سر گنگا رام۔۔جس نے ہیرو کی طرح کمایا اور درویش کی طرح خرچ کردیا

ganga ramہمارے ذہن میں عرصے سے ایک سوال کلبلا رہا تھا۔ یہ سوال اس وقت مزید تنگ کرتا جب اخبار میں اس طرح کی خبر پڑھتے کہ ’’مال روڈ‘‘ کا نام بدل کر شاہراہ قائداعظم رکھ دیا ہے۔ ’’موہنی روڈ‘‘ کا نام بدل کر شیش محل روڈ رکھ دیا گیا، وغیرہ۔ اس طرح کی خبریں دراصل میرے ذہن میں یہ سوال پیدا کرتی تھیں کہ لاہور میں بہت ساری عمارتوں کے ساتھ ’’دیال سنگھ‘‘ اور ’’گنگارام‘‘ آتا ہے مگر ان کو تبدیل کرنے کی کوئی خبر کیوں نہیں آئی، مثلاً گنگارام ہسپتال، دیال سنگھ مینشن، دیال سنگھ کالج، دیال سنگھ لائبریری وغیرہ۔ میں نے کچھ دوستوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو سبھی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
اپنے ذہن میں سوال زیادہ دیر نہ رکھنے کی عادت نے مجھے مجبور کیا کہ میں خود ہی کوشش کر کے اس اُلجھن کو دُور کروں۔ میں نے اپنے ایک بزرگ سے جب اس کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے یہ جملہ کہہ کر مجھے حیران کر دیا کہ آدھا لاہور تو گنگارام نے تعمیر کیا ہے، اس کے نام کو تبدیل کر کے کیا تم تاریخ کو بدل ڈالو؟ پھر اُنھوں نے ایک اور جملہ میری طرف پھینکا: ’’تم نے کبھی سوچا کہ اگر ہندوستان والے ’’علی گڑھ کالج‘‘ کا نام بدل دیں تو تمھیں کیسا لگے؟ اگر وہ مسلم حکمرانوں اور صوفیوں اور مشہور لوگوں کے ناموں پر قائم عمارتوں، شہروں، یادگاروں اور سڑکوں کا نام بدلنا شروع کر دیں تو تمھارا ردِعمل کیا ہو گا؟
اب تو میرا دماغ ان چبھتے سوالوں کی وجہ سے گویا ماؤف ہی ہو گیا، میں نے ان بزرگ سے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور فوراً کتابوں اور انٹرنیٹ کی دُنیا سے رابطہ قائم کیا اور پھر حیرتوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔
میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ اگر نسلی تعصبات سے بالاتر ہو کر اور مذہب کو بیچ میں نہ لایا جائے تو اس بات کا اعتراف ناگزیر ہے کہ جدید لاہور کا محسن ’’سرگنگارام‘‘ ہے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ محض اعتراف کر لینا سرگنگارام کے مجموعی فلاحی کاموں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
’’ اس نے ایک ’’ہیرو‘‘ کی طرح کمایا اور درویش کی طرح خرچ کر دیا۔‘‘ یہ الفاظ انگریز گورنر پنجاب سر میلکم ہیلے نے سرگنگارام کے بارے میں ادا کیے تھے۔
معلوم ہونا چاہیے کہ لاہور مال روڈ (یعنی شاہراہ قائداعظم) پر واقع عالی شان عمارتیں آج بھی سرگنگارام کی عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق اور ذہین انجینئر، قابل زرعی سائنس دان اور سماجی کارکن تھا۔ ان کے شہر لاہور پر بے شمار احسانات ہیں۔ لاہور میں عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس، ایچی سی کالج، میو سکول آف آرٹس، میو ہسپتال کا سر البرٹ وکٹر ہال اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ ان کے ڈیزائن کردہ ہیں۔ جبکہ سرگنگارام ہسپتال، ڈی اے وی کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائنز)، سرگنگارام گرلز سکول (موجودہ لاہور کالج فارویمن)، ادارہ بحالی معذوراں اور دیگر بے شمار فلاحی ادارے اُنھوں نے اپنے ذاتی خرچ سے قائم کیے تھے۔
آپ یقیناًاب جاننا چاہتے ہوں کہ یہ ’’گنگارام‘‘ کون شخص تھا؟ تو آیئے ہم بتائے دیتے ہیں کہ گنگارام اپریل 1851ء میں شیخوپورہ کے قریب منگتانوالہ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد دولت رام پولیس میں سب انسپکٹر تھے۔ خاندان ضلع مظفر نگر سے ہجرت کر کے پنجاب میں منگتانوالہ میں قیام پذیر ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب مغلیہ سلطنت دہلی میں اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ کسی کی بھی جان اور مال محفوظ نہیں تھی۔ پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بعد اس کے نااہل جانشینوں کی وجہ سے سکھوں کی حکومت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور انگریز پنجاب پر قابض ہو گئے۔ اس پس منظر میں دولت رام ایک مہم جو نوجوان تھا، جو کچھ کر دکھانا چاہتا تھا۔ دولت رام اپنی بیوی کے ہمراہ اپنے خوابوں کی سرزمین پنجاب پہنچا اور جونیئر انسپکٹر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ منگتانوالہ لاہور سے 64کلومیٹر اور دوسری جانب سے بابا گرونانک کے حوالے سے مقدس شہر ننکانہ صاحب سے 22کلومیٹر کے فاصلے پر آباد تھا۔ دفاعی نقطۂ نظر سے منگتانوالہ پُرانی شاہی گزرگاہ پر قائم تھا۔ یہیں پر دولت رام کا بیٹا ہوا، جس کا نام گنگارام رکھا گیا۔ دولت رام اپنے کام میں یکتا تھا اور ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتا تھا، لیکن اس کا یہی روّیہ اس کے لیے مشکلات کا باعث بھی بن گیا۔ چنانچہ اس نے منگتانوالہ کو اپنے خاندان سمیت خیرباد کہا اور امرتسر منتقل ہو گیا، جہاں اس نے ضلعی عدالت میں مسودہ تحریر کرنے والے خطاط (اشٹام فروش) کی ملازمت اختیار کر لی۔ اس دوران گنگارام نے مشکل حالات میں پرورش پائی۔
چار برس کی عمر میں گنگارام نے ایک نجی سکول سے تعلیم کا آغاز کیا۔ بچپن ہی سے وہ تعلیم میں بھرپور دلچسپی لیتا رہا اور اپنے ہم عمروں سے کہیں زیادہ محنت کرتا۔ میٹرک کے امتحان کے بعد 1869ء میں لاہور آکر گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ اس وقت کالج کو قائم ہوئے محض تین سال کا عرصہ ہوا تھا اور اس کی کلاسیں اندرون شہر میں راجہ دھیان سنگھ کی حویلی میں ہوتی تھیں۔ گنگارام کی لاہور آمد اس کی زندگی میں انقلاب لے کر آئی۔ اندرون شہر کی سرگرمیاں، دھیان سنگھ کی حویلی کا طرزِ تعمیر، قدآور دانشوروں سے ملاقات اور تنہائی کی زندگی نے گنگارام کو بے حد متاثر کیا۔ گنگارام کی ریاضی کے مضمون میں غیرمعمولی دلچسپی تھی اور وہ غیرمحسوس طریقے سے انجینئرنگ کی طرف مائل ہوتے گئے۔
گورنمنٹ کالج میں دو سالہ ریاضی کی تربیت کے بعد 1871ء میں تھامس کالج روہڑکی میں پچاس روپے ماہانہ وظیفہ کے ساتھ داخلہ ان کی نئی زندگی کا پہلا سنگ میل ثابت ہوا۔ روہڑکی میں پرنسپل کرنل میکلین نے انھیں غیرمعمولی طالب علم قرار دیا۔ 1873ء میں گنگارام نے فائنل امتحان پاس کیا اور پروجیکٹ پیپرز کی لسٹ میں میرٹ پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ اس شان دار کامیابی پر انھیں گولڈ میڈل دیا گیا اور لاہور میں اسسٹنٹ انجینئر کے عہدے پر انٹرن شپ کے لیے تعینات کیا گیا۔ اس وقت ان کی عمر بائیس سال تھی۔ یہ ان کی عملی زندگی کا آغاز تھا۔
1873ء میں گنگارام کو گورداسپور ڈویژن میں اسسٹنٹ انجینئر کی حیثیت سے تعینات کر دیا گیا۔ بعدازاں امرتسر اور ڈیرہ غازی خان میں بھی تعینات رہے، جہاں اُنھوں نے ذہانت اور دوراندیشی سے کام کیا، جس کی معترف انگریز حکومت بھی تھی، جس کے باعث انگریز حکومت نے انھیں خصوصی طور پر دو سال کے لیے واٹر ورکس اور ڈرینج کی تربیت حاصل کرنے کے لیے بریڈفورڈ بھیجا۔ انگلینڈ سے واپسی پر انھیں پشاور میں پانی کی فراہمی ونکاسی کے منصوبوں کی ذمہ داری سونپی گئی۔ بعدازاں اُنھوں نے ایسے ہی منصوبے امبالہ، کرنال اور گوجرانوالہ میں بھی متعارف کرائے۔ بارہ برس بطورِ اسسٹنٹ انجینئر فرائض سرانجام دینے کے بعد انھیں لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ اس عرصے میں اُنھوں نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تعمیر ہونے والی یادگار عمارتیں کیتھڈرل چرچ اور ہائی کورٹ کی عمارتوں کے ڈیزائن تیار کیے جو ان کی محنت اور تعمیراتی ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
سرگنگارام کو بعد میں ایچی سن کالج کی تعمیر کے لیے سپیشل انجینئر مقرر کیا گیا۔ جب اس کالج کی سُرخ اینٹوں سے بنی عمارت اپنے اردگرد پھیلے خوبصورت سایہ دار باغ کے ساتھ مکمل ہوئی تو گنگارام چیف انجینئر کے عہدے پر فائز ہو چکے تھے۔
اس عہدے پر بارہ سال کام کے دوران ان کی تعمیر کی ہوئی عمارتیں افسانوی کرداروں کی طرح مشہور ہوئیں۔ اُنھوں نے لاہور میوزیم، میو سکول آف آرٹس (موجودہ این۔ سی۔ اے)، جنرل پوسٹ آفس، میوہسپتال کی البرٹ وکٹر شاخ اور گورنمنٹ کالج کے کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ جیسی یادگار عمارتوں کے ڈیزائن خود تیار کیے۔ مال روڈ پر ایچی سی سے لے کر این سی اے تک، جنرل پوسٹ آفس، لاہور عجائب گھر، گورنمنٹ کالج، لیڈی ویلنگٹن ہائی سکول، سرگنگارام ہائی سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن)، ہیلی کالج آف کامرس (موجودہ کالج آف بینکنگ اینڈ فنانس)، اس کے علاوہ متعدد کئی فلاحی عمارتیں بھی قائم کیں جو اب ختم ہو چکی ہیں، گنگارام کی تخلیقی سوچ اور ہنر کی عکاس ہیں۔ پھر محض لاہور ہی ان کی تعمیراتی سرگرمیوں کا مرکز نہیں رہا۔ فیصل آباد، سرگودھا اور شیخوپورہ میں عدلیہ اور انتظامیہ کے دفاتر کی عمارتیں بھی ان کی مہارت کا کرشمہ ہیں۔ انہی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے انھیں ’’رائے بہادر‘‘ کا خطاب دیا۔ گنگارام نئے طریقوں اور تجربات سے توانائی بچاتے تھے۔ اعداد وشمار کا پُرانہ طریقہ تھکا دینے والا تھا اور اس میں بہت زیادہ وقت صرف ہوتا تھا، لہٰذا گنگارام کے ماہر اور موجد دماغ نے نیا طریقہ ایجاد کیا۔ اُنھوں نے حرارت سے محفوظ سیدھی چھتوں اور ایک سے دوسری اینٹ میں اینٹ پھنسا کر دیوار تعمیر کرنے کا طریقہ رائج کیا۔ یہ ایجادات انجینئرنگ کی دُنیا میں انتہائی مہارات کی حامل ہیں اور آج بھی پوری دُنیا میں تعمیر کے یہی طریقے رائج ہیں۔دوسرے لفظوں میں مغلوں کے طرز تعمیر کے بعد سرگنگا رام نے برصغیر میں عمارتوں کی تعمیر کے دوسرے دور کا آغاز کیا۔
نکاسی آب کا انتظام
لاہور میں واٹر ورکس سکیم 1875ء میں شروع ہوئی۔ اس وقت نکاسی آب کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں تھا۔ گنگارام نے لاہور کی گلیاں پختہ کرائیں۔ نکاسی آب کے لیے نالیاں بچھائیں اور ملیریا جیسے موذی امراض کے خطرات کو کم کرنے کے لیے صفائی کے معیار کو بہتر بنایا۔ گنگارام کے تصورات اور مہارتوں کی نجی ماہر تعمیرات نے بھی تقلید کی۔ اس تناظر میں لاہور پر گنگارام کے اثرات بہت گہرے ہیں۔
1903ء میں کچھ تنازعات کے باعث سرگنگارام نوکری سے مستعفی ہو گئے۔انھیں ماضی کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند کی جانب سے 20 ایکڑ زمین انعام دی گئی۔ گنگارام نے دریائے چناب کے قریب اس اراضی کو جنت نظر بنا دیا۔ اس ویران اور بنجر علاقے میں اُنھوں نے اپنی زرعی مہارت سے نہری نظام قائم کیا۔
گھوڑا ٹرام دُنیا کا عجوبہ
چک نمبر 591 فیصل آباد کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ اس کو گنگاپور کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اس کا یہ نام گنگارام کی وجہ سے پڑا کیونکہ وہ اس علاقے کے مالک تھے۔ اُنھوں نے اس علاقے میں بہت سے ترقیاتی کام کروائے۔ سرگنگارام نے زرعی مشینری بھی اس علاقے میں متعارف کروائی ۔ یہ الیکٹرک موٹر لاہور سے اس گاؤں لائی گئی، چنانچہ اسی سے ہی اس گھوڑا ٹرام کا آغاز ہوا۔ کیونکہ اس دور میں چھوٹے علاقوں میں سڑکوں کا تصور ہی نہیں تھا اور ہیوی ڈیوٹی موٹر کو لانے کے لیے کسی نہ کسی راستے کی ضرورت تھی، چنانچہ سرگنگا رام نے حکم دیا کہ ساتھ والے گاؤں سے جو کہ تین کلومیٹر دور تھا، ٹرام کی پٹری بچھائی جائے اور پھر موٹر کو ٹرالی پر گھوڑوں کی مدد سے لایا جائے۔ وہ کام تو ہو گیا۔ لیکن پھر اس پٹڑی نے عوام کی سہولت کا فریضہ سرانجام دیا اور کوئی 100 سال کے لگ بھگ پٹڑی اور گھوڑا ٹرام اپنی قدیمی حالت میں عوام کو سفر کی سہولت پہنچاتی رہی۔
1998ء میں پٹڑی کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اس ٹریک کو بند کر دیا گیا، تاہم 12سال بعد مارچ 2010ء میں اس گھوڑا ٹرام کا پھر سے آغاز کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے فیصل آباد کی شہری حکومت نے 33 لاکھ کی گرانٹ دی جبکہ شہریوں نے بھی 11لاکھ کی امداد دے کر اس روٹ کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
گنگارام کا شاہکار ’’ماڈل ٹاؤن‘‘
1921ء میں چند لوگوں نے سر گنگا رام کی صدارت میں لاہور شہر سے باہر ایک ہزار ایکڑ پر مثالی ہاؤسنگ سکیم کا منصوبہ بنایا، جو آج بھی لاہور کی رہائشی اعتبار سے سب سے اچھی آبادی سمجھا جاتا ہے۔ یہ آبادی سر گنگارام کے شاہکاروں میں سے ایک تھی اور اس منصوبے پر اُنھوں نے اس وقت دیوان کھیم کی بھرپور مدد کی جو اس منصوبے کے خالق تھے۔ماڈل ٹاؤن کی تعمیر اپنے اندر کئی کہانیاں رکھتی ہے ۔ اس کا تفصیلی تذکرہ ہم پھر کبھی کریں گے۔
گنگارام کے اعزازات
(1) ان کی تعمیراتی خدمات کے اعتراف میں انھیں حکومت ہند نے رائے بہادر کا خطاب دیا۔
(2) 74برس کی عمر میں انھیں بطور زرعی سائنس دان ایگریکلچرل کمیشن کی رُکنیت کا سب سے بڑا اعزاز ملا۔ آخری پانچ برس ان کی خدمات کے سرکاری اعتراف اور اعزازات سے بھرپور تھے۔
(3) 1922ء میں انھیں سر کا خطاب دیا گیا۔
(4) 1925ء میں انھیں حکومت نے امپیریل بینک آف انڈیا کے گورنر کا عہدہ دیا۔
انتقال
10 جولائی 1927ء کو اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔ ان کی راکھ کو لاہور میں بیوہ گھر اور اپاہج آشرم کے قریب مقبرے میں رکھ دیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور پھر ان کی راکھ کو راوی میں بہا دیا گیا۔اس موقع پر ہر مذہب و ملت کے لوگ موجود تھے، کیونکہ گنگا رام نے مذہب ، رنگ ، نسل یعنی ہر قسم کے تعصبات سے باتر ہو کر صرف انسانی بہبود کے لیے کام کیا تھا۔
ہم اور گنگا رام
لاہور کے اس محسن کو کس طرح فراموش کیا گیا، یہ بھی ایک دلخراش کہانی ہے۔ آیئے آخر میں یہ کہانی بھی آپ کو سُناتے جائیں۔
سرگنگارام کے آنجہانی ہونے کے بعد ان کی سمادھی ان کی وصیت کے مطابق بڈھے راوی کے پاس تعمیر کی گئی تھی لیکن ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد انگریز حکومت نے ان کی خدمات کے اعتراف میں مال روڈ لاہور پر گنگارام کا مجسمہ تعمیر کیا ، مگر تقسیم کے وقت جب ہندو مسلم فسادات ہوئے تو اس کو بھی نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ مجسّمے کو صرف مسمار ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ ہر وہ سلوک کیا گیا جس سے انتقام کے شعلے ٹھنڈے ہو سکتے تھے۔ انتقام تو شاید مسلمانوں کا ہجوم کسی اور کی زیادتیوں کا لینا چاہتے تھے لیکن اس کا نشانہ بدقسمتی سے گنگارام کا مجسمہ بنا۔
سعادت حسن منٹو نے اس سچے واقعے کو اپنے ایک افسانے ’جوتا‘‘ کا موضوع بھی بنایا ہے۔ منٹو کی افسانوی مہارت کا ذائقہ تو آپ اس کے افسانے کو پڑھ کر ہی چکھ سکیں گے البتہ واقعے کا خلاصہ ہم بیان کیے دیتے ہیں۔
جولائی یا اگست 1947ء میں مسلمانوں کا ایک غصیلا جلوس مال روڈ پر گنگارام کے مجسّمے کو ’’شرک‘‘ کے نشان کے طور پر مٹانے کے لیے حرکت میں تھا۔ مجسمہ کو پہلے اینٹوں اور پتھروں سے توڑنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی پر اس کے منہ پر تارکول مل دیا گیا، لیکن نفرت کا اظہار ابھی مکمل نہیں ہوا تھا، تبھی تو توحید کے ایک متوالے نے نادر خیال پیش کیا کہ اس ’’بت‘‘ کے گلے میں جوتوں کا ہار پہنایا جائے، چنانچہ فوراً اس ’’ایمان افروز ‘‘کارروائی کو مکمل کیا گیا اور گنگارام کا منہ کالا کرنے کے بعد اس کے گلے میں پُرانے جوتوں کا ہار بھی ڈال دیا گیا۔ اس دوران پولیس پہنچ گئی۔ ’’ظالم انگریز‘‘ حکمرانوں کے تنخواہ دار ’’غدار‘‘ ہندوستانی پولیس والوں نے اپنے آقاؤں کے حکم میں فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے کئی افراد زخمی ہو گئے۔ اس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے گنگارام کے گلے میں جوتوں کا ہار بھی پہنایا تھا۔ اب یہ مجمع کچھ لاشیں اور درجن بھر زخمی چھوڑ کر منتشر ہو چکا تھا۔ زخمیوں کو جس ہسپتال پہنچایا گیا، آپ کو معلوم ہے اس کا نام کیا تھا؟ اس کا نام تھا ’’سرگنگارام ہسپتال‘‘۔ اس وقت قریب ترین وہی ہسپتال تھا اور شاید اب بھی وہی ہو! روایت ہے کہ گنگارام کے مجسّمے کو ہار پہنانے والا بروقت ہسپتال پہنچنے کی وجہ سے بچ گیا تھا!
گنگا رام سے ہمارے سلوک کی کہانی ابھی نامکمل ہے ۔ اس کی تکمیل باری مسجد کی شہادت پر ہوئی۔ معلوم ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کا غصہ ہم نے خوب نکالا تھا۔ بھلا ہم اپنے آپ کوجنونی ہندووں سے کم تر کیوں سمجھتے ۔ چنانچہ صرف لاہور شہر میں جہان جین مندر سے کر ہندووں کے درجنوں مندر ڈھائے گئے وہیں پر ایک بپھرے ہجوم نے گنگا رام کی سمادھی کا کام بھی تمام کر دیا۔ اس سمادھی کے آس پاس ایک خوبصورت باغ اور پانی کا تالاب بھی تھا ۔ ہجوم نے سب کچھ تباہ برباد کر دیا۔ یوں گنگا رام کا نام و نشان مٹا ڈالاگیا۔
گنگارام کی کہانی تو مکمل ہو گئی تھی اور اس کی وجہ بھی میری سمجھ میں آگئی تھی کہ ہم اس کا نام کیوں نہیں بدلتے لیکن میرے ذہن میں ایک نیا سوال جنم لے چکا تھا، وہ یہ کہ ہندو ہو یا سکھ، عیسائی ہو یا کسی اور مذہب کا غیرمسلم، اس سے نفرت یا دوستی کے ’’اسلامی آداب‘‘ کیا ہو سکتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *