بنگلہ دیش کاحیا باختہ ناٹک

Irfan-Siddiqui

عرفان صدیقی

مجیب الرحمن کی بیٹی کے دل و دماغ میں ایک بھٹی مسلسل دہک رہی ہے۔ پاکستان اور اس سے نسبت رکھنے والی ہر شے اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے۔ بھارت کو وہ اپنا نجات دہندہ خیال کرتی ہے۔ جن دنوں میں ایوان صدر میں جناب محمد رفیق تارڑ کا پریس سکریٹری تھا حسینہ واجد بطور وزیر اعظم پاکستان کے دورے پہ تشریف لائیں۔ صدر سے ان کی ملاقات کے دوران میں بھی موجود تھا۔ اپنی گفتگو میں وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی باہمی تعلقات کے بجائے مسلسل بھارت کی وکالت کرتی رہیں۔ اگر کسی کو تعارف نہ ہو تو ان کی باتیں کلی طور پر بھارتی سفیر کی باتیں لگتی تھیں۔ انہوں نے اپنے دلائل کا زور اس نکتے پہ مرکوز کردیا کہ پاکستان کشمیر کو بھلا کر بھارت کے ساتھ تجارتی، ثقافتی اور اقتصادی روابط قائم کرے، دوستانہ اقدامات کے ذریعے اعتماد بڑھایا جائے پھر انہوں نے لفظوں کا بناؤ سنگھار کرتے ہوئے سمجھانے کی کوشش کی۔ بولیں ”دیکھئے صدر صاحب! آپ کے اور ہمارے استاد بتایا کرتے تھے کہ اگر امتحانی پرچے میں کوئی مشکل سوال ہو تو اسے چھوڑ کر باقی آسان سوال حل کرلئے جائیں۔ صدر تارڑ نے برجستہ جواب دیا ”لیکن وزیر اعظم صاحبہ! اگر سارے آسان سوالوں کے مجموعی نمبر بھی پاس ہونے کے لئے کافی نہ ہوں تو کیا کیا جائے“۔ حسینہ واجد کھسیانی ہنسی ہنس کے رہ گئیں۔ شاید اسی دورے میں جب ان کی ملاقات وزیر اعظم نواز شریف سے ہوئی تو انہوں نے آئی ایس آئی کے خلاف شکایات کا دفتر کھول دیا کہ وہ ہمارے سیاسی مخالفین کی پرورش کررہی ہے۔
حسینہ کے دل میں پاکستان کے حوالے سے ایک بغض زہریلے سانپ کی طرح پھنکارتا رہتا ہے۔ وہ ان علامتوں سے بھی نفرت کرتی ہیں جن کا کسی بھی دور میں پاکستان سے کوئی رشتہ و پیوند رہا۔ جماعت اسلامی ان کا خصوصی ہدف رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بالعموم جماعت کی سیاسی رفاقت خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنل پارٹی سے رہی جو عوامی لیگ کی سب سے بڑی حریف ہے۔ آج کل بھی جماعت اسلامی اپوزیشن کے اس سیاسی اتحاد کا حصہ ہے جس کی قیادت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کر رہی ہے۔ حسینہ جماعت کا یہ قصور معاف کرنے پہ تیار نہیں۔
کئی مسائل میں گھرے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم نے 2010ء میں ایک نام نہاد ٹریبونل قائم کیا جسے جنگی جرائم کے ٹریبونل کا نام دیا گیا۔ اس کا مقصد یہ بتایا گیا کہ ان افراد کو کڑی سزائیں دی جائیں گی جن پر الزام ہے کہ انہوں نے 1971ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد میں پاکستان کا ساتھ دیا اور پاکستانی فوج سے مل کر جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے رہے۔ انصاف کی کارفرمائی کے اس مشن میں پہلا ہدف جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر پروفیسر غلام اعظم ہے۔ جن کی عمر اس وقت 91 سال ہوچکی ہے، جو مختلف النوع بیماریوں میں مبتلا ہیں اور وہیل چیئر کے بغیر چل پھر بھی نہیں سکتے۔ پروفیسر صاحب کو جنگی جرائم کا مرتکب پایا گیا لیکن عدالت نے ان کے بڑھاپے کا خیال کرتے ہوئے انہیں صرف 90 سال قید کی سزا سنائی۔ پروفیسر صاحب کوئی دو سال سے قید میں چلے آ رہے ہیں۔ دوسرا نشانہ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد بنے جنہیں موت کا سزاوار ٹھہرایا گیا ہے۔
بنگلہ دیش میں قائم کیا گیا ٹریبونل ایک مضحکہ خیز تماشے کے سوا کچھ نہیں، انسانی حقوق کے تمام معتبر اداروں نے اسے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔ ٹھوس شواہد کے بغیر صرف من گھڑت بیانات سے کام چلایا جا رہا ہے اور یہ بات طے کرلی گئی ہے کہ جماعت اسلامی کو نشانہ عبرت بنانا ہے۔ حسینہ واجد اسے عوامی مقبولیت کا ایک ہتھیار خیال کرتی ہیں کہ سستے جذبات کو ابھار کر سیاسی مقبولیت حاصل کی جائے۔ بنگلہ دیش کے قیام کو بیالیس سال ہوچکے ہیں۔ اس دوران حسینہ واجد نے متعدد بار انتخابات جیتے اور وزارت عظمیٰ کے منصب پہ فائز رہیں لیکن انہیں جنگی جرائم کے احتساب کا خیال نہیں آیا۔ 2008ء کے انتخابات میں انہوں نے یہ نعرہ لگایا۔ کامیابی کے دو سال بعد انہوں نے یہ نام نہاد ٹریبونل قائم کردیا۔ اب جبکہ انتخابات میں چند ماہ باقی رہ گئے ہیں حکومت کے اشارے پر اس نے انڈے بچے دینا شروع کردیئے ہیں۔
جماعت اسلامی کبھی دہشت گرد تنظیم نہیں رہی ۔ اس نے ہمیشہ سیاسی جدوجہد کا پر امن راستہ اختیار کیا۔ 1970ء کے انتخابات میں بھی اس نے اسی جمہوری عمل کا انتخاب کیا۔ اسے عوامی لیگ کے بعد سب سے زیادہ ووٹ بھی ملے۔ اس کے مطالبات کی نوعیت بھی سراسر سیاسی تھی۔ بہت سی دوسری جماعتوں کی طرح وہ بھی مجیب الرحمن کے چھ نکات کو قومی سا لمیت کے منافی خیال کرتی تھی۔ پوری انتخابی مہم کے دوران اسے عوامی لیگ کے اوباشوں کے پرتشدد حربوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ ڈھاکہ میں مولانا مودودی کا جلسہ الٹ دیا گیا اور وہ تقریر نہ کرسکے۔ جب سیاسی راہیں بند ہوگئیں۔ اسلام آباد کے حکمرانوں نے بندوق کا راستہ پسند کیا اور آپریشن کا آغاز ہوا تو یہ کوئی یکطرفہ یلغار نہ تھی۔ ایسٹ بنگال رجمنٹ بغاوت کرچکی تھی اور مسلح دستے پاک فوج کے خلاف مورچہ بند ہوچکے تھے۔ بھارت کی تربیت یافتہ مکتی باہنی، جدید ہتھیاروں سے لیس میدان میں آچکی تھی۔ پھر وہ موڑ بھی آیا جب بھارتی فوج خود بھی مشرقی پاکستان میں گھس آئی اور باغیوں کے شانہ بہ شانہ ایک بڑی جنگ کی کیفیت پیدا کردی۔ ان حالات میں پاکستان سے محبت کرنے والے بنگالی پاکستانیوں کو دو میں سے ایک راستہ چننا تھا۔ ایک یہ کہ کیا وہ شورش، بغاوت، قتل و غارت گری کی اس یلغار کا حصہ بن جائیں جسے جنگ آزادی کا نام دیا جا رہا تھا اور جو بھارت کی سرپرستی میں لڑی جا رہی تھی یا وہ نتائج سے بے نیاز ہو کر اپنا وزن پاکستان کی وحدت و سالمیت کے پلڑے میں ڈال دیں۔جماعت اسلامی اور بہت سے دیگر محب پاکستان لوگوں نے دوسرا راستہ چنا، تاریخ کا فیصلہ یہ ٹھہرا کہ بغاوت جیت گئی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔
پاکستانی فوج کے تجاوزات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جماعت کی سرپرستی میں قائم الشمس اور البدر دستوں نے بھی حدیں عبور کی ہوں گی لیکن کیا ایسٹ بنگال رجمنٹ اور مکتی باہنی پھول برساتی رہیں۔ جیت اور ہار سے قطع نظر، مکتی باہنی کے جنگی جرائم حد و شمار سے بھی باہر ہیں۔ حسینہ واجد اگر معاملے کو انسان کشی کے حوالے سے دیکھ رہی ہیں تو ان سفاک درندوں کو بھی کٹہرے میں لائیں جو ان کی حکومت کا حصہ ہیں۔
حکومت پاکستان کو یہ معاملہ سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ لاکھوں بہاری آج بھی جو اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں وہ ہمارے لئے شرم کا مقام ہونا چاہئے۔ اب جنگی جرائم کے نام پر جو ناٹک شروع ہوگیا ہے اسے صرف جماعت اسلامی کا مسئلہ قرار دے کر منہ دوسری طرف نہیں پھیر لینا چاہئے۔ جن لوگوں نے بیالیس برس قبل پاکستان کے لئے جانیں لڑائیں، انہیں اگر ہم بچا نہیں سکتے تو کیا ان کے لئے آواز بھی نہیں اٹھا سکتے؟ کیا عالمی اداروں کو اس حیا باختہ ناٹک کی طرف متوجہ بھی نہیں کر سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *