جرائم کی تحقیقات اور جوڈیشل کمیشن

Irfan Hussainعرفان حسین

ہم پاکستانی جوڈیشل کمیشنز پر بے حد یقین ہیں رکھتے ہیں۔ اس دل لگی میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا اگر یہ آلہ دین کا چراغ، جس نے جن تو کیا حاضر کرنا تھا، کبھی خود بھی لو دے اٹھتا، لیکن اس کی وجہ سے عوامی توقعات مایوسی کے مزید اندھیرے میں کھوجاتی ہیں لیکن قہر یہ ہے کہ عوام ایک مرتبہ پھر اسی سے روشنی کے متمنی ہوتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سون پری کی جادو کی چھڑی کوہم ’’ٹیکنالوجی‘‘ سمجھتے ہیں۔ جب مشہور صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا توپورے ملک میں اس کی مذمت کرتے ہوئے جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔ حکومت نے فی الفور یہ مطالبہ تسلیم کرلیا اور محترم چیف جسٹس صاحب نے تین جج صاحبان کو اس حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے متعین کردیا۔ مجھے ان جج صاحبان کی دیانت اور انصاف پسندی پر مطلق شبہ نہیں لیکن ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ فائرنگ کے اس واقعے کے ذمہ داروں کا کھوج لگاپائیں گے ایسے ہی ہے جیسے ایک شاعر کو اس کی شاعری کی بنا پر کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیا جائے۔
تمہید کے طور پر کہناچاہتا ہوں کہ جب 2011 میں ایک نڈر صحافی سلیم شہزاد کو نامعلوم افراد نے اغواکرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کردیا تو کچھ حلقوں کی طرف سے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی ، آئی ایس آئی ،پر شبے کا اظہار کیا گیا تھا۔ میڈیا میں اٹھنے والے شور کی وجہ سے قتل کی تحقیقات کے لیے جسٹس ثاقب چیمہ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن قائم کیا گیا۔ کئی ہفتوں کی مغزماری کے بعد کمیشن نے دس جنوری 2012 کو اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کردی۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ا س قتل کی ذمہ داری’’دھشت گردی کی جنگ میں شامل بعض ریاستی اور غیر ریاستی عناصر، جیسا کہ طالبان، القاعدہ کارکن اور غیر ملکی ایجنٹ، پر عائد ہوتی ہے۔‘‘
جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے تو وہ معاملہ اس نتیجے پر پہنچ کر اختتام پذیرہوا کیونکہ اس طرح کی مبہم تحقیقات کے نتیجے میں کسی کوبھی ملزم ٹھہرا کر سزادینا تو درکنار، گرفتار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بنائے گئے تقریباً تمام جوڈیشل کمیشنز کا انجام یہی ہوا ۔ لیاقت علی خان سے لے کربے نظیر بھٹو تک، بہت سے سیاست دانوں کو قتل کیا جاچکا لیکن قوم ہرگز نہیں جان سکی کہ ان ہائی پروفائل کیسز کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ جنرل ضیا کا طیارہ کس طرح تباہ ہوا اور قوم کو آمریت سے کس نے نجات دلائی؟ایسا تو ہر گز نہیں کہ طیارے آموں سے بدکتے ہوں اور ا ن کی پیٹیاں ان کی طبعِ نازک پر گراں گزرتی ہوں۔ کچھ تو تھا جو قوم کو علم نہ ہوسکا۔
اگر پی پی پی حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے باوجود یہ پتہ نہ چلا سکی کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کا ذمہ دار کون تھا ... دراصل زرداری حکومت نے اس کیس کی ترجیحی بنیادوں تفتیش نہ کرنے میں ہی عافیت سمجھی... تو کیا ہم یہ توقع لگا سکتے ہیں کہ ایک جوڈیشل کمیشن حامد میر پر حملے کی تحقیقات کرکے مجرموں تک پہنچ جائے گا؟ اسلام آبادسے تعلق رکھنے والے ایک صحافی عمر چیمہ کے ساتھ بھی ایسا ہی اندوہناک واقعہ پیش آیاجب اُسے کچھ نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد سلیم شہزاد کی طرح بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا ، تاہم مسٹر چیمہ کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ ان کو دارلحکومت سے دن دیہاڑے کچھ افراد نے اٹھایا اور اسے بتایا کہ اس پر تشدد اس کی خبری کہانیوں کی وجہ سے کیا جارہا ہے۔
حامد میر پر حملے کے بعد ایک خفیہ ایجنسی کی طرف انگشت نمائی کی گئی تو اس کے پیچھے دیگر عوامل کے علاوہ کچھ واقعاتی شہادتیں بھی تھیں۔ یقیناًاس پر حملہ کرنے والوں کو ان کے اسلام آباد سے کراچی تک کے سفر کا علم تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ کس راستے سے گزریں گے اور انھوں نے ان کے راستے پر قاتلوں کا اسکواڈ مقرر کردیا۔ اتنی معلومات اوروسائل رکھنے والی کسی اور ایجنسی کا نام ذہن میں نہیں آرہا۔
چند سال پہلے اسلام آباد میں بھی حامد میرکی گاڑی کے نیچے بم نصب کرکے ان کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اگرچہ اس کی ذمہ داری طالبان نے اٹھائی تھی لیکن ان مبہم تنظیموں کے ساتھ مسلہٗ یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت نہیں چھوڑ جاتیں۔ جن اہم کیسز میں طاقتور ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا شبہ پایا جائے، پولیس بھی ان کی تفتیش پورے زور و شور سے کرنے سے نہ صرف گریز کرتی ہے بلکہ اگرکوئی ثبوت رہ گیا ہو تو اسے بھی تلف کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بالکل جس طرح بے نظیر بھٹو پر حملے کی جگہ کو چند گھنٹوں بعد دھو کرتمام ثبوت مٹا دیے گئے تھے۔ اس لیے یہ بات قابلِ فہم ہے کہ عوام کو پولیس کی طرف سے کی گئی تحقیقات پر کوئی اعتماد نہیں ہوتا، لیکن دوسری طرف ہم جوڈیشل کمیشن پر یقین کرلیتے ہیں ، حالانکہ اس کا ٹریک ریکارڈ پولیس سے بھی زیادہ مایوس کن ہے ۔ مجھے نہیں یاد کی کسی جوڈیشل کمیشن نے کسی ہائی پروفائل کیس کے ملزمان کو بے نقاب کیا ہو۔
اور پھر ہم اپنے جج حضرات کو شرلک ہومز کیوں سمجھ لیتے کہ وہ ان گتھیوں کو بھی سلجھا لیں گے جو پولیس کے بس میں نہیں ؟اگر ملک میں جوڈیشل سسٹم، جس کو درست کرنا ان کے بس میں بھی ہے اور فرض بھی، کی حالتِ زار پر نظر ڈالیں تو ان کی صلاحیت طشت ازبام ہو جائے گی۔ عدالتوں میں برس ہا برس سے کیسز التوا کا شکار رہتے ہیں۔ سائل اور وکلا پیشی بھگتتے رہتے ہیں لیکن فیصلے کی نوبت نہیں آتی۔ بعض اوقات ایک معمولی جائیداد کا کیس کئی عشروں تک لٹک جاتا ہے جبکہ جائز سائل خوار اور درماندہ رفوت ہوجاتا ہے۔ اورا س پر ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ماہر جاسوس بن کر ان گمنام اور ہائی پروفائل قتل کے کیسز کی تحقیقات کرکے مجرموں کو قانو ن کے کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں جوڈیشل کمیشن کے پاس کسی کو بھی طلب کرکے پوچھ گچھ کرنے کا اختیار ہوتا ہے لیکن کسی عام سرکاری افسر کو طلب کرنے اور کسی خفیہ ایجنسی سے بازپرس کرنے میں بہت فرق ہے۔
اب سوال پیداہوتا ہے کہ اگر ہماری پولیس اور جج تحقیقات نہیں پاتے تو پھر کون کرے گا؟ تمام دنیا میں جرائم کی تحقیقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کی جاتی ہے۔ جج حضرات کو صرف ان کیسز پر نظر رکھنے کے لیے متعین کیا جاتا ہے جن کا کوئی سیاسی پہلو نکلتا ہو لیکن دنیا میں کہیں بھی جج صاحبان جرائم کی تحقیقات نہیں کرتے کیونکہ ان کے پاس اس مقصد کے لیے مطلوبہ ٹریننگ نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں حکومت کو بھی علم ہوتا ہے کہ یہ جوڈیشل کمیشن جرائم کی تحقیقات نہیں کرسکتے لیکن انہیں اس لیے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ ایک تو کی جانے والی تحقیقات میں غیر جانبداری کا پہلو دکھائی دے اور دوسرا یہ کہ حکومت بری الذمہ ہوجائے کہ اس نے نیک نیتی سے اپنا کام کردیا۔ اس ترکیب کا مقصد وقت گزار ی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ بہت شدومد سے تحقیقات ہورہی ہیں اور ہم دم سادھے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اتنی دیر میں کوئی اور واقعہ پیش آجاتا ہے اور پھر اس کی تحقیق کے لیے ایک اور جوڈیشل کمیشن قائم کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ حامد میر حملے پر جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات کا انتظار کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ چادر تان کر سو جائیں، شاید خواب میں کچھ دکھائی دے جائے... اور ایسے معجزات، جن کو ہم نے امید کا نام دے رکھا ہے، پر ہی تو دنیا قائم ہے۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *