فکر، تخلیق اور تخلیق کار

باسط آزر

basit azar

سوچنا بنی نوع انسان کا ہی نہیں بلکہ ہر ( حیوانی ) حیاتیاتی جاندار کا خاصہ ہے ۔ سوچ کے بعد کے مراحل عمل اور فکر کی ترسیل کے ہیں ۔ جانور بھی کلی طور پر جبلی نہیں ہوتے ، بلکہ ماحول کی مطابقت کے ساتھ ساتھ ان میں کسی حد تک فکری ارتقا پایا جاتا ہے جو کہ ہم ان جانوروں میں دیکھ سکتے ہیں جو انسانوں کے ماحول میں رہنے لگے ۔ (اس کی گہرائی میں جانا مطلوب نہیں ) ۔ انسان کا جسم ابتدا سے ایسا تھا یا اس کا ایسا ارتقا ہوا ، اس بات سے قطع نظر سب سے اہم بات اس کا دماغی ارتقا ہے ۔ جس کے افعال کی ایک واضح تقسیم میں ذہن ہے ۔ ٭
فکر اور اس کی ترسیل کبھی جمود کا شکار نہیں رہیں ، اور اس کا براہ راست تعلق اس کے ماحول اور فطرت سے تفاعل ( Interaction) سے ہے ۔ بار بار تفاعل حسی بھی ہوتا ہے اور فکری بھی ۔ جیسا کہ تفاعل کی تعریف سے استفادہ کرتے ہوئے ۔
" ایسا ربط ( Contact ) یا عمل جس میں ایک فریق اپنا پیغام دوسرے تک پہنچاتا ہے اور دوسرا فریق اس کو قبول کرتے سمجھتے ہوئے اس کا رد عمل ظاہر کرتا ہے ۔ "
انسان ٭ابتدا سے فطرت کے ساتھ تفاعل میں ہے اور ایسا عین یقینی ہے کہ ہر تفاعل کے ساتھ اس کو کچھ نیا سکیھنے کا موقع ملتا رہا اور ملتا ہے ۔ یہ سیکھنا ایک رد عمل کا اخراج لیا جائے تو اس کی اگلی کڑی ترسیل ہے ۔ اور اس کے درمیان ایک احساساتی کڑی ہیجان اور جذبات ہیں ۔ ہر نئے سیکھنے کے ساتھ ایک مسرت آمیز ہیجان یا احساس پیدا ہوتا ہے جو جذبات سے متعلق ہے ۔ اور ہر احساس کی تسکین لازم ہے ٭ ورنہ وہ مسلسل اضطراب اور الجھن کا باعث بنتا رہتا ہے ۔ اور اس تفاعل کے ذریعے نیا جاننے یا محسوس کرنے جس کا بنیادی سبب فکر ہے کی تسکین اس فکر کی ترسیل یعنی اظہار ہے ۔
یہ احساس ، پہیجان ، اضطراب (غم ، کرب ، دکھ ، مسرت ، بے یقینی ، خوف ، عدم تحفظ ۔۔ یا جس بھی کیفیت کا ہو / کے ہوں ) آرٹ سے براہِ راست منسلک ہے/ہیں اور اسی / انہیں کا بین السطور ، اظہار یا ترسیل ، ادب اور مصوری کو دوسری اظہاری اصناف سے ممتاز کرنے کے بنیادی اسباب میں سے ہے ۔
حسیاتی تفاعل سے فکر کا اخراج اور اس کی ترسیل میں دماغ کا کام منطقی کہا جا سکتا ہے ۔ کہ منطق کوئی عجیب یا اجنبی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ذہنی فکری عمل ہے ، یعنی درست سوچنے کا عمل ( موجود ،معلوم علم اور وسائل کے مطابق )۔
ہمارے موضوع کے حوالے سے انسان کے ذہنی ارتقا کے مراحل میں سب سے اہم مرحلہ تخیل کا ترقی پانا ہے ۔ جس کے سبب انسان کسی مرحلہ کو اپنے ذہن میں تصوراتی کیفیت میں جاری کرسکتا اور کچھ سمجھ سکتا ہے ۔ انسان نے ابتدا میں بہت سے مسائل اور عوامل کو اسی ذہنی عمل سے سمجھنے کی کوشش کی ۔اور یوں ایک طرح سے مابعد الطبیعاتی فکری عمل کی ابتدا ہوئی ۔ جس نے مسٹری کے ساتھ ساتھ ، دیوتاؤں ، اور ادب کے خالق کا کردار بھی ادا کیا ۔ جو کہیں لازمہ اور کہیں جزو کی صورت آج بھی ہمارے ذہن میں موجود ہے ۔
کئی ابتدائی اور موجودہ فن پارے اسی نہج کی طرف اشارہ کرتے محسوس ہوتے ہیں ، جیسے مکمل فارم میں اساطیر اور شعر میں جزوی اعتبار سے صنعت ِ حسنِ تعلیل ۔
اردو نثری ادب میں راجہ گدھ ( اس کی تنقیدی و اصل حالت کو زیرِ بحث لائے بغیر فقط ایک عام مثال کے لیے ) ۔
تخیل ابہام اور ادھورے پن کو اپنے طور سے ایک سٹیٹمنٹس کے جوڑنے کے عمل میں لاتا ہے اور جب اس میں ذاتی خواہشات اور کیفیات کو شامل کردیتا ہے تو اس کا تعلق فلسفیانہ نہج سے انحراف کرتے ہوئے آرٹ فارم کی طرف ہو جاتا ہے ۔ اور اس کا بہترین اظہار جو اسے قائم رکھ سکے شاعری ، مصوری یا نثری ادب رہ جاتا ہے ۔
فطرت اس کا تنوع اور اس کے ساتھ تفاعل کے ساتھ ساتھ انسان کا ذہن اضداد اور کشمکش کی نہج پر سوچتا ہوا غالباً نا صرف اپنی حسِ جمالیات کو ارتقا دے رہا تھا بلکہ ان کو سمجھنے کی اپنے تئیں سعی کر رہا تھا ، انسان کا تجسس اسے کبھی جمود کا شکار نہیں ہونے دیتا ، بار بار ایک ہی نہج پر سوچنا بیان کرنا ، اور ایک سی بات سننا اس کی ذہنی ساخت کو متاثر کرتا ہے جو متحرک ہے ۔
سو نہ صرف مختلف دیوتا ، فطرت میں کشمکش کی وجہ سے اس کے ذہن میں تخلیق پائے بلکہ اس کی بے بسی کی کیفیت نے انہیں خود سے برتر اور خود پر غالب متصور کرلیا ۔
دوسرا پہلو حسن تھا جس کا سبب شاید فطرت کا تنوع ہے ، انسانی ذہن کی ترقی کے سبب حسن کا معیار ترتیب پایا مگر یہ مختلف جگہوں پر مخلتف گروہوں میں ہمیشہ مختلف رہا ، جو وہاں کے موجود حالات کے سبب ہی تھا ۔ یوں یہ بھی ایک اکتسابی عمل ہے ۔ اور وہ بہتر ، کم بہتر کے ساتھ ساتھ ، بہت حسین ، کم حسین ، منفرد جیسے معنوی ادراک کی سطح تک پہنچا ۔ اس کے بعد اس سب کی تسکین یعنی افکار ، خیالات اور کیفیات کی ترسیل کا مرحلہ تھا ۔
المختصر یہ ترسیل سادہ بیان و اظہار سے ترقی پاتی ہوئی مثال ، تشبیہہ تک بڑھی اور اس کے بعد توازن اور موسیقیت کی طرف ارتقا پاتی گئی ۔ اس نے دیوتاؤں اور فطرت سے اپنے فکری تفاعل اور کیفیات کو موسیقیت کے لفظی پیرائے میں بیان کی کوشش کی جو کہ ناصرف سادہ سے بہتر محسوس ہوتا ہے بلکہ اس میں کیفیت کے غیر معنوی اظہار کی ایک سطح بھی موجود رہتی ہے ۔ اور یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ موسیقیت یا بیانیہ موسیقیت ہی عروض کی بنیاد بنی
یہ ہزاروں یا لاکھوں برسوں پر محیط عمل انسان کی زبان و اظہار کے مسلسل ارتقا کا عمل اور دورانیہ ہے جو اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ جاری رہے گا ۔ آج ہم ان عوامل کو سمجھنے کے دور میں پہنچ چکے ہیں جو ان سب کا باعث بنے اور بنتے ہیں ۔
سو اب ایسا فکری ، شعری ، نثری ادبی ، مصورانہ ، رقص ، موسیقیت کا رجحان کسی دیوی دیوتا یا غیب کا کرشمہ نہیں ۔ جیسا کہ کبھی سمجھا جاتا رہا ، اور کہیں کہیں آج بھی سمجھا جاتا ہے ۔
ایسا انسان کے ذہن کی ساخت اور اس کے ارتقا کا خاصہ تھا اور ہے ۔

1۔ مزید ابتدا سے آج تک اس نے جو کچھ سیکھا ، جو لکھا اور اظہار کیا وہ اس کا فطرت اور معاشرے سے تفاعل کا نتیجہ ہے ، فکر کا تخلیقی اظہار ہے ۔

2۔ یہ سب عوامل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں اور تمام افراد ان سے تفاعل کرتے ہیں ۔

3۔ ہر انسان اس کا بہترین اظہاریہ چاہتا ہے

4۔ ایک ہی عمل کو مختلف طریق سے بیان کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا ہے

5۔ ایک ہی صنف میں اس تفاعل ، فکر اور نتائج کو مختلف طریق سے بیان کرنا اسلوب اور انداز کا تنوع ہے مگر خام کیفیت وہی رہتی ہے

6۔ اس میں سے کچھ ایسا نہیں ہوتا جو خالص اور کلی فنکار کے اپنے ذہن کی اختراع یا تخلیق ہو ۔ اس کا کام اور فن فقط اس کو ایک اچھے جمالیاتی پیرائے میں بیان کرنا ہے ۔

7 ۔ اس کی پہچان آج بھی اسی بنیادی اصول پر بنتی ہے ، یعنی تنوع ، کشمکش ، انفرادیت ۔
8 ۔یہ سب اس کی تخلیق کا خاصہ ہوتے ہیں ۔ اور تخلیق مکمل ہونے کے بعد وہ اپنی شناخت بنانے یا اسے مزید بہتر بنانے میں اسی تخلیق پر منحصر( Dependent ) ہوتا ہے ۔
سو ۔ نہ تو انسان کا ارتقا کلی طور پراپنی بدولت ہے اور نہ ہی وہ کسی فن پارے کو تخلیق کرنے والا واحد اور حتمی فرد ہوتا ہے ، انسان فکر میں تجسسس اور تغیر اس کو نئی تبدیلیوں پر مائل رکھتا ہے اور نئی اصناف اگر معلوم اشخاص کے ذریعے سامنے نہ آتیں تو کوئی اور معلوم اشخاص جلد یا بدیر انہیں سامنے لے آتے ، خواہ وہ اصناف ہوں یا تخلیقات ۔
۔۔۔
یہی وجہ سے کہ فارملسٹ جنہیں پہلے نیو کریٹک کہا جاتا ہے ، تخلیق کو تخلیق کار سے آزاد سمجھتے تھے ( ان کی خامیاں یہاں موضوعِ بحث نہیں ) اور یہی حالیہ ارتقائی تنقیدات بھی سمجھتی ہیں ، اور نئی وجوہات سامنے لا رہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔تخلیق یوں نہ صرف تکمیل پانے کے بعد اپنے خالق سے آزاد حیثیت اختیار کرلیتی ہے٭ ، بلکہ واضح ہے کہ اس کا خالق تنہا انسان ( تخلیق کار ) نہیں ہوتا بلکہ معاشرتی و فطرتی حالات ، جو اس کے ذہن کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ عین ممکنہ طور پر اس کے تئیں تخلیق کو بھی متاثر کرتے رہتے ہیں ۔ اس کے ساتھ شریک ہیں بلکہ زیادہ اہم ۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ مکمل ہونے کے بعد آزاد ہوکر اس کی شخصی پہچان کی ضامن اور باعث ہے نہ کہ خود فنکار کی شخصیت اس کے اور تخلیق کی پہچان اور معیار کا سبب ہے ۔


٭ ۔۔۔ سائنسی ارتقائی حوالہ سے
٭۔۔ عمرانی تشریح
٭۔۔۔۔برٹرینڈ رسل
٭ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رولینڈ بارتھس

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *