شاعرات کی نظموں میں جدید عورت کا تصوّر

naheed virk

پاکستان کے تاریخی، سیاسی اور قومی شعور میں خواتین اہلِ قلم کی شاعری نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ شاعری نہ صرف تحریکِ نسواں کی ترقی پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ مُلک کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی تفصیلی تنقید فراہم کرتی ہے۔

عصرِ حاضر میں بیشتر خواتین شاعرات کی نظم روایت سے ہٹ کر اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنے اندر سمو چکی ہے جو بنیادی طور پر زندگی کی سچائیوں کی تلاش ہے ـ خواتین شاعرات نے بحیثیت عورت اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کی طرف بہت توجہ کی ہے اور اپنے تانیثی تجربے، مشاہدے اور احتجاج کو اپنی آزاد نظم کا حصہ بنایا ہےـ خواتین کی آزاد نظموں میں لفظوں کی حُسن کاری کی بجائے عصری احساسات بغیر کسی لفظی تصنع کے بے باکی سے بیان کئے گئے ہیں ـ آزاد نظم لکھنے والی شاعرات نے اپنے احساس کے اظہار کیلئے علامات اور استعارے اپنے گردوپیش سے لئے ہیں جن سے بحیثیت عورت اس کو واسطہ رہتا ہے ـ

اُردو ادب کی معروف و ممتاز شاعرات میں سے چند اہم نام زہرہ نگاہ، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، سارہ شگفتہ، شبنم شکیل، ثمینہ راجہ، نسرین انجم بھٹی اور پروین شاکر کے شمار ہوتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں پاکستان اور بیرونِ ممالک میں پاکستانی نژاد اردو کی جو شاعرات نمایاں مقام رکھتی ہیں اُن میں فاطمہ حسن، نوشی گیلانی، حمیدہ شاہین، نسیم سید، شاہین مفتی، عشرت آفرین، حمیرا رحمان، شاہدہ حسن، مونا شہاب،عارفہ شہزاد، ثروت زہرہ، صبیحہ صبا، یاسمین حمید، ناہید ورک، شاہدہ حسن، گلناز کوثر اور الماس شبی کے ہیں، ان شاعرات نے معاشرے میں خواتین کے اہم مسائل کو واضح کرنے کےلے شاعری کو بطور آلہ استعمال کیا ہے۔ جن کا دوسری صورت میں کُھل کر اظہار کرنا شاید ممکن نہ ہوتا۔

ہماری سینئر شاعرات کی شاعری کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے اور لکھا جا چکا ہے۔ میں اختصار سے کام لیتے ہوئے عہدِ حاضر کی چند معروف شاعرات کی نظمیہ شاعری پر بات کروں گی اور نمونے کے طور پر ان شاعرات کی مختصر نظمیہ تخلیقات پیش کروں گی۔

zuhra nigar

زہرہ نگاہ

طاقتور سماجی اور سیاسی تبصروں کے لیے نسائی منظر کشی اور محاوروں کا استعمال ان کے ہاں بکثرت ملتا ہے۔ یہ نسائی شاعری یا حقوقِ نسواں کی علمبردار شاعرہ کا لیبل چسپاں کیے بغیر ایک عام عورت کی زبان میں بات کرتی ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف معاشرے میں موجود سنگین مسائل کا احاطہ کرتی ہے بلکہ یہ روز مرہ زندگی کے دکھ سکھ ، محبت اور دوستی کی پیچیدگیوں کو بھی نہایت سُلجھے ہوئے انداز میں پروجیکٹ کرتی ہیں۔ ایک خاتون اور ایک شاعرہ ہونے کے ناطے ان کے ایک ایک لفظ میں سمجھوتوں اور مجبوریوں کی داستان رقم ہے۔ ان کی نظم "سمجھوتہ" ایک ایسی ہی نظم ہے جس میں سمجھوتوں کی کئی منزلیں طے کرنے کے بعد ایک سادہ پُرسکون مسکان چہرے پر آتی ہے، ایسے سمجھوتے جو ہر عورت کو نا چاہتے ہوئے بھی کرنے پڑتے ہیں۔

سمجھوتہ

ملائم گرم سمجھوتے کی چادر

یہ چادر میں نے برسوں میں بُنی ہے

کہیں بھی سچ کے گُل بوٹے نہیں ہیں

کسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے

اسی سے میں بھی تن ڈھک لوں گی اپنا

اسی سے تم بھی آسودہ رہو گے

نہ خوش ہو گے، نہ پسمردہ ہوگے۔

fehmida riaz

فہمیدہ ریاض

یہ ایسی شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں جن کے ہاں غیر روایتی تخیلات، غیرروایتی اسلوب اور احساسات شامل ہیں۔ ان کی شاعری میں سماجی شعور کے ساتھ ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کا نچوڑ بھی ہے۔ سماجی بے حسی، عصری کرب، اور احساسِ تنہائی جیسے عوامل ان کی شاعری کی پزیرائی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مضامین اگرچہ غیر روایتی ہیں مگر ان کی سوچ قاری کو ایک دعوتِ فکر بھی دیتی ہے۔ ان کے ہاں جہاں احساسِ اپنائیت ملتا ہے وہیں ایک احساسِ اجنبیت بھی جلوہ افروز ہے جو عصری مزاج کی غمازی کرتا ہے۔ فہمیدہ ریاض اپنی شاعری کے ذریعے اُس نئی قوم کا خواب دیکھتی ہے جو منافقت اور ہٹ دھرم معاشرے سے بالاتر ہے جس نے معاشرے میں عورت کی حیثیت کو جکڑ رکھا ہے۔ فہمیدہ ریاض کے پہلے شعری مجموعے پتھر کی زبان نے اردو نظم کے قاری کو چونکا دیا،ان کی شاعری میں پہلی بار کسی عورت نے اپنی جسمانی ضرورتوں کا اظہار کیا ۔ ایک ایسے معاشرے میں،جہاں عورت کو ملکیت تصور کیا جاتا ہو اور اس کے انسانی جزبات کو نظر انداز کیا جاتا ہو،یہ آواز مبارزت طلب محسوس ہوئی۔  ان کی نظم

چادر اور چاردیواری کو آپ کے سامنے لاتی ہوں۔  یہ نظم وہ نوحہ ہے جس کی تفسیر خود یہی نظم ہے۔

چادر اور چار دیواری

حضور میں سیاہ چادر کا کیا کروں گی

یہ آپ مجھ کو کیوں بخشتے ہیں، بصد عنایت!

نہ سوگ میں ہوں کہ اس کو اوڑھوں

غم و الم خلق کو دکھاؤں

نہ روگ میں ہوں میں کہ اس کی تاریکیوں میں خفت سے ڈوب جاؤں

نہ میں گنہگار ہوں نہ مجرم

کہ اس سیاہی کی مُہر اپنی جبیں پہ ہر حال میں لگاؤں

اگر نہ گستاخ مجھ کو سمجھیں

اگر میں جان کی امان پاؤں

تو دست بستہ کروں گزارش

کہ بندہ پرور

حضور کے حجرہ معطر میں ایک لاشہ پڑا ہُوا ہے

نہ جانے کب کا گلا سڑا ہے

یہ آپ سے رحم چاہتا ہے

حضور اتنا کرم تو کیجئے

سیاہ چادر مجھے نہ دیجئے

سیاہ چادر سے اپنے حجرے کئ بے کفن لاش ڈھانپ دیجئے

کہ اس سے پھوٹی ہے جو عفونت

وہ کوچے کوچے میں ہانپتی ہے

وہ سر پٹکتی ہے چوکھٹوں پر

برہنگی اپنی ڈھانپتی ہے

سنیں ذرا دلخراش چیخیں

بنا رہی ہیں عجب ہیولے

جو چادروں میں بھی ہیں برہنہ

یہ کوں ہیں جانتے تو ہوں گے

حضور پہچانتے تو ہوں گے!

یہ لونڈیاں ہیں

کہ یرغمالی حلال شب بھر رہیں

دمِ صبح دربدر ہیں

یہ باندیاں ہیں

حضور کے نطفئہ مبارک کے نصف ورثے سے معتبر ہیں

یہ بیبیاں ہیں

کہ زوجگی کا خراج دینے

قطار اندر قطار بارکی منتظر ہیں

یہ بچیاں ہیں

کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دستِ شفقت

تو کم سنی کے لہو سے ریش سپید رنگین ہو گئی ہے

حضور کے حجلہِ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے

پڑا ہُوا ہے جہاں یہ لاشہ

طویل صدیوں سے قتلِ انسانیت کا یہ خوں چکاں تماشا

اب اس تماشے کو ختم کیجئے

حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے

سیاہ چادر تو بن چکی ہے میری، نہیں آپ کی ضرورت

کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشانِ شہوت

حیات کی شاہرہ پر جگمگا رہی ہے میری ذہانت

زمیں کے رُخ پر جو ہے پسینہ تو جھلماتی ہے میری محنت

یہ چار دیواریاں، یہ چادر، گلی سڑی لاش کو مبارک

کُھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ

میں آدمِ نو کی ہم سفر ہوں

کہ جس نے جیتی مری بھروسہ بھری رفاقت!

yasmeen hameed

یاسمین حمید

عورت اگر تخلیق کار ہو تو وہ اپنی ذات کے اظہار سے پردہ پوشی اختیار نہیں کر سکتی ، اس سلسلے میں یاسمین حمید کے ہاں ان کی نظمیں، فیمنسٹ،وہ روٹی،آخری معجزہ،وہ ایک ماں ہے،چراغوں والی،اور ابھی میں

جاگتی ہوں ،جیسی مثالیں موجود ہیں۔

سب کہ رہے ہیں

گیدڑ کے منہ کو خون لگ گیا ہے

اور چڑیا کی بھوک مر گئی ہے

گوشت خوروں نے سب چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے

یک طرفہ جنگ کتنی دیر لڑی جاتی ہے

ایک عورت روز صبح جلوس نکالتی ہے

اور شام کو گیدڑ کو سونگھتی چو پایہ بن جاتی ہے

ایک عورت دن بھر ہیروں کا برادہ پھانکتی ہے

اور رات کو بھوکی سو جاتی ہے

یاسمین حمید نے اس نظم میں علامتی انداز میں عورت کا استحصال پیش کیا ہے ، وہ لفظی تصویر کشی کے ذریعے اپنی تخلیق کردہ فضا اور منظر کو قاری کے سامنے اس طرح پیش کرتی ہیں کہ علامت اپنا پورا ابلاغ کرتی ہے۔

noshi gillani

نوشی گیلانی

ان کی نظموں میں تتلیاں، پھول اور جگنو کی روشنیاں بکھری ہوئی ہیں مگر ان کی پسندیدہ علامت "ہوا" ٹھہری ہے ۔ یہ ہوا کو اپنی ذات اور جبر و تشدّد کے استعارے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہ اپنی نظم اختیار میں ہوا کو آمریت کے خدوخال دے کر کہتی ہیں کہ:

ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے

اب اس کی مرضی

کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے

بہار کو انتظار لکھ دے

شجر کو بے سایہ دار لکھ دے

شبوں کو بااختیار کر کے سحر کو بے اعتبار لکھ دے

ہوا کو لکھنا سکھناے والو

ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے۔

نوشی اپنی ایک نظم یہ قیدی سانس لیتا ہے میں نمائندگانِ ظلم و جبر سے مخاطب ہو کر کہتی ہے کہ

تم مرے پر باندھ کر اُڑنے کا کہتے ہو

اورمری پلکوں کو سی کر

موسموں کو جاننے پہچاننے کی شرط رکھتے ہو

اور مرے افکار کے دریاوں کو

صحراوں کا قیدی بناتے ہو

مگر سُن لو کوئی موسم ہو حبس و جبر کا،

صحرا کا، جنگل کا

یہ قیدی سانس لیتا ہے۔

kishwar naheed

کشور ناہید

ان کی شاعری پاکستان میں خواتین کے قانونی حقوق کی علمبردار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ آزادیِ نسواں کی نہ صرف بہت بڑی حامی ہیں بلکہ اپنے اس عقیدے کے لیے اپنی شاعری کو ایک مضبوط آواز کے طور پر بھی استعمال کرتی ہیں۔ یہ اپنی شاعری اور کالمز میں معاشرے میں ناسور کی مانند پھیلے سماجی مسائل بڑی دیدہ دلیری سے بیان کرتی ہیں۔

خواب میں سفر

زمیں بدلی

فَضا کا ذائقہ بدلا مگر چہرہ نہیں بدلا

یہ عورت میرا چہرہ ہے

یہ عورت

دُھوپ سے جلتے ہُوئے آنگن میں میرے ساتھ کھیلی ہے

یہ عورت

غم کی بارِش میں نہائی

عُمر کی ساری لکیریں پہن کے بھی مسکرائی

اور اپنے دُکھ ہَواؤں کو سُناتی

سب میں خُوشیاں بانٹتی شب نَم سی لگتی ہے

مجھے معلوم ہے

اِس کی سہیلی اس کے گھر کی ایک کھڑکی ہے

جہاں وہ اپنی گُزری عُمر کی ساری مہَک

ساری ملاقاتیں سنبھالے ہے

وہ ساری سِلوٹیں جو عُمر نے چہرے پَہ لِکّھی ہیں

وہ اُس کھڑکی میں جا کے

سب کی سب تحلیل ہوتی ہے

نِکھر آتی ہے وہ لڑکی

کہ جس نے آرزُو کے موتیوں کا ہار پہنا ہے۔

perveen shakir

پروین شاکر

ان کا شمار ہمارے عہد کی معتبر ترین اردو شاعرات میں ہوتا ہے۔ ان کے فن کے متعلق بے شمار خیالات کا اظہار کیا جا چکا ہے اور کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ اگرچہ ان کی شاعری کو ہمیشہ احساسِ محبت کے آئینے میں دیکھا گیا ہے مگر روز مرہ کی زندگی میں عورت جس دکھ سکھ کو جیتی ہے وہ ان کی نظموں میں بہت سادگی سے اپنا احساس دلاتا ہے۔ ان کی نظم ٹماٹو کیچپ ایک ایسی نظم ہے جس میں ایک ایسی عورت کو پروجیکٹ کیا گیا ہے جسے معاشرے میں اپنی شناخت، اور اپنے وجود کو تسلیم کروانے کے لیے بیک وقت کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور اس کو اپنے ہاتھ میں قلم تھامنے کی قیمت کس طرح چکانی پڑتی ہے، آئیے یہ نظم سُن کر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ قیمت کیا ہے۔

ٹماٹو کیچپ

ہمارے ہاں

شعر کہنے والی عورت کا شمار عجائبات میں ہوتا ہے

ہر مرد خود کو اس کا مخاطب سمجھتا ہے

اور چونکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا

اس لئے اس کا دشمن ہو جاتا ہے

سارا نے ان معنوں میں

دشمن کم بنائے

اس لئے کہ وہ وضاحتیں دینے میں

یقین نہیں رکھتی تھی

وہ ادیب کی جورہ بننے سے قبل ہی

سب کی بھابھی بن چکی تھی

ایک سے ایک گئے گزرے لکھنے والے کا دعوی تھا

کہ وہ اس کے ساتھ سو چکی ہے

صبح سے شام تک

شہر بھر کے بے روزگار ادیب

اس پر بھنبھناتے رہتے

جو کام کاج سے لگے ہوئے تھے

وہ بھی

سڑی بسی فائلوں اور بوسیدہ بیویوں سے اوب کر

ادھر ہی آتے۔

سارا دن ساری شام

اور رات کے کچھ حصے تک

ادب اور فلسفے پر دھواں دھار گفتگو ہوتی

بھوک لگتی تو

چندہ وندہ کر کے

نکڑ کے ہوٹل سے روٹی چھولے آجاتے۔

عظیم دانشور

اس سے چائے کی فرمائش کرتے ہوئے کہتے

تم پاکستان کی امرتا پریتم ہو

بےوقوف لڑکی

سچ سمجھ لیتی

شاید اس لئے بھی

کہ ان کے نان ونفقہ کے ذمہ دار تو اسے ہمیشہ

کافکا کی کافی پلاتے

اور نرودا کے بسکٹ کھلاتے رہتے۔

اس رال میں لتھڑ ے ہوئے

compliment

کے بہانے

اسے روٹی تو ملتی رہی

لکین کب تک

ایک نہ اک دن تو اسے بھیڑیوں کے چنگل سے نکلنا ہی تھا

سارا نے جنگل ہی چھوڑ دیا۔

جب تک وہ زندہ رہی

ادب کے رسیا اسے بھنبھوڑتے رہے

ان کی محفلوں میں اس کا نام

اب بھی لذیذ سمجھا جاتا ہے

بس یہ کہ اب وہ اس پر دانت نہیں گاڑ سکتے

مرنے کے بعد انہوں نے

اسے ٹماٹو کیچپ کا درجہ دے دیا ہے۔

hameeda shaheen

حمیدہ شاہین

حمیدہ شاہین کی نظموں میں ایک حیران کن سرّیت کے تاثر کی موجودگی انھیں حقیقت پسندی کی عامیانہ سطح سے اوپر اٹھاتی ہے ۔ وہ ایک ساتھ اپنی ہستی کے دو دائروں مین گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ پہلا دائرہ سماجی اساس رکھتا ہے اور دوسرا دائرہ روز مرہ زندگی کی سچائیوں کا احاظہ کرتا ہے۔  ان کی شاعری وہ آئینہ ہے جس میں ہمارے معاشرے کی ہر عورت کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔  آئیے ان کی نظم اک بے دھیانی  میں اپنا عکس دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اک بے دھیانی

میں ٹھنڈے توے کی روٹی ہوں

مجھے بے دھیانی میں ڈالا گیا

مجھے بے دردی سے پلٹا گیا

مرے کتنے ٹکڑے اکھڑ گئے

میں ٹھیک سے سینکی جا نہ سکی

میں کسی چنگیر میں آ نہ سکی

مرا پسنا، گندھنا اور جلنا بے کار گیا،

میں ہار گئی

اک بے دھیانی مجھے مار گئی

اس نظم کا حسن اس کی بُنت میں ہےجو قاری کو اپنے ساتھ لیے قدم بہ قدم آگے بڑھتی ہے ٹھنڈے توے سے لے کر چنگیر میں پہنچنے تک کے استعاراتی سفر کے سارے پڑاؤ کمال چابک دستی سے رقم کیے گئے ہیں۔

naseem syed

نسیم سید

نسیم سید کے بارے میں ڈاکٹر فرمان فتح پوری کہتے ہیں کہ

نسیم سید فکر کی سطح پر، جذ بہ کی سطح پر، الفا ظ کی نشست و بر خا ست کی سطح پر اور شا عری میں تا زہ رحجا نا ت کی سطح پر یو ں اٹل اور پو رے قد کے سا تھ کھڑی ہے کہ سر اٹھا کے اسے دیکھنے اور سرا ہنے کے علا وہ کو ئی چا رہ نہیں- اس نے قا فیہ پیما ئی سے گر یز کر کے معنی آ فر یرنی کو اپنا شعا ر بنا یا – شعبدہ با زی کے بجا ئے مشا ہدے پر بھر و سہ کیا – اسکے یہا ں حقا ئق کے بیا ن میں جس کما ل کی د لیری ، جو تہہ دا ری و معنی آ فر ینی ہے ، جو حسن بیا ن ہے اس سے سر سری گزر نا ممکن نہیں- وہ نظم کی ایک قد آ ور اور با کما ل شا عرہ ہے – اس کی نظمیں رشتئہ ضرورت، بدن کی اپنی شریعتیں ہیں، تقیـہ ، میرے فنکا ر، آدھی گواہی، نسوا نی شعو ر کے ارتقا کی بے مثا ل اور نمائندہ نظمیں ہیں نمونے کے طور پر ان کی نظم بدن کی اپنی شریعتیں ہیں پیش کرتی ہوں:

بد ن کی اپنی شر یعتیں ہیں

قبو ل و ایجا ب کی شر یعت د ر ست.....

لیکن بد ن کی اپنی شر یعتیں ہیں

حقیقتیں ہیں

سوا ل ہیں اپنے فیصلے ہیں-

تو فر ض جیسی عبا د تو ں سی محبتو ں

اور حفظ.... جیسی تلا و تو ں سی..... لگا و ٹو ں سے

نہ کھلنے وا لی گر ہ کے انکا ر کو سمجھتے

جو گھپ اند ھیر و ں میں

لمس کی گہر ی خا مشی میں

بد ن کی تکرا ر سی ہے

کو ئی اس ایک تکرا ر کو سمجھتے

یہ خوا ب گا ہو ں میں

فر ض آ د ا ب زو جیت کی ترا زوئو ں میں

جو تل رہا ہے

اس ایک سو دے کو ا یک با زا ر کو سمجھتے

جو آ جتک کچھ سمجھ نہ پا ئے

وہ حر ف اقرا ر کی تہو ں میں

اتر کے تفصیل حا شیہ میں

قرا رکر تے حقیقتوں کے ورق الٹتے

بد ن کی اپنی شر یعتو ں کے رمو ز و ا سرا ر کو سمجھتے..۔

یہ نظم ایجاب و قبول کی کہنہ، بوسیدہ اور صدیوں پرانا زنگ کھائی ہوئی رسوم و رواج کے کھنڈر پر کھڑی ہوکر علی الاعلان علم بغاوت بلند کرتی ہوئی شمار کی جاتی ہے۔

gulnaz kausar

گلناز کوثر

ان کی نظمیہ شاعری کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے قبل ان کی نظم قیدی چڑیاں پڑھتے ہیں۔

قیدی چڑیاں

سائیکل کے پیچھے

اک پنجرے میں چکراتی

نازک چڑیو

صبح کے گم صم سناٹے میں

کیسا شور اٹھاتی ہو

اونگھتے اور ٹھٹھرتے

رہ گیروں کے دل میں

چیخ چیخ کر

برسوں سے سوئے سمٹے

اک درد کا تار ہلاتی ہو

چڑیو ایسے ہمک ہمک کر

غل کرتی تو ہو پر دیکھو

ان کانوں میں

لووں تلک سیسہ بہتا ہے

اور پلکوں کے پیچھے پتھر

اور قدموں کے نیچے تختے

ہر دم ڈولتے رہتے ہیں

تم تو پنجرے میں بھی اپنے

پر پھیلائے رکھتی ہو

تم اچھی ہو

کم سے کم اک ہوک اٹھائے رکھتی ہو۔

قیدی چڑیاں نامی یہ نظم علاماتی طور پر فرد کی تخلیقی بے بسی اور گھٹن کا اظہار ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر اُس عظیم المیے کی نشاندہی بھی کرتی ہے جو آج کے انسان کو اس موجودہ عہد میں درپیش ہے۔ یہ نظم ایک طرح سے دورِ غلامی یاد کراتی ہے اور یہ وہی دور ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں، جہاں سماجی حبس اور آواز پابندِ سلاسل ہے۔ اپنی اس محرومی کو دیکھ کر شاعرہ کو قیدی چڑیاں اچھی لگتی ہیں کہ وہ اپنا اظہار تو کر سکتی ہیں۔

ناہیدؔ ورک

naheed virk.

آخر میں بنا کسی تبصرے کے، اپنی ایک نظم:

گیلی چپ

بے رنگ صبح کے کٹورے

بے معنی چُپ سے بھرے ہیں

تنہائی کے دائروں سے جھانکتی

وصل کے گماں سے عاری

گیلی چُپ کے کٹوروں میں

اوندھی پڑی، تیرتی نمی

ہونٹوں سے چُننے والا کوئی نہیں

سُرمئی مناظر کی آنکھیں

گلابی صبح کے اُجالے کو ترستی ہیں

نادیدہ خوابوں کے مُردہ پر

بوجھل آنکھوں کی پُتلیوں سے چمٹے ہیں

اُجالوں کی آہٹیں

سماعتوں پر اُتریں بھی

مگر صبح کا آئینہ

گیلی چُپ کے کُہرے سے اٹا ہے

سورج کی حدت پی کر بھی

اُجالا دھندلکوں میں گِھرا ہے

نادیدہ وجود کا آسیب

گیلی چُپ کا سایہ

روح کی خستہ دیواروں سے چمٹا ہے

اور فرار ممکن ہی نہیں۔

(اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی اردو کانفرنس 2014مارچ میں پڑھا گیا مکالہ)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *