کیا ایک کنگرو یا ست رنگے طوطے کے لیے آسٹریلیا کا سفر جائز ہے

MHTمستنصر حسین تارڑ

دنیا کے بلند ترین میدان دیوسائی کی جانب سفر کرتے ہوئے میں وسوسوں کا شکار تھا۔ کیا صرف ایک بادل کے لیے، ایک پھول کے لیے اور ایک ریچھ کے لیے دیوسائی کے مرگ آور موسموں کی جانب سفر کرنا جائز ہے کہ دیو سائی جو تقریباً چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے وہاں آسمان قریب آجاتا ہے اور اس پر جو بادل تیرتے ہیں وہ عجیب طلسم شکلوں کے حیرت بھرے ہوتے ہیں، اُس کی بلندی پر جو پھول کھلتے ہیں اُن کے رنگ انوکھے اور خوابناک ہوتے ہیں اور وہاں بھورے ہمالیاتی ریچھ رہتے ہیں جو برفانی موسموں میں غاروں میں پوشیدہ ہو کر نیند میں چلے جاتے ہیں تو کیا ایک بادل، ایک پھول کے لیے اور ایک ریچھ کے لیے اتنی کٹھن مسافتیں طے کرنا جائز ہے۔۔۔ اور بعد میں آشکار ہوا کہ جب تک میں نے دیو سائی کے بادل، پھول اور ریچھ نہ دیکھے تھے میں نے گویا دنیا میں کچھ نہ دیکھا تھا، میں نامکمل تھا اور مجھے ایک بادل ، پھول اور ریچھ نے مکمل کر دیا۔
اور اب ایک مدت کے بعد میں پھر اسی نوعیت کے وسوسوں کا شکار تھا۔ کیا ایک کنگرو، ایک کورلا ریچھ، ایک ست رنگے طوطے، ایک بادیانی کشتی کی شکل کا آپرا ہاؤس اور صحراؤں میں پڑی دنیا کی سب سے بڑی چٹان اَلورو دیکھنے کے لیے ایک اجنبی براعظم کی جانب پرواز کرنا جائز ہے۔۔۔ آسٹریلیا تک کا تھکا دینے والا طویل ہوائی سفر جائز ہے۔
جی ہاں، میں بالآخر آسٹریلیا کا مسافر تھا۔ میں نے یورپ بہت دیکھا، امریکہ بھی کچھ دیکھ لیا، افریقہ کو صر ف چھوا اور ایشیا کا تو میں باشندہ تھا اور یہ صرف آسٹریلیا تھا جہاں میرے قدم آج تک نہ پہنچے تھے۔ اور سچ پوچھئے مجھے کچھ اتنی خواہش بھی نہ تھی آسٹریلیا دیکھنے کی۔۔۔ کون جائے لاہور کی گلیاں چھوڑ کر۔۔۔ لیکن وہاں سڈنی میں کوئی کوچۂ ثقافت نام کی ادبی تنظیم تھی اور یہ کوچہ کسی جاوید نظر نے آباد کر رکھا تھا اور وہ مجھے دن رات فون کرتے تھے کہ پلیز ہمارے کوچے میں چلے آئیے۔۔۔ اور اُن کے لہجے میں محبت کے رچاؤ کے سوا اور کچھ نہ تھا۔۔۔ اور یوں بھی آسٹریلیا میں میرے دلدار رہتے تھے، بے وفا سہی پر رہتے تھے، انگلستان کے زمانوں کا میرا دوست سکھدیپ سنگھ رَنگی رہتا تھا، میری کوہ نو ردیوں کا نوجوان برخور دار ساتھی سلمان رہتا تھا۔ چنانچہ میں مائل ہو گیا۔ آسٹریلوی ویزے کے لیے قدرے خجل خواری ہوئی بلکہ 75برس کا ہو جانے کی پاداش میں میرا میڈیکل ٹیسٹ ہوا اور اس ٹیسٹ کی انچارج لیڈی ڈاکٹرز نے بجائے اس کے کہ وہ مجھے ٹھوک بجا کر دیکھتے، میرے ساتھ تصویریں اتروانے اور کتابوں پر آٹوگراف لینے میں زیادہ دلچسپی رکھتی تھیں، اچھی خوش شکل بچیاں تھیں، ٹھوک بجا کر دیکھ لیتیں تو اچھا تھا۔
میمونہ جو میری اہلیہ ہوا کرتی ہیں، میرے ہمراہ تھیں۔۔۔ جب سے میں بے ضرر ہوا تھا میں غیر ملکی دعوتوں کے جواب میں میمونہ کو بھی ہم رکاب کر لیتا تھا۔
بینگ کاک یا بنگاک ایئر پورٹ عجیب وحشت کی بھول بھلیاں تھا۔ اور تب میں نے اپنی پی آئی اے کو بہت یاد کیا۔۔۔ یہ تھائی ایئر لائن کسی شمار میں نہ تھی، تھائی لینڈ جو اپنے ’’تھائیز‘‘ کی فروخت سے متمول ہو گیا تھا کیا دونمبر ملک تھا پاکستان کے مقابلے میں۔ اور آج ہم پاکستانی دربدر ہوتے پھرتے تھے کہ بیشتر اداروں کی مانند ہم نے۔۔۔ گریٹ ٹو فلائی وِد۔۔۔ پی آئی اے کو بھی نوچ کھایا۔۔۔ اس کے جہاز ناکارہ ہو گئے۔ متعدد ملکوں نے اس کے جہازوں کو لینڈ کرنے کی اجازت منسوخ کر دی کہ ہم تو ملک میں اسلام نافذ کرنے کے در پے تھے اور سیاست دان، صحافی، سرمایہ دار، دفاعی ادارے اور دانشور اس ملک کی بوٹیاں نوچ رہے تھے۔ بہر طور یقین کیجیے اس زوال میں بھی پی آئی اے کی سروس بہترین ہے، عملہ مدد گار ہے اور پھر یقین کیجیے کہ تھائی ایئر لائن سے کہیں بہتر ہے۔
سڈنی تک کی طویل پرواز کے دوران ہم ایک تقریباً ویران جہاز میں ٹانگیں پسارے استراحت فرماتے رہے۔۔۔ ناریل کے تیل سے تیار کردہ کھانے ہماری جان کا عذاب اور معدے کا امتحان تھے۔۔۔ میں اتنا بیزار ہو چکا تھا، تھک چکا تھا کہ جب کوئی پاکستانی مسافر مجھے پہچان کرپوچھتا ’’تارڑ صاحب آپ آسٹریلیا جا رہے ہیں؟‘‘ تو میں کہتا کہ ۔۔۔ نہیں میں تو ٹمبکٹو جا رہا ہوں۔۔۔ آپ کہاں جا رہے ہیں۔
سڈنی ایئر پورٹ کے عملے نے ہم سے نہ سوال کیے نہ اعتراض کیے، لمحوں میں فارغ کر دیا۔ ہم اپنا سامان دھکیلتے باہر آئے تو بارش ہو رہی تھی۔۔۔ اور اس بارش میں بھیگتے ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سفید ریش حضرت، لمبے کرتے اور گھٹنوں سے اوپر کے پاجامے میں، اور اُن کے ہمراہ کچھ خواتین بھی ہیں جو حجاب میں ہیں اور اسی نوعیت کے شرعی نوعیت کے کچھ لوگ ہماری جانب لپکتے چلے آ رہے ہیں۔
’’مونا۔۔۔‘‘ میں نے ہراساں ہو کر کہا ’’یہ ہم سڈنی میں آئے ہیں یا رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں چلے آئے ہیں۔۔۔ فرار نہ ہو جائیں؟‘‘
اس سے پیشتر کہ ہم فرار ہوتے ان خواتین اور حضرات نے ہمیں دبوچ لیا۔۔۔ چنانچہ یہ جاوید نظر تھے۔۔۔ کہتے ہیں کہ متشرع ہونے کا آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ آپ بڑے بھائی کا کرتا پہن لیں اور چھوٹے بھائی کی شلوار زیب تن کر لیں۔۔۔ جاوید کے بھائیوں میں ’’مونتاژ‘‘ ایسے ادبی جریدے کے مدیر اقبال نظر تھے اور مصور اور مجسمہ ساز انجم ایاز تھے۔۔۔ جانے جاوید نے کس کی شلوار اور کس کا کرتا پہن رکھا تھا۔
جاوید کے ہاں کھانے کا اہتمام تھا اور پھر ریحان علوی جو آئی ٹی انجینئر ہیں اور ریڈیو کے معروف براڈ کاسٹر ہیں ہمیں اپنی بیگم درخشاں کے ہمراہ اپنے گھر لے گئے، بے شک ان دونوں میاں بیوی کے دل میں ہمارے لیے بہت جگہ تھی لیکن وہ کمرہ نما جس میں ہمیں ٹھہرایا گیا، قدرے مختصر تھا، ڈبل بیڈ پر پہلے میمونہ لنگر انداز ہوئی اور اس کے بعد میں دراز ہوا۔ قدرے مختصر تھا۔۔۔ بعض اوقات انسان کا دل چاہتا ہے کہ دل میں بے شک جگہ کم ہو لیکن کمرے میں جگہ ذرا زیادہ ہو۔۔۔ اور پھر واش روم بھی کمرے کے باہر واقع ہوا کرتا تھا۔ اور اس عمر میں واش روم کی قربت بے حد عزیز ہوا کرتی ہے۔
صبح سویرے درخشاں ایک معصوم سادہ روح ہمارے ناشتے کے انتظامات میں بھاگتی پھرتی تھی، باؤلی ہوئی جاتی تھی۔
اور باہر ایک سویر تھی، آسٹریلیا میں ہماری پہلی سویر تھی اور دور کہیں سے طوطوں کے چہکنے کی آوازیں آتی تھیں۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *