اسلامی موسیقی

Ahmed Hamdi
بخدا مان جائیے! موسیقی میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ یہ روح کا سرور اور جذبات کے لیے مہمیز ہے۔ بھلے شاعری اچھی نہ ہو لیکن اگر موسیقی جاندار ہو تو انسان کے احساسات و مدفون جمالیاتی تخم پھٹ کر پھوٹنے لگتا ہے۔
نامعلوم اول اول یہ کس مولوی نے کہا ہوگا کہ موسیقی حرام ہے ۔۔۔۔۔۔ اور دقیانوسیت کے اتنہا دیکھیے! اب کچھ ناواقفان تقاضاے عصر حاضر یہ فرماتے ہیں کہ حمد و نعت و ترانہ میں ڈول باجے کا استعمال بھی حرام ہے۔ ان کو کوئی بتلائے کہ آلات موسیقی جدید دور کی ضروریات میں سے ہے۔ بھلا آپ کے خشک ترانے کون سنے گا۔ اس لیے زمانے کا تقاضا ہے کہ آپ عارفانہ و پاک کلام میں موسیقی کا استعمال کریں اور اگر اس کے استعمال سے کسی کے دل میں اللہ و نبی (ص) یا کسی پاکیزہ تحریک کی محبت پیدا ہو جائے تو یہی موسیقی آیات بھرے خشک وعظ سے بہتر ہے۔
ایسی ہر غزل یا نظم جس میں اللہ، رسول (ص)، بزرگ یا کسی تحریک و تنظیم کی عظمت کے ساتھ ساتھ موسیقی کا استعمال ہوا ہو خالص پاکیزہ اسلامی گانا کہلائے گا۔ اس کو سننے سے ثواب دارین نصیب ہوگا اور اس کے پھیلانے سے شیطان آپ کو روکے گا۔
میری یہ رائے اکیسویں صدی کے معروف مجددین و فقہا حضرت جاوید احمد غامدی اور علامہ یوسف القرضاوی وغیرھم کے مطابق ہے۔
ان شاء اللہ آئندہ کسی موقع پر ہم سود، رشوت، عورت کے ساتھ مصافحہ بلکہ بغل گیر ہونے کی  گنجائش نکالیں گے اور عین اسلامی طرز تفہیم سے ان کا جائزہ لیں گے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *