لبرل جڑیں(افسانہ)

نور العین ساحرہ
ورجینیا، امریکہ

noor ul ain

" پچھلے ایک ہفتے میں روز پہلے سے زیادہ حیران ہوتا ہوں زیبی ۔ ایسی مہنگی اور خوبصورت ریوالونگ چئیر تو میں نے کبھی امریکا میں بھی نہیں دیکھی تھی، سارے آفیسرز کی امپورٹیڈ گاڑیاں اور ۔۔۔۔۔۔ اور یہ قیمتی ڈیکوریشینز تو دیکھو ذرا "  حیرت سے مائک کی آواز جیسے  چٹخنے لگی ۔

"  میری تو عقل دنگ رہ گئی کہ بیرونی قرضوں میں گردن تک ڈوبے تمھارے  اس ملک میں ایسی دلفریب چکا چوند موجود ہے" روایتی تفاخر میں ڈوبا مائک ہر چیز کو دیکھ دیکھ کر عالم استعجاب میں کرسی پر جھولتے اور باآواز بلند بڑبڑاتے ہوئے آفس اور اسٹاف ممبرز کا جائزہ لے رہا تھا ۔

" افغانی مجاہدین کو  سی این این پردیکھ کرمیں تو ہمیشہ سمجھتا رہا کہ یہاں بھی شاید یونہی لوگ موم بتیوں کی روشنی جلائے غاروں میں مقیم ہوں گے اور ساری عورتیں خیمے پہن کر جبراً وقت پھلانگتی پھرتی ہوں گی جنہیں کسی کو پسند کرنے کے جرم میں سرعام گولی مار دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ مگر تمھارا ملک تو۔۔۔۔۔  اوہ مائی گاڈ!! ائیرپورٹ سے لے کر خواتین کے لباس اور ٹیکنالوجی تک بہت ویسٹرنائزڈ ہے "

 اپنا جملہ ادھورا چھوڑ کر شیشے کے پار بیٹھی خوبصورت سی الٹرا ماڈرن سیکرٹری سے نظریں ہٹا کر وہ اپنی بچپن کی دوست زیب کی طرف متوجہ ہوا جو پڑھائی مکمل کرنے کے بعداتفاق سے اسی کے ساتھ جاب کر رہی تھی اور وہ دونوں اپنی کمپنی کی طرف سے انٹرنشپ کے لئے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ زیب تو اکثر چھٹیوں میں اپنے والدین کے ساتھ کئی مہینے کے لئے پہلے بھی آتی رہی تھی اس لئے پاکستانی ماحول اور کلچر سے کافی مانوس تھی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑئ فائل میز پر رکھی،نفاست سے کرسی گھسیٹی اور بہت اعتماد سے اسکے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی " میں تو تمھیں ایک مدت سے اپنے آبائی وطن کے بارے میں بتاتی آئی ہوں لیکن تمھیں کبھی غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملی " ۔

اس دوران راہداریوں میں کبھی مدھم اور کبھی اونچی آوازوں سے دونوں تھوڑے وقت کے لئے حیران تو ہوئے مگر پریشان ہوئے بغیر اپنی بحث میں الجھتے چلے گئے۔ "یہاں ایسی کوئی دہشت گردی نہیں ہے جیسا ہر وقت مغربی میڈیا ہائی لائٹ کر کے پیش کرتا ہے۔۔ پاکستانی وسائل کسی سے کم نہیں اگر مسئلہ ہے تو محض نا اہل قیادت کا۔ ویسے بھی ہر معاشرے کی اپنی اقدار ہوتی ہیں۔۔۔۔۔"۔

 مائک کی طرف دیکھتے ہوئے وہ خود ہی اپنی بات کاٹ کر راہداری میں قدموں کی تیز چاپ سے ٹھٹھکنے لگی، جب یہ آوازیں دوبارہ مدھم پڑ گئیں تو اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی،" دوسری اقوام اور مذہب کے بارے میں ریسرچ کیے بنا منفی اندازے لگانا بہت آسان کام ہے۔ ان کے خلاف مضحکہ خیز کارٹونز، نفرت انگیز ویڈیوز اور سٹوپڈ فیس بک پروپگنڈہ کچھ بھی ممکن ہے مگر حقیقت جاننے کی کھوج شاید ہی کوئی کرتا ہے "۔

 یہ سن کر کر مائک تھوڑا جھنجھلاتے ہوئے بولا "اوہ کم آن زیبی ،پلیز اب اپنے اباؤ اجداد  کی قدامت پسند روایتوں پر مجھے بورنگ لیکچر دینے مت بیٹھ جانا ۔ تم جیسی خوبصورت لبرل لڑکی کے منہ سے یہ  سب باتیں بالکل اچھی نہیں لگتی، ہم لوگ تمھاری طرح شدت پسند مذہبی جنونی نہیں، دیکھا نہیں ہماری ثقافت میں کیری کیچرنگ کتنا اہم  اور مارکیٹ بھی ہوتا ہے۔۔ اس سے کسی کی شان میں کوئی گستاخی نہیں ہوتی بلکہ یہ تو ایک طرح کا ٹریبوٹ ہوتا ہے صرف"

 یہ سن کر ایک لمحے کے لئے زیب کا رنگ متغیر ہوا مگر وہ کمال ضبط سے چھپا گئی اور پرسکون لہجے میں بولی ، " ہاں میں ہوں لبرل، مگر تم جسے جنون کا نام دیتے ہو وہ میرے خیال میں بہت اہم تمدنی اور انسانی اقدار ہیں بالکل ایسے جیسے کچن میں کوئی نہا نہیں سکتا، باتھ روم میں سو نہیں سکتا اور دو لیٹر پٹرول کو نوری سال کے فاصلے پہ ناپ نہیں سکتا ویسے ہی کسی بھی مذہبی شخصیت کے کارٹون نہیں بنا سکتا بھلے اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو" ۔

 اب انہیں اپنی پشت پر بے ہنگم آوازیں باقاعدہ شور میں ڈھلتی محسوس ہوئیں ۔ جیسے کہیں کوئی جلسہ ہو رہا ہو ۔ وہ دونوں حیرت سے ادھر دیکھنے لگے۔ شیشے کی دیوار کے پار عجیب سا منظر دکھائی دے رہا تھا۔

کمپنی کے کچھ لوگ دائرہ نما گھیرا بنائے ہاتھ ہلا اہلا کر چیختے چلاتے اپنی جگہ پر یوں استادہ تھے جیسے بہت گہرائی تک مٹی میں جڑیں گاڑے ہوئے درخت آندھیوں میں ڈولنے کے باوجود اپنی جگہ نہیں چھوڑتے ۔ ان کے درمیان ایک نحیف نزار وجود بڑی مشکل سے ایک جگہ جمے رھنے کی کوشش میں مصروف تھا جیسے ایک قدم بھی آگے پیچھے بڑھایا تو بارودی سرنگیں پھٹ جائیں گی ۔ زیب نے مائک کو وہیں بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا اور خود تیزی سے باہر نکل گئی لیکن وہ بھی اسکے پیچھے ہی چلا آیا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو ہیڈ کلرک احمد مرزا کو ایک بپھرے ہوئے ہجوم کے نرغے میں گھرے تھر تھر کانپتے پایا۔ وہ دونوں اس بوڑھے کو ابھی تک نام اور جاب ٹائٹل کے علاوہ اچھی طرح نہیں جانتے تھے ماسوائے دن میں اکثر اسے پابندی سے آفس کےکونے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔۔ اس ہجوم کا ایک بڑا حصہ اس کو کافر ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مائک اس صورتحال کو سمجھنے سے بالکل قاصر تھا مگر احمد مرزا کی جان کنی والی حالت اور ہجوم کے سروں پہ ناچتی ہوئی وحشت نے زیب کو لرزا کر رکھ دیا۔ کانوں میں پڑتے کچھ جملے سن کر وہ بہت خوفزدہ ہو گئی۔ ہزاروں اخباری خبریں اور ویڈیوز اسکی نظروں کے سامنے گھومنے لگے کہ اب یہاں بھی ایسا ہی کچھ ہو کر رہے گا ۔ اکثریت کا کہنا تھا کہ " اس ملعون  نے اسلام کی توہین کی ہے اور اسے ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا۔ "

انکے سامنے ہی حمید اور جمال صاحب ابھی ابھی کسی کلائنٹ میٹنگ کے بعد آفس میں داخل ہوئے تھے اور پورے معاملے سے مکمل بےخبر تھے۔ دو چار جملے ادھر ادھر سے سن کر جمال صاحب آگے بڑھے اور ایک زناٹے دار تھپڑ احمد مرزا کے منہ پر رسید کیا اور ساتھ ہی حمید صاحب گندی گالی دے کر بولے۔ "تیری یہ مجال۔۔۔۔۔۔! سالے۔ میں تو پہلے ہی خلاف تھا اس قادیانی  کو آفس میں جگہ نہ دی جائے ۔ یہ ہم میں سے نہیں، قابل نفرت لوگ ۔ ان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں"

یہ سن کر چپڑاسی آگے بڑھا اور پلید کہ کر احمد مرزا کے منہ پر تھوک دیا ۔ اپنی ذلت اور موت کےخوف سے احمد مرزا کی رنگت سپید پڑ چکی تھی۔ الٹے ہاتھ کی پشت سے منہ پر گرے تھوک کو صاف کیا اور پپڑی جمے سفید ہونٹوں کو بار بار زبان سے گیلا کر کے کچھ کہنے کی ناکام کوشش میں ایک اور تھپڑ کھا کر لڑکھراتے ہوئے زمین پر گر گیا ۔ خون کے ساتھ ساتھ اس کے منہ سے نکلنے والے بے معنی الفاظ ٹوٹی پھوٹی کرچیوں کی طرح یہاں وہاں گر کر اپنی وقعت کھوتے جا رہے تھے۔ وہ بےبسی کے ساتھ ایک ایک ساتھی کو امید بھری نظروں سے دیکھ کر صفائی دینے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ بھیڑ تھی کہ  لمحہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی اور اسی رفتار سے نفرت کی شدت بھی ۔ اچانک ایک کونے سے آواز آئی

 "اس گستاخ کو جلا دو۔ مار دو ۔اس نے ہماری مقدس کتاب کی بے حرمتی کی ہے"

اس کے ساتھ ہی اس پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش ہونے لگی۔ زیادہ تر لوگ اس کی موت والے حکم نامے پر تیزی سے مہریں لگاتے یوں مختلف فتوے جاری کر نے لگے جیسے دھڑادھڑ اخباری کاپیاں پرنٹ ہو رہی ہوں ۔ جبکہ پاس ہی کچھ لوگ دبی دبی زبان سے اس فیصلے کی مذمت کر رہے تھے لیکن انکی آوازیں اتنی پست اور ڈری ہوئی تھیں کہ شاید وہ خود بھی ٹھیک سے اپنا احتجاج سن نہیں پا رہے تھے ۔
اس سے پہلے کہ یہ مار پیٹ جاری رہتی مائک نے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھا کر زور سے چیختے ہوئے کسی کمانڈر کی طرح " اسٹاپ دس نان سینس " کہا تو وہاں ایک دم سب کے جنون کو سانپ سونگھ گیا ۔ نعرے لگاتے ہاتھ ہوا میں اٹھے رہ گئے، زبانیں گنگ ہو گئیں اور نظریں ان دونوں پر آ ٹکیں ۔ چھبیس سالہ مائک سپر پاور کی طرح کمر پر دونوں ہاتھ جمائے اور لب بھینچے ان کو گھور رہا تھا۔ مغلیہ شہزادیوں جیسا حسن اور نزاکت رکھنے والی نرم خو سی زیب کے چہرے پر بھی ایک پتھریلی سختی اور قطعیت چھائی ہوئی تھی ۔ اس نے مائک کو صورت حال سمجھاتے ہوئے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور باقی سب سے پوچھا "اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے کسی نے پولیس کو کال کی ؟ کوئی  ہمیں بھی بتانا پسند کرے گا کہ ہوا کیا ہے ؟" اس پر آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کا انچارج صمد ذرا آگے بڑھا اور بولا ۔" اس مردود نے ہمارے مذہب کا مذاق اڑایا ہے ۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا اس نے ہماری  مقدس کتاب کو زمین پر پھینکا ہوا تھا، جس میں سے کچھ صفحے کاپی کرنے کے لئے بڑے صاحب نے اسے دیے تھے۔ یہ کافر جہنمی ہے ہم اس کو ہرگز زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔" اکثریت نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔ یہ سن کر احمد مرزا نے گڑگڑاتے ہوئے ان کو بتانے کی کوشش کی "نہیں نہیں میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔ مجھے اپنے بیٹے کی قسم ، اچانک ٹھوکر لگی اور میرے ہاتھ سے کتاب چھوٹ گئی۔ میں تو ایسی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور"۔

 "جھوٹا شیطان" صمد اس کی بات کاٹتے ہوئے نفرت سے دھاڑا اور زمین پر گرے ہوئے بوڑھے کمزور وجود پر بھاری بوٹ کی زوردار ضرب لگائی جسکا درد زیب کو اپنی پسلیوں میں بھی شدت سے محسوس ہوا ۔ احمد مرزا کا جسم تکلیف سے بل کھا کر دوہرا ہو گیا ۔ ایڈمن آفیسر نوشاد اور کینٹین والا رحمت خاموشی سے سب کی منت سماجت کرتے ہوئے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش میں لگے تھے مگر کفر کے فتوے سے ڈرتے سر عام کچھ نہ کہ پا رہے تھے ۔

زیب بھی جانتی تھی اس وقت مشتعل ہجوم کی ہاں میں ناں ملانا کتنا خطرناک تھا ۔ اسی اثناء میں چھٹی کا وقت ہو گیا اور روز کی طرح احمد مرزا کا بیٹا سلمان انکو آفس سے لینے آ پہنچا۔ ہجوم نے اس کو بھی گھیر لیا۔ صورت حال گھمبیر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ تیزی سے اس مسئلے کا کوئی منطقی حل سوچنے لگی۔ اچانک جیسے اسے کچھ یاد آیا " اس آفس کے مین ڈور پر کیمرہ لگا ہے اور پرنٹر والی جگہ اس میں نظر آتی ہے۔ کل میں نے آئی ٹی آفس میں وہ منظر دیکھا تھا"۔ بات کرتے کرتے وہ غیرمحسوس طریقے سے احمد مرزا اور ہجوم کے عین درمیان ڈھال بن کر کھڑی ہو گئی۔ " ویسے بھی کسی نہتے شریف شہری کی بلاوجہ جان لینا انتہائی مکروہ فعل ہے۔ بھلے آپ اسے مسلمان سمجھتے ہوں یا نہیں، وہ بہرحال ایک انسان تو ہے اور انسانیت کی قیمت دنیا میں ہر چیز سے زیادہ ہے۔ ہمیں پہلے وہ ریکارڈنگ چیک کرنی چاہیے "

 سب نے اتفاق کیا اور چیک کرنے پر احمد مرزا بے گناہ ثابت ہو گئے ۔ وہ اچانک پرنٹر سے ٹھوکر کھا کر لڑکھڑائے تو اتفاقاً کتاب انکے ہاتھ سے چھوٹ گئی تھی ۔ پہ دیکھ کر ان لوگوں نے سکون کی سانس لی جو خون خرابے کو پسند نہیں کرتے تھے مگر خود اپنی جان جانے کا خطرہ انہیں چپ رہنے پر مجبور کر رہا تھا۔ البتہ کچھ لوگوں کے منہ لٹک گئے۔ انہیں زیب کی تجویز پر بہت غصہ آیا۔ جس کی وجہ سے وہ ایک کافر کو جہنم واصل کرکے ستر حوروں والی جنت حاصل کرنے سے محروم رہ گئے تھے اور اسلام کی بہترین خدمت کا موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا تھا۔

دن تیزی سے گزرنے رہے ۔ زیب اور مائک  تو جیسے سب کی آنکھ کا تارہ بن چکے تھے ۔ کمپنی میں کوئی بھی ان کی بات رد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ سب ہی ان کی نسلی اور مذہبی تعصبات سے یکسر پاک انسان دوستی کے گرویدہ تو تھے ہی مگر بقول مائک " رہی سہی کسر بلیو پاسپورٹ نے پوری کر دی ہے ۔ جس کی ہلکی سے ضرب اپنے خلاف بڑی سے بڑی طاقت اور بغاوت کا سر کچلنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ نیلے رنگ کے پاسپورٹ میں کتنی طاقت ہے، وہ سب خوب اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس لئے یہاں اکثریت ہماری ثنا خواں اور جاں نثار دوست ہے "

اس کے باوجود ایک دن زیب کی جان ہی تو نکل گئی جب اچانک آئی ٹی والے صمد کو مائک کے کمپیوٹر میں کچھ انسٹال کرتے آتے دیکھا۔ جہاں وہ اپنی ازلی لاپرواہی کی وجہ سے مذہبی کارٹون والا صفحہ کھلا چھوڑ کر واش روم چلا گیا تھا۔ زیب کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اسے لگا ابھی صمد چیخ چیخ کر سب کمپنی والوں کو بلا کر مائک کا قتل کروا دے گا مگر یہ دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی۔ جب صمد نے اس پروگرام کو چھیڑے بغیر بڑے آرام سے اپنا سوفٹ وئیر انسٹال کیا اور مائک کو آتے دیکھ کر مسکرایا، اپنی فائل اسکے حوالے کرتے ہوئے بولا " اس میں ساری تفصیل ہے سر، آپکا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ اس کمپنی کو بھی ریفرینس لیٹر بھیج چکا ہوں۔ امید ہے آپکی مہربانی سے جلد ہی امریکہ سے جاب کی کال آئے گی"۔ " شیور شیور وائے ناٹ مائی بوائے۔ " مائک نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپایا تو صمد اسکی جانب پشت کئے بنا سر جھکائے الٹے قدموں چلتا ہوا آفس سے باہر نکل گیا۔

احمد مرزا پر زیب اور مائک کے خاص التفات کی بارش ہونے لگی اور باقی عملہ حیرت سے دیکھنے لگا۔ وہ دونوں لنچ ٹائم میں ان کی میز پر آ بیٹھنے ۔ انکے لئے بھی کھانا منگواتے ۔ خود بھی ہنستے اور ان کو بھی چٹکلے سناتے ۔ کچھ دنوں بعد ان کی دیکھا دیکھی باقی سب کا سلوک بھی احمد مرزا سے بہت اچھا ہو گیا۔ لوگوں نے ان سے نفرت کرنی چھوڑ دی بلکہ انکی میز تو ایک میٹنگ پوانٹ بن گئی تھی جہاں اکثر باقی سب بھی لنچ ٹائم میں جمع ہو کر گپ شپ کرنے لگے ۔ احمد مررا کا بیٹا سلمان جو قریبی آفس میں کام کرتا تھا ۔ صبح شام اپنے باپ کو چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔ دنیا میں بس ایک بوڑھا باپ ہی تو اس کا واحد رشتہ بچا تھا ۔ ماں تو بچپن میں ہی مر گئی تھی۔ وہ بھی اب دونوں وقت دس پندرہ منٹ کے لئے آفس کے اندر آنے لگا اور ان دونوں سے خصوصاً سلام دعا ضرور کرتا کیونکہ وہ ان کا بہت احسان مند بھی تھا اوران کے خیالات سے متاثر بھی۔

یہ دونوں بھی اکثر شام میں احمد مرزا کے گھر چلے جاتے اور باپ بیٹے کے ہاتھوں پکے پاکستانی کھانے کھا کر خوش ہوتے۔ بعض اوقات انہیں اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھاتے اور کسی ہوٹل یا پارک چلے جاتے۔ ایک دن ان کو شاپنگ کرانے مشہور مذہبی سکالر کی بوتیک پر لے گئے ۔ جس کو دیکھتے ہی باپ بیٹے نے اس کے اندر جانے سے صاف انکار کر دیا اور کہا " ارے۔۔۔یہ آپ کہاں لے آئے ۔۔۔۔ ہم تو یہاں سے شاپنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ایک لباس خریدنے میں شاید آدھی تنخواہ چلی جائے گی اتنا مہنگا خریدنے کی ہماری استطاعت ہی کہاں ہے " یہ سن کر وہ لوگ انہیں زبردسی اندر لے گئے، تحفے کے طور پر اپنی طرف سے زبردستی کچھ کپڑے دلائے اور خود اپنے لئے بھی خریدے ۔ اس دوران سلمان مسلسل زیب کا سایہ بنا بالکل قریب کھڑا اس کے لئے کپڑے پسند کرنے میں اپنی رائے دیتا رہا۔ کچھ دنوں سے مائک بھی محسوس کرنے لگا تھا کہ سلمان ہر وقت بہانے بہانے سے زیبی کے گرد منڈلاتا رہتا ہے ۔ وہ بات بھلے مائک سےکر رہا ہو مگر نظریں ہمیشہ زیبی کے خوبصورت چہرے کا احاطہ کئے رہتی ہیں۔ اس کو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی اس لئے وہ اس فیملی سے تھوڑا پیچھے ہٹنے لگا اور جب زیبی کو سمجھانے کی کوشش کی تو پہلے وہ بہت حیران ہوئی پھر نفی میں سر ہلاتے ہوئے غصے سے بولی ۔" وٹ ربش،  آر یو آؤٹ آف یور مائنڈ؟  بیٹر سٹے آؤٹ " پھر پیر پٹختی ہوئ وہاں سے نکلی  اور ڈرایئور کے ساتھ اکیلی ہی احمد مرزا کے گھر چلی گئی ۔

ان کے واپس امریکہ جانے میں چند ہی دن باقی رہ گئے تھے ۔ آج صبح سے مسلسل تیز بارش ہو رہی تھی ۔ زیب اور مائک ایک ہی بلڈنگ کے دو الگ الگ اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ سلمان کی وجہ سے مائک کی ناراضی کافی بڑھ گئی تھی اسی لئے زیب حقیقت بتانے اسکے اپارٹمنٹ میں چلی آئی ۔ وہ بے رخی سے بیٹھا کتاب پڑھتا رہا جبکہ زیبی اسے منانے کی تمام کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد اب دیوار پر لگی ایک پینٹنگ کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئی جہاں ایک صاف شفاف ندی بہ رہی تھی۔ جسکے کناروں پر تاحد نظر خوبصوت رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے ۔ تصویر اتنی حقیقی اور جاندار تھی کہ پھولوں کی بھینی بھینی مہک اسکی روح کو سرشار کر گئی اور بہتے پانی کی دل نشیں موسیقی کچھ سوئے ہوئے احساسات کو جگانے لگی ۔ ندی کے اندر کچھ کمزور جڑوں والے پھول دار پودے تیز پانی کے بہاؤ کے ساتھ اپنی جڑوں سمیت بہتے جا رہے تھے ۔ وہ بھی اس ندی کے ساتھ ساتھ بہتی پانچ سال پیچھے چلی گئی۔ جب ان کے رشتے میں سے بچپن نکل کر جوانی در آئی تھی۔ اس دن اپنی سالگرہ کے موقعے پر اس نے مائک کا دیا لباس زیب تن کیا تھا اور وہ دونوں ایسی ہی ایک ندی کے کنارے اپنی فیملی کے ساتھ پکنک منا رہے تھے ۔ زیب بہتے ہوئے چھوٹے چھوٹے پودوں کو غور سے دیکھنے کے لئے پوری طرح ندی پر جھکی ہوئی تھی جو تیزی سے اس کی نظروں کے سامنے ماضی بنے گزرتے جا رہے تھے ۔ مائک نے سہارا دینے کو اسکا نرم ونازک ہاتھ تھام رکھا تھا اور دوستی کو محبت کے تعلق میں بدلنے پر مصر تھا۔ وہ اسے ہر قسم کا یقین دلا رہا تھا۔ اس نے یہ بھی تو کہا تھا " پرانی فضول رسموں کو چھوڑ دو ، وقت کے اگر ساتھ انسانی ذہن میں تبدیلی نہ آئے تو کھڑے پانی کی طرح بدبو دار ہو جاتا ہے۔ وہ سب کچھ سمجھ تو رہی تھی لیکن بار بار پچھے مڑ کر دیکھتی جہاں سے پودوں کی پنیریاں اگتی ہیں اور جڑیں نمو پاتی ہیں ۔ وہ سمجھ کر بھی انجان بنی سوچتی رہی اور ایسا لگا جیسے بہت تیز دوڑ کر بھی مائک کے خیالات تک نہیں پہنچ سکے گی۔

 ماضی کے خیالوں میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ مائک کا ہاتھ اپنے کندھے پر محسوس کر کے خوف سے اچھل پڑی۔ مڑ کر دیکھا تو ایسا لگا وہ آج پھر ایک بار اسی وقت کی ندی کے کنارے آ کھڑی ہوئی ہے اور جڑوں والے لمحوں کو تیرتا دیکھ رہی ہے ۔ وہ مسکرا رہا تھا، اسے الجھن ہونے لگی، پلٹ کر ایک تکیہ اٹھایا اور اس کے سر پہ دے مارا۔ پھر وہ دونوں ہی اس تصویر میں کھو گئے اور کمزور جڑوں والے پودوں کی طرح خود بھی ندی میں بہنے لگے۔

کافی دیر بعد جب وہ کھوئی کھوئی سی جوتے کے بکل بند کرتے ہوئے جانے لگی تو مائک نے بہت پیار سے روک لیا ۔ مسکراتے ہوئے اسی مشہور بوتیک سے خریدا ہوا خوبصورت لباس پہننے کی فرمائش کرتے وہ تھیلا اسے پکڑایا جو ابھی تک اسی کے اپارٹمنٹ میں پڑا تھا ۔اس نے خاموشی سے وہ تھیلا پکڑا ، دیوار پہ آویزاں تصویر اور مسکراتے مائک پہ سرسری نگاہ ڈالتے اور بائے کہتے ہوئے اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی۔ واپس جانے سے پہلے اسے بہت سے اہم کام نمٹانے تھے اور آج چھٹی کا آخری دن تھا۔ جلدی جلدی  شاور  لینے کے بعد وہی لباس پہنا اور ڈرائیور کے ساتھ احمد مرزا کے گھر چلی گئی ۔ وہ باپ بیٹا اسے دیکھتے ہی پھولوں کی طرح کھل گئے۔ سلمان کو تو جیسے دو جہاں کی دولت مل گئی۔ زیب کی فرمائش پر وہ سب بارش انجوائے کرنے کے لئے برامدے ہی میں بیٹھ گئے جسکے سامنے چھوٹے سے لان میں ڈھیروں رنگ برنگے پھول رم جھم برستی بارش میں اٹھکیلیاں کر رہے تھے ۔۔ برامدے کے ایک کونے میں گملوں میں اگے بہت خوبصورت پھول جڑوں سمیت باہر نکلے پڑے تھے۔ شاید انکو ابھی کیاریوں میں لگایا جانا باقی تھا مگر بارش کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا تھا۔ ان بھیانک جڑوں کو دیکھ کر زیب کے چہرے پر ناگواری کا سایہ لہرایا اور وہ سوچنے لگی" سارے پھول اوپر اوپر سے کتنے حسین، دلکش اور نرم و نازک ہوتے ہیں مگر شاید صرف وہی مضبوطی سے زمین میں گڑے رہتے ہیں جنکی جڑیں زیادہ سیاہ ، سخت ، بھیانک اور کریہہ صورت ہوتی ہیں ۔ اسی وقت سلمان چائے بنا کر لے آیا ۔جسے شکریہ کہ کر زیب نے قبول کیا۔

سلمان اس کے حسن اور خوبصورت لباس میں کھو چکا تھا جو زیب نے اسکی پسند سے خریدا تھا۔ بارش کے موسم میں ہزاروں امنگیں اس کے دل میں کروٹیں لینے لگیں۔ وہ خود بھی زیب کے لفظوں کی بارش میں بھیگتا جا رہا تھا ۔ جو اسکے بابا سے کہ رہی تھی " کسی بھی قسم کا نسلی اور مذہبی تعصب انسانیت کی تذلیل ہے اور میں اس غیر انسانی رویہ کی ہمیشہ مذمت کرتی رہوں گی ۔ اسی لئے میں کسی قسم کی فرقہ واریت پر یقین نہیں رکھتی ۔ ہم سب انسان ہیں اور بس یہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی سچ نہیں ہم میں سے کوئی کسی سے کمتر یا برتر نہیں "

یہ سن کر احمد مرزا کی آںکھیں بھر آئیں۔ یہ لڑکی ان باپ بیٹے کو چند مہینوں میں دل و جان سے زیادہ عزیز ہو چکی تھی ۔ کیسی پھولوں جیسی من موہنی سی گڑیا ،انسانیت کی علم بردار اور فرشتوں جیسا دل رکھنے والی جس نے انکی پوری زندگی کو سکون سے بھر دیا تھا ۔ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنے گھر لے آنا چاہتے تھے۔ خود زیب کی ان لوگوں سے دلچسسپی کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہ تھی ۔ اسکا ان لوگوں کی اتنی مدد کرنا ،ہر وقت انکے ہاں آنا ۔ گھر کے کام کرنا سلمان کے ساتھ مسکرا مسکرا کر باتیں کرنا۔ اور پھر مائک کو اگنور کرکے ان سے ملتے رہنا" بیٹا ، تم کب ہمیشہ کے لئے ہمارے ساتھ اس گھر میں رہنے آؤ گی؟" احمد مرزا نے اسکے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہو ئے پوچھا۔ " میں آپکے گھر میں ہمیشہ رہنے کیسے آ سکتی ہوں ۔ میری تو پرسوں فلائٹ ہے" وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔" تو واپس کب آؤ گی۔ میرے سلمان کی دلہن بن کر ہمیشہ کے لئے یہاں ہمارے ساتھ رہنے؟"
جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارے!۔یہ کیسا مذاق ہے انکل ؟ وہ کچھ ناسمجھی اور حیرت سے انکو دیکھنے لگی ۔
" مذاق ؟" احمد مرزا کے چہرے پر مردنی سی چھا گئی اور آواز کسی گہرے کنوئیں سے آتی محسوس ہوئی ۔ "میں مذاق نہیں کر رہا بلکہ تمھاری اور سلمان کی شادی کی بات کر رہا ہوں ۔ میری اور سلمان کی دلی خواہش ہے کہ تم اس گھر کی بہو بن جاؤ اور جہاں تک میں سمجھا ہوں تمھاری بھی تو یہی مرضی ہے۔"

میری مرضی ؟" ہزاروں سلوٹیں اسکے ماتھے کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی اتر آئیں اور وہ خفگی سے کھڑی ہو گئی ۔ "مجھے حیرت ہو رہی ہے ۔ آپ نے ایسی ناممکن بات سوچی بھی تو کیونکر ؟ یہ تو کبھی ہو ہی نہیں سکتا "

یہ ممکن نہیں، مگر کیوں؟"  انکا  اس پر مان اور یقین اپنی بے توقیری پر بین کرتا کراہا

کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں شادی صرف  کسی مسلمان سے کروں گی"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *