹش شہری تھا ؟ کیا صرف پاکستان کا ٹیکس بچانا ناجائز ہے ، کسی اور ملک کے شہری ہوں تو یہ جائز ہو جاتا ہے ؟ کیا زنا صرف پاکستان میں کیا جائے تو گناہ ہے ، باہر جاکر سب کچھ حلال ؟ ‘‘
’’میں تمہارا تھوبڑا توڑ دوں گا اگر اب بکواس کی تم نے !سنا نہیں نعیم الحق نے کیا کہا ہے ، یہ تو سب کچھ ان کے اکاؤٹنٹ نے کیا ہے ، اس میں خان صاحب بالکل بے قصور ہیں !‘‘
یہ سن کر نہ صرف وہ لیگیا، بلکہ پاس بیٹھے ہوئے دو چار دوست بھی بے اختیار ہنسنے لگے ، صرف ایک شخص انتہائی غصے میں انصافیے کو گھور رہا تھا ، اس نے دو چار گالیوں کی تمہید باندھنے کے بعد کہا : ’’ اس خان کو جب پتا تھا کہ میری ، میری بہن کی ، پارٹی کے اہم لیڈروں کی بھی آف شور ہیں تو اتنی بڑھکیں مارنے کی کیا ضرورت تھی ؟ جب حکومت کے خلاف دھرنوں ، احتجاج اور استعفوں کی بات کی جا رہی تھی تو کیا اس وقت عمران خان کے پاس ضمیر نامی چیز تھی ؟ ‘‘
جواب میں سوائے خاموشی کے کچھ نہیں تھا !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *