فیصل آبادیاں

شرر جی

sharar jee

ویسے تو پاکستان ایک خوبصورت اور دلکش ملک ہے۔ مگر اس کے چند شہر اپنی تہذیب و تمدن اور اپنی ثقافت اور روایات کی بدولت دنیا بھر میں بہت مقبول و معروف ہیں۔ ان میں شہرِ قائد کراچی کا ایک الگ ہی مقام ہے۔ اسے روشنیوں کا شہر کہتے ہیں۔ اسی لئے KSC نے اسے اندھیروں میں ڈبو رکھا ہے۔ لاہور کی تو کیاہی بات ہے جی۔ اسے تو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ مگر اب اس دل کی شریانیں بند ہو گئیں ہیں۔ اور اس کی دھڑکن کا رِدھم بھی اِرریگولر ہو گیا ہے۔جس کی وجہ سے کسی بھی وقت ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے۔ اب ہم بات پاکستان کے تیسرے بڑے شہر لائلپور ’’فیصل آباد ‘‘ کی کر لیتے ہیں۔ یہ شہر اپنی نوعیت کا پاکستان کا واحد شہر ہے۔ جہاں پر انسانوں سے زیادہ شیخ پائے جاتے ہیں۔اس شہر کو 1997 میں اس وقت کے سربراہِ مملکت نے مانچسٹر بنانے کے ارادے کے اظہار سے شہرت کی بلندیوں سے ہمکنار کیا۔ چونکہ اس شہر کی وجہ شہرت اس کی انڈسٹری ہے تو غالب گمان یہ ہے کہ شائد مانچسٹر بھی ایک انڈسٹریل سٹی ہے۔ راوی نے چونکہ بقلم خود مانچسڑ نہیں دیکھا ہوا تو اس لئے وثوق سے کہنے سے قاصر ہے۔ ویسے مانچسٹر مجھے بہت بُرا لگتا ہے۔ قطعاََبھی اچھا نہیں لگتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگلینڈ والے مجھے ویزا دینے سے انکاری ہیں۔اور جب سے میرا ویزا فارم ریجیکٹ ہوا ہے۔ تب سے میں نے بھی مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ دنیا بھر میں انگلینڈ کی جگ ہنسائی کا موجب بنوں گا۔ ہاں اگر ویزا کی شفقت فرما دی جائے تو انگلینڈ جیسا پیارا ملک کوئی نہیں۔ خیر بات لائلپور المعروف فیصل آباد کی ہو رہی تھی۔ تو اس شہر کو 1901 میں سر جیمز لائل کے نام سے آباد کیا گیا تھا۔اور اس وقت اس کی طرز تعمیر میں اس بات کا خاص دھیان رکھا گیا تھاکہ کسی بھی طرح مسلمانوں کا قبلہ رو سیدھ میں نا آئے۔اسی وجہ سے آپ پورا فیصل آباد پھر لیں۔ کسی بھی علاقے میں چلے جائیں قبلہ کونے ہی میں آئے گا۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کا قبلہ ٹیڑھا ہے۔ اس شہر کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس شہر سے سعودی عرب والوں کو بہت پیار ہے۔ شاہ فیصل نے خصوصی درخواست دی کہ اس شہر کو میرے نام پر منصوب کردیا جائے ورنہ ملک پاکستان کا تیل بند کر دیا جائے گا۔فی الفور درخواست کی تعمیل کی گئی اور نام لائلپور سے فیصل آباد رکھ دیا گیا۔ بلکہ بعض مؤرخ تو یہاں تک لکھتے ہیں کہ شاہ فیصل نے اس شہر کو خریدنے میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا تھا مگر معاملات طے نہ پا سکے۔ اور اس کی وجہ یہاں پر آباد شیخ فیملیز بتائی جاتی ہیں۔ خیر یہاں کے حاجی صاحب بھی دنیا بھر میں کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کی بڑی ہوئی توند‘ آنکھوں سے چھلکتی ہوئی بے شرمی‘ رالوں سے ٹپکتی ہوئی حوس اور خالصتاََ لالچی نیت ان کو دنیا بھر میں نمایاں مقام پر فائز کئے ہوئے ہے۔ ویسے ان کو عرف عام وڈے حاجی صاحب ’’بڑے حاجی صاحب‘‘ سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔یہ اکثر کپڑے کی فیکٹریوں میں پائے جاتے ہیں۔یا پھر سوتر منڈی کے پھٹوں پر ان کا ٹھکانا ہو تا ہے۔اب آپ دو لفظوں منڈی اور پھٹے کی تشریح کے خواہاں ہوں گے۔تو یہ وہ منڈی ہے جہاں سوتر کی سودے بازی ہوتی ہے۔اور پھٹہ لکڑی کا ایک قیمتی تخت ہوتا ہے۔جس کی چار عددٹانگیں ہوتی ہیں۔پہلے یہ شاہی محلوں میں بادشاہوں کی نشینی کا شرف رکھتے تھے۔تب انھیں شاہی تخت کے نام سے جانا جاتا تھا۔مگر پھر وقت نے کروٹ لی اور وڈے حاجی صاحب تخت نشین ہو گئے۔اور اب وہ اس پر بیٹھ کر فیصلے صادر نہیں کرتے بلکہ سودے بازی کرتے ہیں اور وہ بھی سوتر کی۔وڈے حاجی صاحب لکڑی کے پھٹے کے ایک کونے میں براجمان ہوتے ہیں۔ جب کہ باقی پھٹے پران کی توند پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔گھروں میں یہ صنف آزاد ہونے کی وجہ سے اکثر گرمیوں سردیوں میں ایک ڈبیوں والی دھوتی کے ساتھ ایک سفید کلر کی بنیان میں پائے جاتے ہیں۔اور بنیان کو خاص انڈین سٹائل میں ناف سے قدرے اوپر رکھا جاتا ہے۔ان کا پسندیدہ کھیل نوٹ گننا ہے۔ہنس مکھ اور طبیعت کے شوخ ہونے کی وجہ سے اکثر ہمسائیوں سے ذلیل ہوتے ہوئے بھی دیکھے جاتے ہیں۔یہ تعداد میں لاتعداد ہوتے ہیں۔ ان کی نسل‘ نسل در نسل چلی آرہی ہے۔ایک وڈے حاجی صاحب کے مرتے ہی ان کا بڑا بیٹا خود بخود وڈے حاجی صاحب کا گدی نشین ہو جاتا ہے۔ویسے اس شہر کی وجہ شہرت یہاں کا ٹیلنٹ بھی ہے۔مگر یہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے اکثر پیدا ہوتے ہی دم توڑ جاتا ہے۔مگر کچھ چیدہ چیدہ شخصیات نے بغاوت کی اور پھر ساری عمر بھوک سے لڑتے ہوئے گزار دی۔یعنی کہ نام تو بہت کمایا بس نہیں کمایا تو دھن دولت نہ کمایاجس کی وجہ سے معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں ناکامیاب رہے۔ان میں سے کچھ تو گویے بنے اور پھر انہی کے سازو طبلے بیچ کر ان کو دو گز زمین ان کی ذاتی ملکیت میں خرید دی گئی جہاں اب وہ سفید پوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔کچھ نے شاعری میں نام کمایا تو وہ یہاں سے نکال دیئے گئے۔ اور غریب الوطن ہو کر اپنی ہی غزلوں کی بحر میں کہیں دفن ہو کر رہ گئے۔یہاں کا کپڑا دنیا بھر میں مشہور ہے مگر یہاں کے وڈے حاجی صاحب کی حب الوطنی اور کفائیت شعاری کا یہ عالم ہے کہ وہ خود ساری عمر ایک ڈبیوں والی دھوتی اور ناف سے قدرے اونچی بنیان میں گزار دیتے ہیں۔اس بنیان سے انہیں توند کھجانے میں بھی کافی آسانی رہتی ہے۔نارمل جگہوں پر دن میں تین وقت کھانا کھایا جاتا ہے۔جب کہ فیصل آباد میں صرف تین ٹائم کھانا نہیں کھایا جاتا باقی ہر ٹائم ہی کھایا جاتا ہے۔ شائد اس کی وجہ زوال کا ٹائم ہوکہ کسی نے کہہ دیا کہ اس ٹائم عبادت کرنا گناہ ہے۔ اور چونکہ فیصل آبادی کھانے کو عبادت سمجھ کر کھاتے ہیں۔ اب اگر ہم اس بستی سے باہر نکلیں تو فیصل آباد میں کچھ اور بستیاں بھی ہیں۔جہاں پر مختلف قسم کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔چونکہ یہ علاقے غربت کی چادر میں ڈھکے ہوئے ہیں تو ان کا ذکر راوی کارِ گناہ سمجھتا ہے۔ان میں مشہور علاقے بھولے دی جھگی، مائی دی جھگی ، ڈھڈی والا ، ککڑاں والا اور ڈی ٹائپ کالونی وغیرہ ہیں۔ان علاقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بھوک ننگ کے عالمی ایوارڈ یافتہ اور ہمارے یارِ خاص مسٹر ’ ف‘ فرماتے ہیں کہ ان علاقوں میں خوراک کی بھلے ہی کمی ہو مگر جگت بازی ’’ فقرے کسنا‘‘ کی فصل بہت بھرپور ہوتی ہے۔میرے یارِ خاص ایک واقعہ سے اپنی بات کی تصدیق فرماتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ بھولے دی جھگی سٹاپ پر ایک چھابڑی والے کے پاس امرود خریدنے کی غرض سے رُکے توایک امرود جناب عزت مآب ’ف‘ نے کاٹا ہی تھا کہ اس میں سے کیڑا رونما ہو گیا۔ جناب ’ف‘ صاحب نے جسارت کی اور چھابڑی والے سے گلہ کر ڈالاکہ ارے میاں تمہارے امرود میں سے تو کیڑا نکلا ہے۔ یہ سننا ہی تھا کہ چھابڑی والے نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی کیڑے نے بھی تو یہیں سے کھانا ہے اس کی کون سی فیکٹریاں چلتی ہیں۔فیصل آباد میں ایک اور اہم نسل پائی جاتی ہے اور وہ ہے علم سے آری عالم ان کو عرف عام میں مُلا یا مولوی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خالصتاََ عاشقانہ طبیعت کے افراد ہوتے ہیں۔شہر فیصل آباد میں بہت پائے کے علماء پائے جاتے ہیں۔ بلکہ ثانی پائے والے کے ارد گرد ہی سارے علماء پائے کھاتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ بلکہ یہاں کے مولوی پائے کے مولوی کہلانا بھی فخر سمجھتے ہیں۔ اور اسی فخر کے چکر میں ثانی کی بھی خوب پائے کی بِکری ہوتی ہے۔ ملاؤں کی عاشقانہ طبیعت کے مظہر شہر بھر میں بِھکرے پڑے نظر آتے ہیں۔ کہیں پر سنیاسی باوا کی شکل میں تو کہیں پر بابا جی دم درود والے کی کارہ گری کی صورت میں۔اور یہ بھی بھوک ننگ کے عالمی ایوارڈ یافتہ مسٹر ’ف‘ کا فرمانا ہے۔اس بارے بھی راوی کا ذاتی علم محدود ہے۔ اور اس بات کی تصدیق بھی مسٹر ’ف‘ اپنے ایک واقعہ سے فرماتے ہیں۔ بلکہ اسے تو وہ آنکھوں دیکھا حال کہہ کر اکثر سنایا کرتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ میں اپنے گھر کے باہر فیصل آباد کا روائیتی لباس ڈبیوں والی دھوتی اور ناف سے قدرے اونچی بنیان پہنے براجمان تھا۔ کہ سامنے گھر کی دو عورتیں خوب زوروشور سے لڑ رہی تھیں۔اور پاس ہی سے ایک حافظ صاحب اپنی سائیکل پر سوار گزر رہے تھے۔ کہ اسی اثناء میں ایک عورت نے لڑتے لڑتے دوسری عورت کو گالی عنائیت فرمائی۔ کہ اللہ کرے تیرا ویاہ حافظ نال ہوجاوے ’’ تمہاری شادی حافظ سے ہو جائے‘‘ دوسری نے بھی برجستہ کہا اللہ کرے تیرا کُنڈ وی حافظ ای چکے ’’ تمہارا گھونگھٹ بھی حافظ ہی اٹھائے‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر سے اپنی لڑائی میں مگن ہو گئیں۔ اب حافظ صاحب اپنی سائیکل سے اتر کر کافی دیر تک لڑائی دیکھتے رہے آخرکار صبر نا ہوسکا تو مسکراتے ہوئے پوچھنے لگے کہ حافظ جی لئی کیہہ حکم اے کھڑے رہون کے چلے جاون ’’ حافظ جی کے لئے کیا حکم ہے کھڑے رہیں کہ چلے جائیں‘‘۔آگے کا واقعہ آپ لوگوں کو بتانے والا نہیں کہ حافظ صاحب کے ساتھ پھر کیا ہوا۔ بہرکیف اس سارے کے باوجود فیصل آباد مجھے بہت پیارا ہے۔ کیونکہ یہاں بھلے ہی لوگوں کا قبلہ ٹیڑھا ہے۔ بھلے ہی لوگ کہتے ہیں کہ فیصل آباد ی وڈے فسادی ’’ بڑے فسادی‘‘ ۔ اس سارے کے باوجود اس میں آٹھوں بازاروں پر حکومت کرنے والا اکلوتا گھنٹہ گھر ہے۔چاغی کی آئسکریم کے تو مزے ہی نرالے ہیں۔ بابر تکہ والے کے چکن پیس کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔ مگر بندو خان کی ریشمی بوٹی اور پراٹھے بھی تو دل کو بہت بھاتے ہیں۔ اور اس سارے کے ساتھ ساتھ چاچا شفیع کی حلوہ پوری اور یادگار سویٹس کا فروٹ کسٹرڈ اور رسملائی ۔اگر یہ سب کھا چکے ہوں تو محمد پورہ کی درود شریف والی مسجد جہاں ہر جمعہ کو بعد از نمازِ عصر درود شریف کی محفل منعقد ہوتی ہے اور نمازِ مغرب تک جاری رہتی ہے۔اور پھر فیضانِ مدینہ کی مدنی بیٹھکوں کاتو کیا ہی کہنا۔ صوفی برکت علی صاحب کے فیوض و برکات بھی تو ہیں نا ۔ اور پھر میرے پیرو مرشد حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امین صاحب دامت برکاتہم عالیہ کا فیضان اور پھر حضرت مولانا سردار صاحب کی مسجد کے فلک بوس گنبدوں سے ہوتی ہوئی نور کی بارش اور پھر قبلہ والدِ محترم شوکت حسین چوہان صاحب کا مزارِ اطہر اور پھر راوی کی جائے پیدائش یہ سب باتیں فیصل آبادیوں کے لئے باعثِ فخر ہونے کے لئے کافی ہیں۔ اور اس سارے پر فیصل آباد والوں کا مزاح سے بھرپور طرزِ تخاطب اس کو سب سے نمایاں کرتا ہے۔ بس تو پھر ہمیں تو اپنے فیصل آباد سے پیار ہے جی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *