میڈیا اور طاقتور ریاستی ادارے

Najam Sethiنجم سیٹھی

نامور صحافی حامد میر پر کراچی میں ہونے والے قاتلانہ حملے نے بہت سے بنیادی سوالات اٹھا دیئے۔ سب سے پہلے تو میر صاحب کے اپنے بیان اور پھراس وقت جیوٹی وی سے نشر ہونے والے کچھ افراد کے بیانات، جن میں ملک کی ایک خفیہ ایجنسی اور اس کے سربراہ کو اُس حملے پر مورد ِ الزام ٹھہرایا گیا ،سے ملک بھر میں ایک ہیجان خیز بحث کا آغاز ہوگیا۔ حامد میر کے بیان کی صداقت اور جیو کی طرف سے ملک کے ایک اہم ترین ادارے کو ’’نشانہ‘‘ بنائے جانے پر رائے زنی نے ماحول میں تنائو کی کیفیت پیدا کر دی۔ دوسری طرف اس صورت ِ حال نے میڈیا اور صحافی برادری کے درمیان نظریاتی اور فکری اختلاف کو ایک طرح کی محاذ آرائی میں اس طرح بدل دیا کہ کچھ دھڑے آئی ایس آئی کے حامی (نام نہاد) دکھائی دیئے جبکہ کچھ کے بیانات سے اس ایجنسی پر تنقیدی سوالات اٹھائے جانے کی وجہ سے اس کے مخالف ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔ میڈیا کے طرز ِ عمل اور صحافتی اخلاقیات اور اقدار کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سرد خانے سے نکل کر پوری شدت سے سامنے آکھڑا ہوا۔ تیسری پیشرفت یہ ہوئی کہ وہ اہم ترین خفیہ ایجنسی ایک مشکل صورت ِ حال سے دوچار ہوگئی کیونکہ رد ِ عمل جو بھی ہو، اس کے خفیہ آپریشنز پر بات کی جانے لگی اور یہ بھی سوال اٹھایا جانے لگا کہ اس کی پالیسیاں کسی پوچھ گچھ کے دائرے میں کیوں نہیں آتیں؟
اس سے پہلے حامد میر نے ملک اور بیرون ِ ملک متعلقہ افراد کو ای میل اور آڈیو اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے اور مشرف غداری کیس پر اپنائے جانے والے موقف کی وجہ سے ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی ان کو نشانہ بناسکتی ہے۔ ان کے اس بیان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ اور صحافیوں، جو دفاعی اور خفیہ اداروں پر تنقیدی سوالات اٹھاتے رہے ہیں، نے بھی انہی خدشات کا اظہار کیا تھا جو حامد میر کی طرف سے سامنے آئے۔ جب اُن صحافیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا تو اُنہوں نے ’’سبق سیکھنے‘‘ میں ہی عافیت جانی اور قدم پیچھے ہٹالئے لیکن حامد میر نے ایسا نہ کیا اور ’’مقدس گائے‘‘ کا پیچھا کرتے رہے۔ 2011ء میں ایک اور صحافی سلیم شہزاد بھی خفیہ اداروں کی ٹوہ میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے بھی اپنے قریبی افراد کو ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کردیا تھا تاہم جب اُنہوں نے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنا کام جاری رکھا تو اُنہیں پراسرار طور پر نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور پھر ان کی تشدد زدہ لاش ایک نہر سے برآمد ہوئی۔ اس قتل کی تحقیقات کے لئے قائم ہونے والے ایک انکوائری کمیشن نے تنقیدی لہجے میں کہا کہ ملک کی اہم ترین خفیہ ایجنسی کو بھی پوچھ گچھ کے عمل سے گزرنا چاہئے لیکن کمیشن نے اسے مورد ِ الزام نہیں ٹھہرایا۔
اب حامد میر حملے کی تحقیقات کے لئے ایک اور کمیشن قائم کردیا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ اس کی طرف سے مرتب کئے جانے والے نتائج سابق کمیشن کے نتائج سے مختلف نہیں ہوں گے تاہم سلیم شہزاد کیس کی طرح اس مرتبہ بھی خفیہ ایجنسی کے خلاف واقعاتی شہادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طاقتور حلقے حامد میر سے ناراض تھے اور اُنہیں وارننگ دی جا چکی تھی کہ وہ خبردار رہیں۔ ان کو شکایت تھی کہ ان کے فون ٹیپ کئے جارہے ہیں اور کسی کو ان کے سفر کے اوقات اور منزل کا بھی علم تھا۔ میر صاحب کو یقیناً انتہا پسندوں کی طرف سے بھی خطرہ تھا لیکن ایسی معلومات حاصل کرنا ان کی پہنچ سے باہر ہے۔
اس پس ِ منظر میں حامد میر پر حملے کے بعد جیو کی طرف سے آنے والا رد ِ عمل کئی ایک وجوہات کی بنا پر قابل ِ فہم ہے۔ کچھ طاقتور حلقے اس میڈیا گروپ سے گزشتہ چند برسوں سے ناراض تھے کیونکہ یہ ان کی بھارت اور افغانستان کی پالیسیوں، سول ملٹری تعلقات ، عدلیہ کی بالادستی اور دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے حوالے سے تنقیدی سوالات اٹھاتا رہا تھا۔ درحقیقت اس میڈیا گروپ کی انتظامیہ کے کئی اراکین کو بھی اپنی جان کا خطرہ تھا، اسی لئے وہ بیرون ملک میں قیام پذیر تھے۔ اس سے پہلے بھی جیو کو دفاعی اداروں کی طرف سے دبائو کا سامنا کرنا پڑا جب 2007ء میں(جنرل مشرف کے دور میں) تین ماہ تک اس کی نشریات معطل رہیں تاہم حامد میر پر حملے کے بعد ’’آٹھ گھنٹے تک آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کو ہدف ِ تنقید بنانے‘‘ کے اقدام پر مشتعل ہوتے ہوئے خفیہ ایجنسی نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا اور جیو کو ’’قومی سلامتی کے خلاف طرز ِ عمل دکھانے والا غدار‘‘ قرار دے ڈالا اور کیبل آپریٹرز اور پیمرا پر دبائو ڈالا کہ جیو کو بند کر دیا جائے۔ جس طرح جیو کی طرف سے الزامات لگانا زیادتی کے زمرے میں آتا ہے، بالکل اسی طرح اسے بند کر دینا بھی زیادتی قرار پائے گا اور امکان ہے کہ اس پر طاقتور حلقوں کوسول سوسائٹی اور عدلیہ کی طرف سے حمایت کے بجائے تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ہماری تاریخ کی اس غیر معمولی محاذآرائی میں کئی ایک میڈیا ہائوسز محض جیو سے کمرشل مسابقت کی وجہ سے حب الوطنی کا نام نہاد لبادہ اُوڑھ کر خفیہ اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ٹی وی دیکھنے والوں میں نصف سے زائد جیو کے ناظرین ہیں (تقریباً50% سے زائد)، اس لئے اس چینل کی بندش میں دیگر میڈیا ہائوسز کا اپنا مفاد بھی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ طرفین کے بہت سے صحافی یا تو میڈیا اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یا پھر وہ آئی ایس آئی کے نادیدہ ہاتھ سے خائف ہیں۔ جیو نے ڈی جی آئی ایس آئی کو مورد ِ الزام ٹھہرانے پر دیر تک معذرت بھی کی لیکن ایسا لگتا ہے کہ مقتدر حلقے اسے معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔
اس ناروا صورتِ حال میں سب حلقوں کے لئے سبق ضرور موجود ہے۔ کسی میڈیا گروپ کو خود کو اتنا طاقتور نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ریاستی اداروں اور منتخب شدہ باڈیز کو اپنی پسند ناپسند کے ترازو میں تولنا شروع کر دے۔ میڈیا کے بعض اداروں کو بھی اپنی جارحانہ پالیسیوں، جن سے بسااوقات ایسا تاثر ملتا ہے کہ یہ طاقتور میڈیا ہائوس ملک میں کنگ میکر کا کردار ادا کر رہا ہے، پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف فوج اور آئی ایس آئی کو بھی پاکستان کی جمہوری زندگی کے حقائق کو تسلیم کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ دراصل سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ...’’جیو اور جینے دو‘‘... کی پالیسی پر کاربند رہیں۔ دفاعی اداروں کو ایک حقیقت اور اس میں ان کی بھی بہتری ہے، تسلیم کرلینی چاہئے کہ ملک کی نئی جمہوری حکومت، نیا پریس،نئی عدلیہ اور نئی سول سوسائٹی چاہتی ہے کہ تمام ریاستی اداروں کی طرح دفاعی اور خفیہ اداروں کا بھی احتساب ہو تاکہ قومی زندگی کے معاملات بہتری کی طرف گامزن ہوسکیں۔ اس نئے پاکستان میں فوج ایک ریاستی ادارہ ہے نہ کہ ’’اسٹیبلشمنٹ ‘‘ اور آئی ایس آئی صرف ایک انٹیلی جنس ایجنسی ہے ،نہ کہ ایک ’’حساس ایجنسی‘‘۔ اس نئے پاکستان میں نہ حب الوطنی پر کسی کی اجارہ داری ہے اور نہ ہی سویلین کو بات بات پر غدار قرار دینے کی پالیسی قابل ِ قبول ہے۔
آخر میں ضروری ہے کہ عدلیہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے آگے بڑھے اور تمام حلقوں کے لئے ایک سرخ لکیر کھینچ دے اور سول اور کرمنل کیسز، جو عدالتوں میں زیر ِ سماعت ہیں، انہیں جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کرے تاکہ ملک میں قانون کی حاکمیت قائم ہو اور قانون شکن عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔ اس کے علاوہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں میڈیا بالمقابل میڈیا، حکومت اور ریاستی ادارے بالمقابل میڈیا اور سول سوسائٹی بالمقابل ریاستی ادارے اور میڈیا وغیرہ کی غیر صحت مندانہ روایت کا خاتمہ کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔ ان کے درمیان صحت مندانہ اور مثبت مسابقت ہونی چاہئے لیکن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کو اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ سب حلقوں کو مہذب زندگی کی ایک اٹل حقیقت تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ ’’ذمہ داری کے بغیر آزادی اور احتساب کے بغیر اختیار‘‘ بہت سی خرابیوں کو دعوت دیتے ہیں۔ اس غیر معمولی صورت ِحال، جس کا ہمیں سامنا ہے، کی وجہ سے ہمیں اس سچائی کی تفہیم ضرور کرنی چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *