اسٹریٹ بیوروکریٹس

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

حکومتیں دو قسموں کی ہوتی ہیں، ایک وہ جس کا سربراہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ہوتا ہے اور اس کے ماتحت چیف سیکرٹری ،آئی جی پولیس ،کمشنر ز ،ڈی سی اوز،آر پی اوز ،ڈی پی اوز وغیرہ ہوتے ہیں ۔ایک لمحے کے لئے فرض کر لیں کہ وزیر اعلیٰ صاحب ان تمام افسران کا تقرر شفاف طریقے سے کرتے ہیں ،کوئی سفارش نہیں مانتے ،کسی قسم کے سیاسی دبائو کو خاطر میں نہیں لاتے ،اپنی سیاسی جماعت کے ممبران کے کہنے پر بلاوجہ تبادلہ نہیں کرتے ،اہلیت کی بنیاد پر افسران کا انتخاب کیا جاتا ہے، ان کی کارکردگی کی جانچ کی جاتی ہے ، ناقص کارکردگی پر انہیں عہدوں سے ہٹایا بھی جاتا ہے اور اگرکسی پرکرپشن کا الزام لگ جائے تو اس کی شامت آجاتی ہے ۔یہ بھی فرض کر لیں کہ یہ تمام افسران وزیر اعلیٰ کے وژن کے مطابق عوامی فلاح کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں، اپنی حیثیت کے مطابق ایمانداری اور جانفشانی سے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے میں مگن ہیں اور اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کے براہ راست احکامات بجا لانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے ۔یہ تمام باتیں فرض کرنے کے باوجود بھی، کیا وجہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں ایسی کسی حکومت کا عمومی تاثر اچھا نہیں ہوتا اور عوام حکومت کی کارکردگی سے کم و بیش غیر مطمئن ہی رہتے ہیں ؟ کیا وجہ ہے کہ ایک عام آدمی کی فلاح کے لئے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے ثمرات اس عام آدمی تک یوں نہیں پہنچ پاتے جیسے صوبے کا چیف ایگزیکٹو چاہتا ہے ؟ کیا وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کی حکومت کے ایماندار اور قابل افسران پوری تندہی کے باوجود چیف ایگزیکٹو کی خواہش کے مطابق نچلی سطح تک ڈلیور نہیں کر پاتے اور یوں عوام میں حکومتی کارکردگی کا تاثر اُتنا بہتر نہیں ہو پاتاجتنی اس کے لئے کوشش کی جاتی ہے؟
پاکستان میں دو صوبے حکمرانی کے اس مسئلے کا شکار ہیں،ایک پنجاب اوردوسرا خیبر پختونخواہ۔ان دونوں صوبوں میں حکومتیں کافی حد تک میرٹ پر کام کر رہی ہیں، سفارش اور سیاسی دبائو کو حتی الامکان رد کیا جا رہا ہے ، بیوروکریسی کی میسر کھیپ میں سے افسران بھی نسبتاً ایماندار اور قابل چنے گئے ہیں ( جتنے قابل اور ایماندار پاکستان میں ممکن ہو سکتے ہیں)، حکومتی مشینری خاصی جانفشانی سے کام کر رہی ہے اورکرپشن کا کوئی میگا سکینڈل بھی سامنے نہیں آیا، اس کے باوجود اگر راہ چلتے کسی عام آدمی سے ان حکومتوں کی کارکردگی کی بابت دریافت کیا جائے تو اس کا جوابی تاثر زیادہ خوش کُن نہیں ہوگااور یہ بات ان چیف ایگزیکٹوز کے لئے نہایت تکلیف دہ ہے جو نیک نیتی کے ساتھ عوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں ۔ایسا کیوں ہوتا ہے ،اس کی وجہ خاصی دلچسپ ہے ۔
وزیر اعلیٰ کی حکومت کے علاوہ حکومت کی ایک دوسری قسم بھی ہے ،یہ وہ حکومت ہے جو ڈی سی او ،ڈی پی او ،ایم ڈی یا ڈائریکٹر کے نیچے سے شروع ہوتی ہے ،یہ پٹواری، تحصیلدار ،تھانیدار اور سپرنٹنڈنٹ کی حکومت ہے ‘یہ وہ لوگ ہیں جن سے عام آدمی کا روز انہ براہ راست پالا پڑتا ہے۔ چوری چکاری ‘راہ زنی ‘بدمعاشی یا دھوکہ دہی کے متاثرین کا پہلا رابطہ تھانیدار سے ہوتا ہے ، ا ن کے لئے وہ تھانیدار ہی حکومت کا چہرہ ہے ، وہی وزیر اعلیٰ ہے ،وہی چیف سیکرٹر ی ہے اوروہی آئی جی۔وہ مقدمہ جو ایک عام آدمی کے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہوتا ہے اس کی تفتیش ایک اے ایس آئی کرتا ہے ، اس کی بیٹی کی عزت کسی ایس ایچ او کے رحم و کرم پر ہوتی ہے، اس کی خاندانی زمین کا فیصلہ کسی تحصیلدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے ، نچلی عدالت میںاس کے مقدمے کی ڈورکسی ریڈر نے کھینچنی ہوتی ہے ،اس کے تعفن زدہ علاقے کا گٹر کسی گیارہویں اسکیل کے اہلکار کے غفلت کی وجہ سے کھل نہیں پاتا اور یوں وزیر اعلیٰ کی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود نچلی سطح کی یہ حکومت عوام میں اس کے امیج کا بیڑہ غرق کر دیتی ہے ۔حکومت کے مخالفین اور میڈیا اس چیز کو مزید بڑھاوا دیتے ہیں اور بارہا طنزاً یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اگر حکومت اتنی ہی شفاف اور اہل ہے تو اس کے ثمرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ رہے ! نچلی سطح کی اس حکومت کو اسٹریٹ بیوروکریٹس کہا جاتا ہے ۔
گورننس کے اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟ اس کا کوئی ریڈی میڈ حل تو موجود نہیں البتہ اسٹریٹ بیوروکریٹس کی کارکردگی کوکئی طریقوں سے بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔پہلا طریقہ، بھرتی کے طریقہ کار میں تبدیلی ۔فرض کریں کہ پولیس میں اے ایس آئی کی بھرتیاں کرنی ہیں ،پولیس کا محکمہ اس ضمن میں اشتہار دے گا جس میں کم سے کم اہلیت گریجوایشن رکھی جائے گی ‘چھاتی کا سائز 34انچ مطلوب ہوگا‘امیدوار سے آٹھ منٹ میں ایک میل دوڑنے کی امید رکھی جائے گی اور غالباً نوّے سیکنڈ میں بیس ڈنڈ بیٹھکیں لگانے کی شرط بھی عائد ہوگی۔یہ بھی فرض کر لیں کہ بھرتی کا یہ تمام عمل شفاف طریقے سے ہوگا اور اس ضمن میں کسی قسم کی سفارش نہیں مانی جائے گی ۔کیا اس پورے پراسس کے باوجود جو لوگ بطور تھانیدا ر بھرتی ہو کر تھانے میں تعینات ہوں گے ، تھوڑے ہی عرصے کے بعد ان میں اور موجودہ تھانیداروں میں کیا کوئی فرق باقی رہے گا؟کیا یہ نئی کھیپ بھی اسی طرح ناکارہ نظام کا حصہ بن کر عوام کی لوٹ کھسوٹ نہیں کرے گی ؟ یقیناً یہ نئے لوگ بھی ایسا ہی کریں گے اور اس کی دو وجوہات ہیں ۔ایک وجہ یہ ہے کہ جب اس طرح کی بھرتی کا عمل کیا جاتا ہے تو دو قسم کے افراد نوکری کے لئے درخواست دیتے ہیں‘ایک وہ جو نیک نیتی کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اس نظام کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو نظام عام آدمی کا خون چوس کر ان کی اپنی زندگی کو سہل بنا ئے گا۔دوسری قسم کے لوگ ،اگر بی اے پاس ہوں ‘ان کی چھاتی کا سائز چونتیس ہو اور وہ مطلوبہ ڈنڈ بیٹھکیں لگا سکیں ،تو غالب امکان یہی ہے کہ انہیں بھرتی کر لیا جائے گا ۔ایسے لوگوں کو سسٹم میں داخلے سے روکنا ضروری ہے اور اس کے دو طریقے ہیں،ایک، بھرتی کے نظام میں روایتی انٹرویو اور امتحان کی بجائے ایسا نفسیاتی امتحان لیا جائے جس میں یہ پتہ چل سکے کہ بھرتی ہونے کے بعد تھانیدارصاحب کے ارادے کیا ہیں ،یہ نفسیاتی امتحان وضع کرنا کوئی مشکل کام نہیں ‘دنیا یہ کام کر چکی ہے ۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جس سسٹم میں امیدوار داخل ہونا چاہتا ہے اس سسٹم کو اتنا پرکشش ہی نہ رہنے دیا جائے کہ بد نیت امیدوار بھرتی ہونے کے بعد ’’پیسے پورے‘‘ کرنے کی فکر کرنے لگیں۔یہ مشکل کام ہے مگر نا ممکن نہیں، پولیس ہی کی مثال لیتے ہیں،پہلے مرحلے میں نفسیاتی ٹیسٹ کے بعد امیدواروں کی سکریننگ ہو چکی ‘اب اگر انہیں یہ پتہ چلے کہ بھرتی ہونے کے بعد انہیں کسی تھانے میں تعینات نہیں کیا جائے گابلکہ ایک ایسے’’گورننس سٹیشن‘‘ میں لگایا جائے گا جس کا پرانے فرسودہ نظام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ،اس گورننس سٹیشن کا اپنا ایک نیا کلچر ہوگا ‘ا س کی ملازمت کی شرائط بھی روایتی نہیں ہوںگی بلکہ ناقص کارکردگی کی بنیاد پر اسی طرح ملازمت سے برخواست کیا جائے گا جیسے نجی کمپنیاں کرتی ہیں تو سرکاری ملازمت یا پولیس میں بھرتی کے لئے باقی ماندہ امیدواروں کا ’’تھرل‘‘بھی ختم ہو جائے اور صرف وہی لوگ باقی بچیں گے جو کسی قدر نیک نیتی کے ساتھ کام کا ارادہ رکھتے ہوں گے‘ یہی لوگ نچلی سطح پر حکومت کا چہرہ ہوں گے اور یہی نئے اسٹریٹ بیوروکریٹس ہوں گے ۔یہ گورننس سٹیشن کیسے کام کریں گے اور حکومت ان کا خرچہ کیسے برداشت کرے گی، یہ تفصیل پھر کبھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *