لیلیٰ مجنوں کی اصل کہانی

images (2)

لیلیٰ مجنوں کا قصہ کیا تھا۔یہ ایک عربی داستان ہے۔اس کے کرداروں کو تاريخی طور پر ثابت مانا جاتا ھے۔لیلیٰ مجنوں دو حقیقی عاشق تھے ۔صدیوں تک اس میں بہت کچھ افسانہ طرازی کی گئی۔عربی سے فارسی میں اس کو پہلے پہل "رودکی" نے منتقل کیا۔اس کے بعد نظامی گنجوی نے اس کو فارسی میں لکھا۔اب تک ہزار سے زاہد مرتبہ اس داستان کو مختلف زبانوں میں، مختلف لوگ نثر و نظم میں لکھ چکے ہیں۔سب سے زیادہ مقبولیت و اہمیت نظامی گنجوی کیمجنوں کا اصل نام ، قیس ابن الملوح ابن مزاحم ہے۔مجنوں لغوی طور پر پاگل، دیوانے اور عاشق کو کہتے ہیں۔لیلیٰ کا نام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیا جاتا ہے۔عربی و عبرانی میں لیلیٰ یا لیلہ رات کے لیے بولا جاتا ہے۔عربی میں لیلیٰ مجنوں کی بجائے مجنون لیلیٰ بولا جاتا ہے۔ترکی میں ایک اسم صفت لیلیٰ کی طرح سے مراد محبت کی وجہ سے پاگل، جنونی کے لیے بولا جاتا ہے۔محققین نے لیلیٰ کے عربی لیلیٰ )رات( سے اس کے معنی سانولی رنگت بھی لیا ہے۔کئی مصنفین نے اپنے قصے میں لیلیٰ کو سانولی صورت والی بنا کر پیش کیا ہے۔ مشہور ہے کہ لیلیٰ کالی یعنی سیاہ رنگت والی تھی۔لیکن اگر لیلیٰ کو عربی النسل بیان کیا جاتا ہے تو اس طرح لیلیٰ کا کالا ہونا ایک خلاف واقعہ بات ہوگی۔بچپن میں قیس اور لیلیٰ دونوں اپنے قبیلے کی بکریاں چراتے تھے۔وہ ساتھ بیٹھتے اور آپس میں باتیں کرتے۔ اس دوران انھیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی نظامی گنجوی کے قصے لیلیٰ مجنوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسے میں پڑھنےجاتے تھے،ان میں باہمی الفت پیدا ہوئی۔ مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی، جس پر استاد سے اسے سزا ملتی،مگر استاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پر پڑتی اور درد لیلیٰ کو ہوتا۔استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتائی، جس پرلیلیٰ کے مدرسے جانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گی۔ایک دن پھر مجنوں کی نظر لیلیٰ پر پڑ گی، اور بچن کا عشق تازہ ہو گيا۔ مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا، مگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کردیا۔لیلیٰ کا بھائی تبریزمجنوں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ مکر مجنوں اس کو قتل کر دیتا ہے۔ جس پر مجنوں کوسرے عام محبت کا اظہارکرنے اورلیلی کے بھائی کو مارنے پر سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی۔کچھ کہانیوں میں تبریز کے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ، رشتہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کر دی جاتی ہے۔ جس پر قیس، پاگل سا ہوجاتا ہے۔جامعہ ازہر شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم المصری لکھتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں کی شدید عشق و محبت کی کہانی کوئی فرضی داستان نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر طحہٰ حسین نے خیال ظاہر کیا ہے۔ یہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے جو عرب کے نجد کے علاقے میں رونما ہوا اور لازوال بن گیا۔مجنوں ایک مالدار نجدی قبیلے بنو عامر کے سردار کا بیٹا تھا۔ وہایک گوراچٹا، خوب صورت اور خوش گفتار نوجوان تھا۔ شاعر تھاقیس نے لیلی کے اوپر شاعری کرتے ھوے ایک جگہ لکھا ھے۔ترجمہ۔’’وہ ایک چاند ہے جو ایک سرد رات میں آسمان کے وسط میں چمک رہا ہے، وہ نہایت حسین ہے۔ اس کی آنکھیں اس قدر سیاہ ہیں کہ انھیں سرمے کی ضرورت نہیں۔قیس کے والدیں اپنے خاندان کے ساتھ لیلیٰ کے والد کے پاس گئےاور لیلیٰ کا رشتہ مانگا۔ لیلیٰ کے ماں باپ کو داغ بدنامی گوارا نہ ہوا اور انھوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔اس دوران قبیلہ ثقیف کے ایک نوجوان نے بھی جس کا نام ورد تھا، لیلیٰ کو شادی کا پیغام دیا۔ لیلیٰ کے والدین نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔قیس اس قدر مضطرب ھوا کہ وہ بیمار ہو گیا۔ اس کے والدین نے چاہا کہ وہ اپنے قبیلے کی کسی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کر لے مگر اب قیس لیلیٰ کی محبت میں اتنی دور نگل گیا تھا کہ واپسی ممکن نہ تھی۔رفتہ رفتہ قیس کی حالت ایسی ہو گئی کہ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔لوگوں نے قیس کے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ اسے مکہ لے جائےاور بیت اللہ کی پناہ میں دعا مانگے۔قیس کا باپ الملوح اسے لے کر مکہ گیا اور حرم شریف میں اس سے کہا کہ غلاف کعبہ سے لپٹ کر لیلیٰ اور اس کی محبت سے نجات کی دعا مانگے۔اس کے جواب میں جب قیس نے یہ دعا مانگی کہاے اللہ! مجھے لیلیٰ اور اس کی قربت عطا فرما تو الملوح قیس کو واپس لے آئے۔راستے میں اس نے ایک جگہ پہاڑی پر اپنے آپ کو گرانے کی بھی کوشش کی مگر لوگوں نے پکڑ لیا۔اپنے قبیلے میں واپس پہنچ کر قیس کا باپ ایک بار پھر لیلیٰ کے باپ کے پاس گیا تا کہ اسے لیلیٰ کی اپنے بیٹے سے شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے،مگر پھر انکار ھو گیا۔لیلیٰ کی شادی اس دوسرے لڑکے سے کر دی گئی جس کا پیام آیا تھا۔ لیلیٰ خود بھی قیس کی محبت میں گرفتار تھی مگر خاندان کی نیک نامی اور والدین کی اطاعت سے مجبور تھی۔قیس کو یہ معلوم ہوا کہ لیلیٰ کی شادی ہو گئی ہے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ وہ اپنے وجود کو بھول گیا۔گوشہ نشین ہو گیا اور پھر ایک دن صحرا میں نکل گیا۔لیلیٰ کو آوازیں دیتا، پہاڑوں، درختوں، جنگلی جانوروں سے پوچھتا لیلیٰ کہاں ہے۔اسی حال میں ایک دن اس کی نظر ایک ہرنی پر پڑی۔ وہ اس کے پیچھے ہو لیا اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے گھر والے صحرا میں اسے ڈھونڈتے رہے۔چوتھے دن وہ انھیں ایک پتھریلی وادی میں ریت پر مردہ پڑا ملا.روایات کے مطابق لیلیٰ بھی شاعرہ تھی اور یہی چیز ہے جس نے اس محبت بھرے قصے کو ایک المیہ بنا دیا جس کے لیے دل اور آنکھیں روتے ھیں۔یہ ممکن تھا کہ یہ محبت شادی کے ذریعے ان کے اجتماع پر منتجہوتی اور خوشیوں بھری زندگی انھیں حاصل ہوتی۔مگر تقدیر کے آگے تدبیر کا کہاں بس چلتا ھے۔انسانی عشق کا یہ قصہ عشق الٰہی تک پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔امیر خسرو نے اس واقعہ کہ 1299ع میں کتابی شکل دی اور جامی نے 1484ع میں لیلی مجنوں پر 3860 صفحوں کی کتاب لکھی۔شیرازی جیسے بڑے فارسی شاعر نے اس قصے کو 1520ع میں لکھا۔بلھے شاہؒ فرماتے ھیں۔کیتا سوال میاں مجنوں نوںتیری لیلا رنگ دی کالی اےدتا جواب میاں مجنوں نےتیری انکھ نہ ویکھن والی اےقرآن پاک دے ورق چٹےاتے لکھی سیاہی کالی اےچھڈ وے بلھیا دل دے چھڈیاتے کی گوری تے کی کالی اےخلاصہ ترجمہ۔ کسی نے مجنوں سے کہا تیری لیلی تو رنگ کی کالی ھے۔ مجنوں نے جواب دیا۔ تیری آنکھ دیکھنے والی نھیں۔ قران پاک کے سفید کاغذوں پہ کالی سیاھی سے لکھا ھوا ھے۔دل کے سودے میں کالی اور گوری کوی معنی نھیں رکھتے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *