عمران خان کی آف شور کمپنی 2015 تک فعال رہی، نئے انکشافات

off

چینل آئی لینڈ کی جرسی گورنمنٹ کی جانب سے جاری کی جانے والی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی بے نامی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹیڈ نہ صرف یکم اکتوبر 2015 تک فعال رہی بلکہ عمران خان ٹیم فروری 2014 تک اس کے سالانہ ریٹرنز بھی ادا کرتی رہی۔ پی ٹی آئی نے اپنی با ضابطہ موقف میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی کمپنی نیازی سروسز لمیٹیڈ کافی عرصے سے غیر فعال ہے۔ دی نیوز کی جانب سے حاصل کی جانے والی جرسی فنانشل سروسز کمیشن ( جے ایف ایس سی) کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیازی سروسز لمیٹڈ کا آخری سالانہ ریٹرن 20 فروری 2014 کو جمع کرایا گیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کے اکائونٹس کی ٹیم نے نیازی سروسز لمیٹڈکے سالانہ ریٹرنز برائے سال 2013 کی ادائیگی 28 فروری 2013 کو کی۔ جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی چیف عمران خان نے اپنے کاغذات نامزدگی 29 مارچ 2013 کو دائر کیے تھے۔ عمران خان کے 2013 کے کاغذات نامزدگی سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی اثاثوں میں کسی آف شور کمپنی کا ذکر کیا اور نہ ہی اپنی سرمایہ کاری یا کمپنی کے سرمایے کی بات کی۔ 2013 کے کاغذات نامزدگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے حلفیہ کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی کمپنی نہیں ہے۔ جے ایف ایس سی کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی چیف کی آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ چینل آئی لینڈ جرسی میں 10 مئی  1983 میں قائم کی گئی تھی۔ 3 اپریل 1984 کو جے ایف ایس سی کی جانب سے کمپنی کو رجسٹرار نوٹس بھیجا گیا۔ عمران خان نے  1983 میں سائوتھ کینسنگٹن لندن میں فلیٹ خریدا جس کی برطانیہ کے لینڈ رجسٹری ڈپارٹمنٹ میں 3 مئی 1984 کو رجسٹری کی گئی۔ جے ایف ایس سی کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آف شور کمپنی نے اپنا پہلا سالانہ ریٹرن 17 فروری 1986 کو ادا کیا۔ کمپنی کو رجسٹرار آفس سے 24 اپریل 1984 کو دو نوٹسز وصول ہوئے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2 اپریل 1987 کو عمران خان نے پلاٹ کے حصول کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کو درخواست لکھی تھی اور کہا تھا کہ ان کے پاس کوئی گھر ہے نہ زمین۔ انہیں پلاٹ الاٹ کر دیا گیا تھا۔ جے ایف ایس سی کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آف شور کمپنی نے 1987 کے لئے اپنا ریٹرن 26 مئی 1987 اور 22 جون 1987 کو جمع کرایا۔ نیازی سروسز لمیٹڈ کو رجسٹرار آفس سے 25 اپریل 1988 کو نوٹس موصول ہوا۔ کمپنی کا ایک اور سالانہ ریٹرن 8 جون 1988 کو ادا کیا گیا، اگلا ریٹرن 21 جولائی 1989 کو جمع کرایا گیا۔ جرسی چینل آئی لینڈ میں قانون کے تحت یہ ضروری ہے کہ ہر آف شور کمپنی اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے ہر سال ریٹرن جمع کرائے۔ یکم جنوری 1990 کو عمران خان نے کمپنی ڈائریکٹرز 1) لینگڑی ٹرسٹیز لمیٹڈ، 2) لینگڑی سیکریٹریز لمیٹڈ، 3) لینگڑی کنسلٹنس لمیٹیڈ سے تبدیل کرکے ان کی جگہ 1) بار کلیز پرائیوٹ بینک اینڈ ٹرسٹ لمیٹڈ، 2) بارکلے ٹرسٹ چینل لمیٹڈ، 3) بارکلے ٹرسٹ جرسی لمیٹڈ کو ڈائریکٹرز مقرر کر دیا۔ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ 10 ہزار برطانوی پائونڈ تھا۔ اس کے شئیرز کی تعداد 10 ہزار تھی جبکہ مذکوراہ بالا تمام ڈائریکٹرز میں سے ہر ایک کے تین شئیرز تھے۔ نیازی سروسز لمیٹڈ کی جانب سے جمع کرائے گئے اگلے ریٹرنزان تاریخوں پر جمع کرائے گئے : 25 جون 1990، 7 فروری 1991، 5 فروری 1992، 12 فروری 1993، 27 جنوری 1994، 27 جنوری 1995، 27 فروری 1996، 16 جنوری 1997، 11 فروری 1998، 25 جنوری 1999، 19 جنوری 2000، 30 جنورہ 2001، 20 فروری 2002 اور 24 فروری 2003۔ 2003 میں پی ٹی آئی چیف نے بے نامی آف شور کمپنی کے نام خریدا گیا اپنا فلیٹ بیچ دیا۔ لیکن کمپنی اس کے بعد بھی مکمل طور پر فعال رہی اور عمران خان جے ایف ایس سی کے پاس اپنا سالانہ ریٹرن جمع کراتے رہے۔ جے ایف ایس سی کے دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان نے آئندہ برسوں کے لئے ان تاریخوں پر کمپنی کے ریٹرنز جمع کرائے: 25 فروری 2004، 7 جنوری 2008، 23 فروری 2009، 19 جنوری 2010، 7 فروری 2011، 29 فروری 2012، 28 فروری 2013، اور 20 فروری 2014۔ 30 جون 2015 کو کمپنی کو جے ایف ایس سی کی جانب سے نوٹس موصول ہوا اور رجسٹرار آفس کی جانب سے 2015 کا سالانہ ریٹرن جمع کرانے کے لئے آخری نوٹس کے اجرا کے بعد بالآخر یکم اکتوبر 2015 کو یہ کمپنی تحلیل کر دی گئی:۔

source:thenews

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *