استاد برائے فروخت

jam sajjad hussain

پچھلے دنوں پنجاب اسمبلی کے سامنے پنجاب کے اساتذہ کرام کا ’’دھرنا‘‘مختلف ٹیلی ویثرن چینلز پر دیکھا ۔ اساتذہ کرام نے صوبائی وزارتِ تعلیم کی جانب سے سیکنڈری سکولوں تک کی نج کاری کا عمل پنجاب ایجوکیشن کمیشن (PEC)کے زیر انتظام پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF)کے ہاتھوں جاری و ساری ہے۔ یوں تو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا تصورملک کے سرکاری اداروں میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کی تعداد میں شدید کمی اور طلبہ کے بُرے نتائج کی روشنی میں وجود میں لایا گیا ہے اور جہاں جہاں پیف کے سکول موجود ہیں وہاں طلبہ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح شنید ہے کہ سرکار پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کے تصور کو بھی اجاگر کررہی ہے جس کے تحت ایک ’’سیٹھ ‘‘ ایک تعلیمی ادارہ بناتا ہے ۔ تمام تر اخراجات وہ خود برداشت کرتا ہے ۔ داخلوں اور طلبہ سے من مانی فیسوں میں دس فیصد ریونیو اس یونیورسٹی کو دیتا ہے جس کے ساتھ اس تعلیمی ادارے کا الحاق ہوتا ہے۔ یہ بہترین تصور ہے جس کے ذریعے ایک تو سرکار اپنے سر سے ذمہ داری کا بوجھ ہلکا کردیتی ہے جبکہ دوسری جانب سیٹھ اپنی من مانیاں کرتا ہے اور اپنی مرضی کی فیسیں وصول کرتا ہے۔ اس عمل میں ایک انتہائی خوفناک پہلو کوالٹی آف ایجوکیشن سے دوری ہے۔ سیٹھ اپنی مرضی کے بندے بھرتی کرتا ہے ۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں بھی چونکہ سبھی فرشتے نہیں بیٹھے ہوئے اس لیئے ایسے افراد کی بھرتی پر کسی کی نظر نہیں پڑتی ۔ ایسے اساتذہ بذاتِ خود کوالٹی آف ایجوکیشن سے کوسوں دور ہوتے ہیں ۔ایسے اساتذہ کو نہ تھیوری آتی ہے اور نہ ہی وہ پیشہ ورانہ علم سے بہرہ ور ہوتے ہیں ایسے اساتذہ کی اکثریت یا تو ریٹائرڈ حضرات کی ہوتی ہے جو بڑھاپے میں بچوں پر بوجھ بننے کی بجائے ایسے تعلیمی اداروں کا سہارا بنتے ہیں یا ایسے ادارے ان کا سہارا بنتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کے آفس میں صنفِ نازک کا ہروقت جمگھٹا رہتاہے اور وہ اسی میں خوش رہتے ہیں۔ کلاسز میں کیا ہورہا ہے۔ اس ادارے میں کیا ہورہا ہے؟ اس چیز سے کسی کو غرض نہیں ہوتی۔ پیف کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ پیف نے اپنا مانیٹرنگ سسٹم بنایا ہوا ہے جس نے کچھ مخصوص کلاسز منتخب کی ہوئی ہیں جو صرف انہی کلاسز کی علمی قابلیت کو چیک کرتا ہے اور ہر ماہ طلبہ کے سر گن کر ایک چیک اس سکول کے کرتا دھرتا کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہے۔ یہ موصوف پانچ سے سات ہزار پر استاد رکھتے ہیں اور پڑھے لکھے حضرات اس لیے میسر آجاتے ہیں کیونکہ ملک میں ملازمتوں کے بحران کی وجہ سے نوجوانوں کی کثیر تعداد بے روزگاری کے مرحلے سے گزررہی ہے۔ یہ استاد صبح آٹھ بجے سے لے کر شام چار سے پانچ بجے تک سکول میں بچوں کو پڑھاتے ہیں مگر کل ماہانہ آمدنی پانچ سے ساتھ ہزار کے درمیان میں رہتی ہے۔ یہاں بھی ایک چھوٹا سیٹھ دونوں ہاتھوں سے پیسے بناتا ہے اور سرکاری سکول کی نسبت قدرے بہتر ہوتی ہے اس لیے سرکار کو بھی اس عمل پر اعتراض نہیں ہوتا۔ اب پنجاب اسمبلی کے دھرنے کی طرف آئیں۔ پنجاب بھر سے اساتذہ اس لیے وہاں جمع ہوئے کہ وزارتِ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کو کئی ماہ سے ڈرایا جارہا ہے کہ حکومتِ پنجاب سکولوں کو نج کاری کی بھٹی سے گزارنا چاہتی ہے جس کے نتیجے میں اساتذہ اپنی سرکاری ملازمت سے محروم ہوجائیں گے۔ جس کے سبب ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں پنشن اور گریجویٹی اور دیگر مراعات نہیں ملیں گی۔ جبکہ عارضی نوکر ی میں صرف سیٹھ ہی سب کچھ ہوتا ہے اس کا جو دل چاہے وہی کرتا ہے۔ وہ کسی کوملازمت پر رکھے یا نہ رکھے، میرٹ کا خیال رکھے یا نہ رکھے، اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ سب کچھ سیٹھ کی مرضی کے مطابق ہوتاہے۔ اگر اساتذہ کے خوف کے مطابق ہی حکومت کام کررہی ہے توموجودہ پالیسی کے پیشِ آخر میں لاکھوں اساتذہ بے گھر ہوجائیں گے۔ ہزاروں لاکھوں طلبہ کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ اس دھرنے کے بعد وزارتِ تعلیم اور اساتذہ کے نمائندگان کے درمیان جو میٹنگ ہوئی او ر منٹس آف میٹنگ کے مطابق جو حکومت چاہتی ہے وہ کچھ یوں ہے۔ حکومت کے مطابق جن سکولوں میں طلبہ کی تعداد 20بچوں سے کم ہے وہ سکول پیف کے دائرہِ کار میں چلا جائے گا۔ جس سکول کا نتیجہ پنجاب ایجوکیشن کمیشن کے مطابق 25فیصد سے کم رہا وہ سکول بھی پیف میں چلا جائے گا۔ مزید براں حکومت نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی گولڈن ہینڈ شیک کے منصوبے پر کام نہیں کررہی ۔ اس کے مطابق دیکھا جائے تو حکومت کا موقف دو ٹوک اور واضح ہے کیونکہ جس سکول میں کل طلبہ ہی بیس ہیں وہاں سکول کی عمارت، بجلی کا بل، اساتذہ کی تنخوائیں اور دیگر فرنیچر وغیرہ کا استعمال واقعی بے معنی سا نظر آتا ہے۔ اسی طرح جو سکول سالانہ نتائج پچیس فیصد بھی نہیں دے پاتا اس کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت اور کیسا ہوگا؟ اس لئے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے سکولوں میں بچوں کو اس طرح پڑھائیں جس طرح پڑھائے جانے کا حق ہے۔ اگر اساتذہ اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں پڑھائیں گے اور عوام کے بچوں کو سرکاری سکولوں کے ٹاٹوں پر پڑھائیں گے اور اپنے گھر کے کام کاج بھی کرائیں گے تو حکومت کو لامحالہ ایسے ہی اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ دوسرا اہم پہلو کتب سے اسلامی تعلیمات کا خاتمہ خصوصاََ غزوات کے ابواب، سیرت النبیﷺ، ، حضرت عمر ابن خطاب اور حضرت خالد بن ولید اور دیگر صحابہ کرام کی زندگیوں کونصاب نے نکالنا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ لاہور میں دو انگریز تشریف فرما ہیں اور ہمارے نصاب کو De-Radicalizeکررہے ہیں۔ یورپ اور اہلِ یورپ کے نزدیک دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد کا تعلق اسلام سے ہے اور اسلام کی تعلیمات ہی مسلمانوں کو ایسے واقعات پر اکساتی ہیں۔ کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے؟ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب یروشلم فتح کیا تو کسی بھی ایک عیسائی یا یہودی کو قتل نہیں کیا بلکہ تمام کو امن و آشتی سے یروشلم چھوڑنے دیا حالانکہ جب عیسائیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو کسی مسلمان بچے کو بھی زندہ نہیں جانے دیاتھا۔ بتایا جائے کہ یہ خونخواری اور بربیت کس عیسائی کتاب سے لی گئی ہے؟ امریکہ نے جاپان میں لاکھوں انسانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیا، ہٹلر نے لاکھوں انسانوں کو موت کی بھٹی میں دھکیل دیا۔ حال ہی میں امریکہ اور اس کے حلیفوں نے لیبیا، عراق، تیونس اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ ان واقعات کا پیش خیمہ کونسی عیسائی کتاب ہے؟ نسل کشی کے تمام واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے چاہیے تو یہ کہ یورپ کے نصاب کو De-Radicalizeکیا جائے۔ دین اسلام تو سلامتی کا دین ہے جو امن سے زندگی گزارنے کی تاکید کرتاہے۔ اس لیے اہل یورپ کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور اپنے اندر سے منافقت اور بربریت کو ختم کرے۔ علاوہ ازیں ہمارے حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں اور اپنے اندر اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں۔ اس مخصوص عنوان کے متعلق یہی کہا جاسکتاہے کہ استاد کو فروخت کرنے کی بجائے تعلیمی پالیساں مضبوط بنائی جائیں ۔ تعلیم کو بہتر بنایا جائے ، سرکاری سکولوں کی حالت سدھاری جائے اور اساتذہ کو سہولیات کے ساتھ ساتھ مانیٹرنگ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے ۔ ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ان سے کام لیا جائے اور صرف وہی کام لیا جائے جس مقصد کے لئے ان کو بھرتی کیا گیا تھا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *