میڈیا کی جنگ

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

تیسری دنیا کے ایک ملک (نام یاد نہیں رہا) میں جمہوریت کی بد ترین شکل رائج تھی ،لوگ ووٹ ڈالتے تھے، پارلیمنٹ منتخب کرتے تھے ،عدالتوں میں مقدمات سنے جاتے تھے ، پولیس کامحکمہ موجود تھا ، ٹیکسوں کی وصولی ہوتی تھی ،اخبارات اور ٹی وی چینلز کام کرتے تھے اوریوں بظاہر لوگوں کی نمائندہ سول حکومت قائم تھی۔تاہم اس ملک کے حکمران کا انداز حکمرانی بہت دلچسپ تھا،ایک دفعہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ ان تمام ہتھکنڈوں کا استعمال جائز سمجھتا تھا جو اس کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہوتے اور اس ضمن میں وہ کسی قسم کے قانون یا اخلاقیا ت کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔مثلاً اگر اس نے اپنی مرضی کا کوئی خوفناک قانون اسمبلی سے پاس کروانا ہوتا اور اس کے لئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہوتی تو وہ اپوزیشن کے ارکان کو خرید لیتا ،اسی طرح اگر اس کے خلاف کوئی مقدمہ اعلیٰ عدالت میں پیش ہوتا تو وہ سات میں سے چار جج خرید کر فیصلہ اپنے حق میں کروا لیتا ،میڈیا میں اگر کوئی اس کے خلاف بولتا تو اس کا منہ بھی نوٹوںسے بھر کے بند کر دیتا۔ اس حکمران کے ایما پر یہ سارے کام اس ملک کی پولیس کا سربراہ کرتا تھا ،اس نے ایک ڈائری بنا رکھی تھی جس میں وہ ایسے تمام کاموں کا حساب رکھتا تھا اور یہ درج کرتا تھا کہ کس مقصد کے لئے کون سے رکن اسمبلی ،جج یا صحافی کو کتنے پیسے دئیے گئے ۔اور پھر ایک دن وہ بھی آیا جب اس حکمران کے اقتدار کا سورج غروب ہو گیا ،پولیس کا سربراہ جو اس کا دست راست تھا ،اس کی ڈائری منظر عام پر آگئی جس میں وہ تمام تفصیلات درج تھیں ،اس ڈائری کا ہاورڈ یونیورسٹی میں تجزیہ کیا گیا جس کے نتیجے میں جہاں اور بہت سے حیرت انگیز نتائج اخذ کئے گئے وہاں یہ بھی پتہ چلا کہ پولیس کے سربراہ کا سب سے زیادہ خرچہ میڈیا کی زبا ں بندی پر آیا۔اس کی وجہ بہت دلچسپ تھی ،عدلیہ یا پارلیمنٹ پر اثر انداز ہونے کے لئے ضروری نہیں تھا کہ تمام ججوںیا پوری پارلیمنٹ کو خریدا جائے ،کم سے کم اکثریت کی حمایت حاصل ہونے سے بھی مقصد پورا ہوجاتا تھا،جبکہ میڈیا میں مسئلہ یہ تھا کہ سوائے ایک شخص کے اگر تمام لوگوں کو بھی خرید لیاجائے تو اس ایک شخص کی آواز خود بخود نمایاں ہو جاتی ہے چاہے اس کا تعلق کسی چھوٹے سے اخبار یا چینل سے ہی کیوں نہ ہو،لہٰذا جب تک تمام میڈیا کو نہ خریدا جاتا مقصد حاصل نہ ہوتا اور یہی وجہ تھی کہ میڈیا پر سب سے زیادہ خرچہ آیا۔فی الحال اس کیس اسٹڈی کو یہیں چھوڑتے ہیںاور بھارت چلتے ہیں۔
اپنے ازلی دشمن بھارت میںایک خاتون ہیں ، نام ہے ان کا ارون دتی رائے ‘کشمیر سے لے کر مائو نواز بغاوت تک ،بھارت کے قومی امور پر ان کی رائے ایسی ہے جسے بھارت کے ’’قومی مفاد ‘‘ میں بہرحال نہیں کہا جا سکتا ۔اگست 2008ء کو ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کشمیر کی آزادی کی حمایت کی اور کہا کہ کشمیر میں نکالی جانی والی ریلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری بھارت سے علیحدگی چاہتے ہیں،ان ریمارکس پر کانگریس اور بی جے پی دونوں نے مس رائے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔2001ء میںبھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات پر بھی ارون دتی رائے نے کئی سوالات اٹھائے اور ملزم محمد افضل کی پھانسی کو اس وقت مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا جب تک ایک پارلیمانی انکوائری ان سوالات کے جوابات تلاش نہیں کرتی۔2008ء میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بارے میں ارون دتی رائے نے دی گارڈین میں ایک مضمون لکھا جس میں انہو ں نے کہا کہ دہشت گردی کا کوئی جوازنہیں تاہم انہوں نے ان حملوں کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کا مشورہ دیا اوران حملوں کو 2002ء میں گجرات میں ڈھائے جانے والے مظالم ،کشمیر کی شورش اور بھارت میں پائی جانے والی بے پناہ غربت سے نتھی کیا ۔بھارت میں جاری نکسل باڑی کی تحریک، جس کے بارے میں من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کی سلامتی کے لئے سنگین ترین خطرہ ہے، ارون دھتی رائے کہتی ہیں کہ بھارتی حکومت نے غریب ترین طبقات کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے ،مس رائے کی نظر میں نکسلائٹ ایک قسم کے محب وطن ہیں جو بھارتی آئین کے نفاذ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ارون دتی رائے بھارت کی نیوکلیئر پالیسیوں کی بھی ناقد ہیں ۔نومبر 2010ء میں مس رائے کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں بغاوت کا چارج لگایا گیا تاہم مرکزی حکومت نے اس ضمن میں کوئی باقاعدہ کیس درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ارون دھتی رائے کو بے شمار اعزازات سے نوازا جا چکاہے‘ ان کانام ٹائم میگزین کے 2014ء کے با اثر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ جس قسم کے خیالات ارون دھتی رائے کے بھارت کے قومی سلامتی کے امور کے بارے میں ہیں، کیاانہیں بھارت کے قومی مفاد میں کہا جا سکتا ہے ؟ اسی طرح جو کچھ نوم چومسکی امریکہ کے بارے میں کہتا ہے، کیا اسے امریکی قومی مفاد میں کہا جا سکتا ہے ؟سو‘ جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی قومی مفاد پر اختلافی نقطہ نظر نہیں ہوتا انہیں چاہئے کہ پہلے مکمل حقائق اکٹھے کر لیں، پوری دنیا میں سوچنے سمجھنے والے لوگ اپنی ایک رائے رکھتے ہیں ‘ان کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس رائے کی بنیاد پر کسی کو غدار ی کا طعنہ یا حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جانا چاہئے۔
اب پاکستان میں واپس آ جائیں ‘پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہائوس’’جنگ/ جیوگروپ‘‘ پراس وقت پابندی کی تلوار لٹک ر ہی ہے ،زیادہ سے زیادہ اس پر یہ الزام ہے کہ اس نے قومی سلامتی کے ادارے پر لگائے گئے الزامات کو نہایت غیر مناسب انداز میں نمایاں کیا جو قوی مفاد کے خلاف تھا۔ایک لمحے کے لئے مان لیں کہ ایسا ہی ہوا،اب کیا کرنا چاہئے؟ کیا پاکستان کے اس میڈیا ہائوس کو جس کی بنیاد قیام پاکستان سے پہلے رکھی گئی ،بند کر دینا چاہئے ؟ کیا یہ اقدام قومی مفاد میں ہوگا ؟ کیا اس سے پوری دنیا میں ہماری نیک نامی ہوگی ؟ کیا اس سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟جی نہیں ،مسئلہ اس سے بگڑ جائے گا،جب تک میڈیا میں اس اقدام کی مخالفت میں ایک آواز بھی باقی رہے گی وہی نمایاں ہو کرگونجے گی ‘یہی سبق ہاورڈ کی اس کیس اسٹڈی سے بھی حاصل کیا گیا۔
بلا شبہ ہماری قومی سلامتی کے ادارے ہماری آن ہیں، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ان کا مورال بلند رکھنے کی اشد ضرورت ہے تاہم یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس قدر گھن گرج اور شعلہ بیانی کے ساتھ جنگ / جیو گروپ کے خلاف تقاریر کی جا رہی ہیں اگر اس سے آدھی شعلہ بیانی دہشت گردوں کے خلاف دکھائی جاتی تو اس ملک میں پچاس ہزار بے گناہ انسانوں کا خون نہ ہوتا ،مائوں کی گود نہ اجڑتی ،ہمارے فوجی جوانوں کے لاشے گھر نہ آتے اورہمارے لئے جان کی بازی لگانے والے سیکورٹی اہلکار آج اپنے آپ کو بے یارو مددگار نہ سمجھتے ۔جو دانشور اور رہنما آج عوام کو قومی مفاد کا سبق پڑھا رہے ہیں انہیں دہشت گردوں کے خلاف دو ٹوک موقف لیتے وقت سانپ سونگھ جاتا ہے ،انہیں شہید کہنے والے یہ لوگ آج قومی مفاد کے چیمپئن بنے بیٹھے ہیں ‘ جو قائدین شدت پسندوں کے ترجمانوں کو ’’جپھیاں‘‘ ڈالتے ہیں وہ ہمیں بتا رہے ہیںکہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے ‘واہ ‘لطیفے بازی کا اگر کوئی مقابلہ ہو تو یہ دانشور رنگ برنگی پگڑیوں والے نوجوت سدھو کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *